جدید مسلم زندیقیوں کی نبی اکرمؐ اور امام بخاریؒ سےناجایز زیادتی:ڈاکٹر محمد علی جنید:
جب سے اسلام کا آغاذ ہوا ہے تب سے شعار اسلامی،نصوص اسلامی پر اعتراضات کرنے والے زندیقیوں کا وجود ہر صدی میں پایا جاتا رہا ہے،فرق یہ کہ زمانہ قدیم کے زندیقی ننسبتا زیادہ عقلمند تھے،وہ اسلام کو اور اسکی نصوص کی اہمیت کو سمجھتے تھے،جبھی انکو پکڑنا مشکل تھا وہ نا کھل کر سامنے آتے تھے اور نا علمی قابلیت کی بلندی کے باوجود علمی رائے دیا کرتے تھے ،انکا طریقہ تھا کہ ظاہر میں اسلام کا اظھار کرتے تھے اور نصوص کی اہمیت کو ظاہرا تسلیم کرکے درون خانہ یا تو جعلی روایتیں گھڑا کرتے تھے،یا پھر قران کی لغوی من چاہی تشریح کرکے لوگوں کو گمراہ کیا کرتے تھے۔
بحرحال صدیوں سے تمام کافر،مشرک،مجوسی،رافضی ،معتزلی اور زندیقی سب ہی قران پر تنقید کم اور احادیث پر تنقید زیادہ کیا کرتے تھے،اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ ان سب کو لگتا تھا کہ نبی اکرم کی احادیث اسلامی عقاید کو بھت سخت،بے جھول اور بہت قانونی اور اصولی بنا دیتی ہیں یوں،انکے لئے اپنے من چاہے ،خواہش کے مطابق اسلام کی پیروی کا دروازہ بند کردیتی ہیں ،چناچہ انھونے اسکے لئے الگ الگ منھج استعمال کیں تاکہ اپنی آسانی کا سمان میسر ہو، جیسے یہ مناھج قایم کیں جن میں سے ایک منھج یہ تھی قران کو پورا لو اور حدیث وہ لو جو انکی عقل کے مطابق ،ہو رفع تعارض کے لئے یہ اصول گھڑا کہ جو حدیث قران کے خلاف ہو اسکو رد کردو ہمیں اسکی بازگشت معتزلی فکر سے متاثر اہل سنت تک میں سنائی دیتی ہے،مین بھی بیس سال قبل شبلی کو پڑھ کر ایسا ہی کہہ دیا کرتا تھا،کیونکہ میں جب علم حدیث میں بس قاری سے زاید کچھ نا تھا ،دوسرا طریقہ یہ تھا کہ احادیث معقولیہ اور کچھ سنن کو لیا جائے،بقیہ کو رد کردیا جائے،تیسرا یہ کہ کثرت سے جعلی احادیث گھڑ کر صحیح میں ملا دی جائیں اور انکو اتنا فروغ دیا جائے کہ لوگ صحیح کو بھول کر موضوع اور ضعیف کو لینے لگیں اس طرح درون خانہ زیدیقی اسلام کا مزاق اڑاتے تھے۔مگر علمائے حڈیث نے صحابہ کرام کے دور سے احادیث کی کتابت،حفظ،سند کو اہمیت دینی شروع کی،اسما الرجال کا علم جعلی ،ضعیف،مجھول اور بد عقیدہ راویوں کی تحقیق کے لئے وجود میں لایا گیا ،دوسری علل طرف الحدیث،تخریج الحدیث،تاویل مختلیف الحدیث کے علوم وجود میں آئے یوں ان معترضین اور دجالوں کی حرکتوں کا سد باب ہوگیا۔
ہم دیکھتے ہیں کہ شروع دور سے ہی حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص اور ابو ہریرہ کے پاس انکے تحریری صحیفے موجود تھے،کئی صحابہ کے پاس انکے حافظہ کے علاوہ نبی اکرم کے تحریری احکامات بھی موجود تھے ۔پھر باقاعدہ تحریر احادیث جمع ہونے لگیں،جن میں سے ایک قدیم نسخہ ہمام بن منبہ کا ابو ہریرہؓ کی سند سے مروی ہے۔امام بخاری اور صحاح ستہ کے مصنفین کوئی پہلے حدیث جمع کرنے والے نہیں تھے۔ہمام ان سے صدی قبل گزر چکے تھے اسی طرح کئی محدثین کے مجموعے صدیوں سے موجود تھے۔جن میں موطا امام مالک،سنن ابو داود طیالسی،صحیح ابن خزیمہ۔ مسند احمد بن حنبل،مسند حمیدی وغیرہ خاص الخاص ہیں اور انکا دور امام بخاری سے صدی قبل سے چلا آریا تھا ۔
آج ایک شیطان اور جاھل انسان کی ایک خباثت دجل،اور اینٹی نیریٹو جذباتیت سے پر ایک پوسٹ دیکھی جس نے یہ کہا ہے کہ امام بخاری نے یہ فرمایا ہے: کہ وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی ہے،جسکی قیادت عورت کے ہاتھ میں ہو۔ اب ذرا اصل حدیث بمع سند دیکھیں:جس سے واضح ہوگا کہ یہ بلسند مرفوع متصل ابی بکرہ سے روایت کردہ سند ہے:
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : لَقَدْ نَفَعَنِي اللَّهُ بِكَلِمَةٍ أَيَّامَ الْجَمَلِ ، لَمَّا بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ فَارِسًا مَلَّكُوا ابْنَةَ كِسْرَى ، قَالَ : لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً .
