ذمہ دار کون ؟
وطن عزیز اس وقت
جس بدحالی،غربت ،افلاس،بے روزگاری ،لاقانونیت اور دہشت گردی سے نبرد آزما ہے اس نے
مادر وطن کے وجود پر ایک سوالیہ نشان طاری کردیا ہے۔
ہم یہ باسی سا
تبصرہ اکثر و بیشتر اس لئے کرتے رہتے ہیں کیونکہ ہم عرصے سے ایک ہی قسم کے گھسے پٹے
انداز کے نظریہ حکمرانی کے زیر سایہ گذرشتہ ستر سالوں سے پاکستان میں یہی کچھ
دیکھتے سنتے ،آزماتے اور لوگوں کو بے وقوف بناتے چلے آئے ہیں ۔
پاکستان کو کئی امور میں اگر دیکھا جائے ایک ناکام ریاست کے
طور پر عمدہ کارکردگی میں اپنا لوہا کل عالم میں منواتا چلا آیا ہے،یہ الگ بات ہے
کہ ہماری تمام ،ترقیاتی قدریں ،معیارات،مغربی تمدن سے اخذ کردہ ہیں ،اگر اس کی
نگاہ اور فکری چھلنی سے دیکھیں تو امیر ترین عرب ممالک بھی کو کبھی
ترقی یافتہ نہیں کہلوا سکتے ہیں،کیوں ترقی مغرب کی نگاہ میں ذہنی عمل و ذہنی و
جسمانی ازادی سے تعبیر کیا جاتا ہے،انسان چونکہ اجتماعی خدائی کا ماخذ ہے جبھی
اسکی رضا کے بغیر ترقی یافتہ مظاہر تخلیقیہ و چمکتی عمارات بھی ترقی پذیر درجہ کی حامل
گردانی جاتی ہیں ۔
ہم خیر مغربی پس منطر میں ہی دیکھیں جسکے ہم
طالب و مطلوب ہیں کہ اگر فوج کا مضبوط و
مستحکم ادارہ،اسکا تجربہ اور اسکی کامیاب حیات ِ حربیہ ( مشرقہ پاکستان کے
استثنیٰ کر کے ) کے کچھ کرشمے نا ہوتے تو
ہمارے سیاستدان ،بیوروکریسی کے مشورے پر کب کا ، کے۔ای۔ایس ۔۔سی اور پی ۔۔ٹی سی
۔ایل کی طرح پر پاکستان کو بھی راتوں رات بیچ کر چلے جاتے اور صبح اٌٹھ کر
ہمیں چینلز کی چیختی ،چلاتی بار بار دھراتی اینکر پرسنز خبر دیتٰی کہ :
خواتین و حضرات
! کل رات ایک بین الاقوامی کنسورشیم [1]
نے پاکستان کا انتضام سنبھال لیا ہے اور
دو کھرب روپے میں پاکستان بیچ دیا گیا ہے جسکی عالمی بینک اور آئی ۔۔ایم ۔۔ایف نے
مشترکہ منظوری و ضمانت دے دی ہے۔
یقین مانیں ایسا
کچھ بھی یہاں ناممکن نہیں ہے کیوں کہ بے ضمیروں کی مملکت میں کچھ بھی ممکن ہے۔
ان سب امور کے
سرانجام دینے کے پیچھے جو ادارہ رکاوٹ ہے اسکا نام پاکستان آرمی ہے ،اب کوئی کہے
گا بھئی انکا تو وجود ہی اس ملک کے دم سے قائم ہے جبھی وہ اگر رکاوٹیں نا ڈالیں
،مخالفت نا کریں تو کون ایسا کرے انکی تنخوائیں ،وغیرہ،روزی روٹی تو پاکستان کے دم
پر ہے ۔
تو جواب دیا جا
سکتا ہے ہے کہ اگر ایسا ہی جیسا آپ نے کہا
اور پاکستان کو لبرل،ڈیموکریٹیک،سرمایہ دارانہ اساس پر اگر بیچا خریدا گیا ہے تو
خریدنے والوں کو بھی ملک کی فوج کی ضرورت ہوگی لہذا وہ بھی انھی کو قائم رکھینگے،ہاں
کچھ اصولی تبدیلیاں اور اس کے قوتی اختیار میں تبدیلی ممکن ہوگی ۔
جمہوریت تو خیر
متفقہ طور پر لبرل سرمایہ دارانہ نظام کی لونڈی ہے جسے ملک کا انتطام حرم کی
سلطانہ سونپ دیتی ہے،مگر کیا فوج جس میں ایک غیرت کا جذبہ ،وقار کا جذبہ ،ایک عزت
و شان کی خواہش موجود ہے کیا وہ اپنی انا ،عزت،و وقار فروخت کرنے دیگی؟۔
غور و فکر کریں یہ ملک سچ جانیں تو بدعنوانی اور کرپشن کو برائی جانتا ہی نہیں ہے ،
کسی نے بھی بدعنوان کی بیٹی سے نکاح کرنے
اور اسے بیٹی دینے اور خود بدعنوانی سے پرہیز کرنے میں کوئی شرم و غیرت محسوس نہیں
کی ہے۔
لہذا یہاں میرٹ