جنگ جمل کے زمانہ میں مجھے ایک کلمہ نے فائدہ پہنچایا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ فارس کی سلطنت والوں نے بوران نامی کسریٰ کی بیٹی کو بادشاہ بنا لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جس کی حکومت ایک عورت کے ہاتھ میں ہو۔
حدیث کے اصل الفاظ لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً . ہیں یہاں لن یفلح سے مراد ہر گز وہ فلح نہیں پائے گی کے ہیں،پوسٹ والوں میں اسے فوز یعنی کامیابی سے بدل کر تصرف کا مظاہرہ کیا ہے مذید اس روایت کو جدید ڈسکورس کی فارمولہ جاتی ترقی سے مشروط کرکے پیش کیا گیا ہے۔ حدیث اسے مرفوع قول نبی بتاتی ہے مگر شیطان اور خیانت کار جھوٹوں نے اسے قول بخاری قرار دیا ہے،حلانکہ امام بخاری روایتوں کو جمع کرنے والے ہیں ناکہ گھڑکر پیش کرنے والے ہیں۔
جس شیطان نے بھی یہ بات کہی ہے وہ عظیم مرتبہ کا ایسا زندیق ہے جس نے ایک تیر سے دو شکار کھیلے ہیں اس نے اول بخاری کی اصح بعد از قران ہونے کی اجماعییت پر نقد کیا ہے۔دویم اس نے امام بخاری کو عمیرہ احمد کی طرح کا احادیث کا ناول نگار اور اپنے طرف سے گھڑنے والا سمجھ لیا ہے۔تیسرا اس نے کل اہل سنت کی بنیادوں کو ہلانے کی کوشش کی ہے ۔چوتھا اس نے نبی اکرم کی تشریح قران اور بذات معیار حق ہونے پر نفی میں ڈھکا چھپا اشارہ دیا ہے۔پنجم اس نے نبی اکرم کے قول کو امام بخاری کا قول قرار دیا ہے۔ششم اس نے یہ کہہ دیا ہے کہ نبی اکرم نعوذ باللہ خاکم بدہن غلط تھے کیونکہ یہ ساری عورتیں جو آج یورپی اقوام کی سربراہ ہیں وہ ترقی یافتہ اقوام ہیں، جبکہ نبی کو اسکا انکار تھا؟ چونکہ آپکی حدیث اسکا رد کرتی ہے۔انھیں لگا کہ نبی اکرم پر ہاتھ صاف کرنا انکے لئے مشکل تھا تو ،شیطان کی اس شکل نے یہاں امام بخاری پر حدیثی ٹکسال سازی کی سری تھمت دھردی ہے، ایسی حرکات اس سے قبل رافضی و نددیقی کرچکے تھے ،یہاں انکی جھالت اس اور قلت الفھم و فراست اس سے عیاں ہے کہ اول تو یہ صرف امام بخاری کی سند پر دارومدار کرتی حدیث نہیں ہے۔اسکی اور بھی اسناد الگ محدثین سے ثابت ہیں ،دوسرا اس جاھل کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ یہان نبی اکرم نے عصر حاضر کے ویسٹ میں پیدا کردہ جمہوری لبرل ڈسکورس ،یا جمہوری کیپیٹلازم کی قدر ترقی و فلاح کی طرف سرے سے اشارہ کیا ہی نہیں تھا۔اور نا ہی ان میں سے کسی کی اتنی ذرہ بھر اوقات ہے کہ وہ نبی اکرم کے قول کی نفی میں اپنی مادی ترقی یا سیلف کنسٹرکڈ انڈیکیڑرز کو معیار حق و باطل قرار دے سکیں،اور حدیث کے نفسی مضمون پر اعتراص وارد کرسکیں،اس سے قبل انھونے محمد بن سلمان کے بیان کو حجت بنانے کی کوشش کی تھی۔اول تو محمد انلایٹن ماڈریشن میں مصروف ہے جبھی وہ قدامت کی نفی کرنا اپنی سیاسی فکر کی رو سے جایز جانتا ہے۔دویم اسکی مراد وہ نہین جو یہ سمجھے ہیں۔سویم وہ خود یورپی جامعات کی پیداوار ہے،جبھی اسکے بیان کا موضوع علم شریعت نہیں مصلحت ریاست و سیاست ہے۔