اور نان میرٹ دونوں سے آئے ہوئے شاہی نوکر اس نطام میں ڈھل کر سابقہ کلاس کی روش
اور ورثے کو جاری و ساری رکھتے ہیں،کیونکہ سب طبقاتی اور ذہنی غلامی کے ساتھ ساتھ
،لسانی،قبایلی ونسلی غلامی کے شکار ہیں۔
اب معاملہ بلدیہ
ٹاون کی فیکٹری کا ہو ،سرے محل کا ہو یا پانامہ لیکس کی جوانی کا یہاں اوپر سے
نیچے تک کرپشن ،کرپشن اور کرپشن ہی جوان و پروان رہتی نطر آتی ہے ۔
یہ تسلیم کر لو کہ خدا کو صرف زبانی کلامی جانا مانا جاتا ہے ،اسکا خوٖف صرف ایک اعتقادی شہ بن
کر رہ گیا ہے عملی خوف اب مفقود ہو چکا
ہے ، جسکا ثبوت کھلی،دھاندلی،بدعنوانی،چوری،چکاری،لوٹ
کھسوٹ،بہتان طرازی،قتل و غارت گری، شرک و کفر سے عیاں ہے۔
اہل مذہب تو خود
فرقوں،مسلکوں کی سیاست میں اللہ سے سب کچھ چھین کر اپنی من پسند شخصیات کو سونپ
چکے ہیں ،ریاست خود ہی کفر و شرک کے بازار محکہ اوقاف کے زیر سایہ چلاتی ہے انھیں
تحفظ دیتی ہے ،اسے مدارس پر تو غصہ ہے ،ان کے پر کاٹنا چاہتی ہے مگر کیا اس نے
کبھی اسلامی ریاست کے طور پر یہ کہا ہے کہ مساجد پر مسلکانہ اشتہار بازی بند کی
جائے ہر مسجد ریاست کے دائرہ کار میں لی جائے ،اسکا امام ،موذن اور عملہ حکومت کے
وظیفہ خوار ہوں ،نمازیوں کی تعداد بڑھانے پر توجہ دی جائے ناکہ مساجد کی۔
پاکستان جبتک
جاگیرداری نظام کا خاتمہ نہیں کر دیتا اور جبتک سیاسی پیروں ،فقیروں کا قلعہ قمع نہیں
کردیتا ،جبتک اس منبع کو نہیں توڑ دیتا جس
کے دوآبے سے ایک ہی گھرانے سے سیاستدان،سرمایہ کار،اور نوکر شاہی نکلتی ہے تب تک پاکستان میں انقلابی تبدیلیاں ناممکن
ہیں۔
اب آپ فرمائینگے
کہ میان جی آپ نے فوجیوں کا نام نہیں لیا تو میں کہونگا ہان اکثر بڑے گھرانوں سے
جنکا اوپر ذکر ہوا کچھ فوجی نکلے ہونگے مگر بہت کم مذکورہ بالا طبقہ سے کوئی اعلیٰ ترین درجے تک
پہنچ پایا ہے،کیونکہ اسکے لئے جو لگن،محنت اور تکلیف و اطاعت ناگذیر ہوتی
ہے وہ مذکورہ بالا طبقے کے مزاج کے منافی
ہے ۔
آپ پاکستان کی تاریخ میں آرمی چیف سے لیکر کور
کمانڈروں یا دیگر اعلی فوجی قیادت کو لے لیں انکا تعلق عموما درمیانے طبقے سے رھا
ہے ،ہاں غریب کا گزر تو وہاں بھی عموماً ایک حد سے زیادہ ترقی نہیں کر پایا ہے ، ،جبھی وہ حوالدار،صوبیدار،لانس نائیک
یا انسپیکٹر کے عہدوں تک ہی پرواز کر پاتا ہے۔
خیر ادارے میں
آکر سب ہی کلاس و طبقے بدل لیتے ہیں،ادارے ایک ادارہ جاتی سماج تخلیق کرکے اس سے
درجہ با درجہ نئی کلاس وجود میں لاتے رہتے ،جب کوئی اس کلاس کا حصہ بنتا ہے تو اسی
کلاس کے تحفظ کے لئے کام کرتا ہے ،فوج میں
اعلی طبقے کی اسی کلاس کے لئے ڈی۔۔ایچ ۔اے،نیول اور ائیر فورسز سوسائٹیاں قایم
ہوتی ہیں ۔
فوجی بھی فرشتے
نہیں ہیں ،مگر کم از کم سب برایوں کے باوجود ملک بیرون سرحد انکے دم پر قایم ہوتا
ہے، وہ کم از کم پاکستان بیچنے کے نام پر
راضی تو نا ہونگے ہمیں بیچ راہ میں نئی غلامی کی دلدل میں چھوڑ کر بھاگ تو نہیں
جائینگے ،انکی بڑی تعداد بہت سے بہت ڈیفینس،کلفٹن،کارساز،بہادرآباد ،دھوراجی،ماڈل
ٹاون،حیات آباد۔یا بحریہ ٹاون تک ہی آخری وقت ریٹائر منٹ کے گزار پائیگا،انکی
دبئی،لنڈن،یا نیویارک میں تو بقیہ حیات بسر نہیں ہونگی ۔
وہ سیاستدانوں انکے ملازم بدمعاشوں و کارکنوں کی