اگر نبی اکرم نے یہ عمومی بیان دیا ہے تو اپ جبرائیلؑ کے بذریعہ اللہ کےتربیت یافتہ نبی ہین اپ سبق و قدم ،حق و باطل فطری جبلت وہ مزاجیت کو ہم سے زیادہ جانتے ہین دوسری بات یہ کہ کل تاریخ عالم کے تمام حکمرانوں کے ریکاڑد کو عورت حکمرانوں کے ریکارڈ سے تقسیم کرکے دیکھ لو جواب میرے اقا و۔مرشد حقیقی نبی اکرم کی حمایت میں ہی آئیگا،دوسرا نی اکرم کا اشارہ تھا کہ عورت حکمران ظاہری طاقت،کردار،نظم و ضبط،شجاعت،اولعزمی،متانت،سنجیدگی،صبر و شکر ،استقامت ،دور اندیشی،اور فیاضی جیسی صفات میں مرد کی مثل نہیں ہوتی ہے اور زیادہ عرصہ چل نہیں پاتی ہے اور جنسی طور پر طاقتور درباریوں،اور افواج کے بڑوں کے ہاتھوں کا کھلونا ہوتی ہے۔
نبی اکرم نے یہ بات خسرو پرویز کے بعد آنے والی ملکہ پوران دخت کی بابت کہی تھی جو جلد ہی اپنی کمزوری کے سبب فارغ کردی گئی تھی اور فارسی سلطنت کی مسلمانون کے ہاتھوں زوال پذیری نے اپکو سچ ثابت کردیا تھا۔اگر یہ نہین بھی ہوتا تو بھی اپکی لعنت ہی سب پر حاوی ہوتی چاہے اسکی کوئی ظاہری منطقیت نا ہوتی۔
۔مذید یہ کہ ان میں سے کوئی بھی عورت اصلی تعریف کردہ حکمران یا ملکہ کی تعریف میں نہیں آتی ہے،یہ سب مروجہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے مقرر کردہ حکمران ہیں ،اور بلواسطہ حکمران ہیں ناکہ بلاواسطہ حاکم ہین،نا یہ خود اپنا فطری و حقیقی بلوجود ذاتی اقتدار اعلی کی مالک ہیں،جبکہ نبی اکرم کی اشارہ کردہ ملکہ خود مطلق العنان،مقتدر اعلی اور اقتدار اعلی حامل ہوا کرتی تھیں اور یہ عورتٰیں نا ہی ،نسلی حکمران ہیں اور نا ہی عصری مروجہ ترقی کی قدرین کسی حدیث اور نبی کے پیش نظر رہی ہین،یہ سب انسانی قایم کردہ مادی فلسفیانہ اصطلاحین جو رٹہ باز غیر محقق گریجویٹ قلت فھم کے سبب سمجھنے ست قاصر ہین۔ جبھی اس تناظر مین نبی کا بیان پتھر پر لکیر ہے ،یہ حقیقت ہے کہ یہ جمہوری حکمران عورتیں جنسی طور پر کتنی کجروی کی شکار ہیں اور کتنی جگہوں پر اپنا ضمیر اور جسم بیچ کر ایسے مقاموں تک آتی ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے،پاکستان و بھارت کے سیاسی کارکن اس بابت بھت کچھ جانتے ہیں، ۔ یہ کیسی اخلاقیت کی حامل ریاستیں اسکا ایک بین ثبوت ان سب ریاستوں کے نیوڈ بیچیز ہین جو انکی ترقی،اخلاق،کردار کی تصویر کشی کے لئے کافی ہیں جبکہ دعوی کردہ نسائئ ترقی در حکمرانی در حقیقت اور،ان ممالک کی خوشحالی اور ان عورتوں سے صدی قبل کی تعمیر کردہ ہے،بلکہ ان کے دور میں نسبتا کساد بازاری،گراوٹ،ترقی کے اظھاریوں میں کمی ماضی کے برخلاف محسوس کی گئی ہے
۔باقی نمایدہ جمہوریت سیاسی جماعت اور پاپولر ازم پر کھڑی ہوتی ہے،یہاں ریاست اور نوکر شاہی تسلسل پر یقین رکھتے ہیں۔
جبھی سابقہ دور کی پالیسیوں کو نئے دور کا کارنامہ نہیں سمجھا جاسکتا ہے،اب ذرا ان سب کو امریکہ،جاپان،فرانس،روس ،چین اور عرب ممالک کے سامنے پیش کردیں،ترقی،دولت اثاثوں ہر لحاظ سے مرد حکمرانوں کی حکومتوں سے پست ہیں ۔یہ سب کم آبادی والے ممالک ہیں،جھاں دینی جذبات و عقاید کافی کمزور ہیں ان میں سے صرف جرمنی کچھ ۸ کروڑ کی آبادی رکھتا ہے۔باقی یہ سب ممالک رقبے،آبادی میں بھت چھوٹے ممالک ہیں خود جرمنی بھی کچھ خاص رقبہ کا حامل نہیں ہے۔
یہ مانی ہوئی حقیقت ہے کہ خواتین میں آج تک نا نبوت قایم ہوئی اور نا فکری کھاتے میں کچھ استثنائی عورتوں سے قطع نظر فلسفہ نے کوئی بڑی فکری و تعمیری عورت آج تک دیکھی ہے،تاریخ دانوں کو دیکھ لیں وہاں بھی خواتیں شروع عالم سے آج تک جبکہ اب ہر سال لاکھوں عورتٰن ان علوم کی ڈگریاں لے کر نکلتی ہیں،کوئی خود فکری درجہ میں فلسفی اور حکیم نہیں کہلوسکی ہے،سائینس دانوں میں عورتیں آج بھت آگے ہیں مگر اب بھی مرد کے مقابل وہ بھت کم ہیں۔حلانکہ دنیا بھر میں اکثر جگہ وہ مرد سے زیادہ جامعات میں جاتی ہیں مگر انکا فکری اثاثہ جلد مغلوب ہوجاتا ہے۔ڈاکٹر پولی دادا نے کہا تھا کہ وہ پیشہ جس میں عورت سب سے آگے ہے اور جھاں وہ ساتھی مرد سے زیادہ بلکہ ایک پی۔ایچ۔ڈی ڈاکٹر پروفیسر اور سائینسدان سے زیادہ کماتی ہے اور وہ شعبہ پورن فلموں کا شعبہ ہے جھاں مرد کا درجہ اس سے پست جانا جاتا ہے۔جبھی اس شعبہ کو عزت دار بنانے کے لئے سیکس کے عوض معاوضہ لینے والوں کو سیکس ورکر کہا جاتا ہے۔تہذیب کے دایرے میں میڈیا کا شعبہ بھی ایسا شعبہ مانا جاتا ہے جھاں عورت مرد کے قریب کماتی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا آج کی عورت نبی اکرم کی نفی کرکے کیا خود کو مسلم کہلواسکتی ہے اور کیا انھونے نبی اکرم کے قول و فعل کو اپنی خواہش نفسی کی ٹوکری میں قید کردیا ہے کہ جو انکے کام کا ہو وہ لے لیں اور جو انکے مخالف ہو اسے یا تو سرے سے آپکا حکم ہی نہیں مانا جائے یا پھر اسے کسی دوسرے کے سر مونڈھ کر پیچھا چھڑا لیا جایے۔مجھے ایک لڑکی نے کہا تھا سر ایس باتیں کرنے والے لوگ بلخصوص عورتیں انکی ظاہری و باطنی شخصیتون کو دیکھیں یہ بذات خود شخصیت کی کمیوں اور کرداری کوتاہیوں ،یا احساس کمتری چھپانے کے لئے زبان و قلم کی جاھلانہ تیز نوکیں استعمال کرتی ہیں،تاکہ خود کا قد و قامت اپنی اور دوسروں کی نگاہ میں بلند کرسکیں ۔حلانکہ علمی موضوعات نفسی طور پر اسپیشلایزڈ موضوعات ہوتے ہیں ان پر بات کرنا ماہرین فن کا کام ہوتا ہے ناکہ عامتہ الناس کا کام ہوتا ہے، ہماری کل مادی اور غیر مادی دنیا اسی اسپیشیلایزڈ منھج پر چل رہی ہے اس دور میں اسکے برخلاف کسی کا فضول تبصرہ اس جیسے کسی فضول بندے کو تو خوش کرسکتا ہے مگر کسی باعلم فرد کو خوش نہیں کرسکتا ہےچاہے وہ اپنے عمی دلایل میں اسکی نگاہ مین خود کتنا ہی موافق کیوں نا ہو۔معج