طرح ہماری عزتوں سے نہیں کھیلینگے ،ہماری پگڑیاں تو نہیں اچھالینگے ، تو لہذا بھلے انکے اعلیٰ طبقے کو ڈے ۔۔ایچ۔۔اے میں پلاٹ
ملتے ہوں ،وہ ریٹایرمنٹ کے بعد کاروبار کرتے ہوں مگر اس جگہ تک آنے میں کم از کم انکی قابلیت ،محنت اور اندرون
ادارہ اصول و ضوابط کی پیروی و جدو جہد کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔
ایک اور عنصر جو
قابل غور ہے کہ ہمارے سیاستدان جو بار بار فرماتے ہیں کہ فوجیوں نے آ۔۔ آ ۔۔ کر
جمہوریت کو چلنے نہیں دیا ،تو یہ انکی جہالت تو خیر ہے ہی لیکین درحقیقت یہ انکا
عذر لنگ بھی ہے کہ وہ مسلسل ایک کمزور شے کو مضبوط بنانے میں وقت کا زیاں کر رہے
ہیں،جو شہ خود مضبوطی کے لئے دوسروں کے قد و قامت کی مھتاج ہو اس پر اتنا بڑا مقدمہ کھڑا
کرکے لڑنا بذات ِ خود تعجب خیز ہے،سیاستدانوں نے لسانی کھیل کھیل کر ،پاکستان میں
بجلی اور پانی کا بحران پیدا کردیا ہے ،اپنے حقوق کے تحفظ کے نام پر کل ملک کی
تقدیر کو برباد کیا جارھا ہے۔
برطانوی دور کے
اعداد و شمار،اورحوادث کو بنیاد بنا کر کالا باغ ڈیم کو بنیاد بنایا جارھا
ہے،حلانکہ جدید ترقی اور ارکیٹیکچر نے ہر تعمیراتی حل نکال لیا ہے،حوادث سماوی کے ہاتھوں لوگوں کو
تباہ کرنے چھوڑنا اور بعد میں انکے زخموں پر نمک چھڑکنا عام ہے۔
یہ امر واضح ہے کہ پاکستان میں کبھی صحیح معنی
میں جمہوریت نہیں رہی ہے قطع نظر اس کے کہ
حقیقی جمہوریت کے کیا نقصانات و فواید ہیں ؟ یہ امر تو متفقہ شے ہے کہ جس بلی کے بچے کو یہاں جمہوریت
بنا کر لولی پاپیں فروخت کی جاتی ہیں وہ اوپر سے نیچے تک تکثیری بادشاہت ہے جس میں
چند خاندان و نسلیں سیاسی جماعتوں پر حکمرانی قائم کرکے پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ
کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اس کھیل میں ملا
کو تو فضول میں بد نام کیا گیا ہے ،وہ کبھی حکومت میں صحیح طور پر بلاواسطہ آہی
نہیں پایا ہے ہاں یہ حقیقت ہے کہ ، لوگوں کو اس کی آمد سے ڈرا کر ووٹ ضرور کھرے کیے جاتے ہیں ۔
ملا کا ایک وقت
تھا لوگ عزت کرتے تھے بادشاہ ان کی جوتیاں سیدھی کرنا اپنی شان سمجھتے تھے مگر ملا
،کبھی جماعت بنا کسی کفر و شرک پر استوار جمہوریت کے زیر سایہ ان سے ترتیب کردہ
جماعتوں کے مقابل انتخابات میں بھی نہیں
اترتے تھے،ملا آج مسجد کے عام خطیب و وعظ گو کو بھی کہتے ہیں اور عموما لوگ اسی کو
عالم جانتے ہیں۔
شیخ الحدیث
،مفسر قران،مفتی جیسے ڈگری ہولڈر اور عالم فاضل نے اپنا قبلہ یا تو سرے سے سیاست
سے دور کرلیا ہے یا پھر اس نے سیاست کو
ایسا اٌوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے کہ لوگوں میں اسکا تعارف اسکی سیاست و مکاری ہی رھ
گئی ہے، جبھی عموما ً اصل علما تو مدررسوں
کی چار دیواری کی زینت رہ گئے ہیں اور اب
انھیں تو ملا کی تعریف میں لانا
ہی عجیب لگتا ہے کیونکہ عام آدمی ہر وعظ گو ایرے گیرے نتھو خیرے
کوہی ملا جانتی مانتی ہے ،حد یہ کہ اب تو
فتوے بھی دارالافتا کی جگہ وعظ گو سے مانگے جاتے ہیں ،اب کسی کو عالم علمی کارناموں
،محدثانہ و مجتہدانہ خدمات پر نہیں بلکہ میڈیا پر اسکی مسلسل آمد اور میڈیا کے
تمام مطالبوں پر آمین کہنے پر تسلیم کیا جاتا ،یعنی جسکا کوئی علمی و ملی کارنامہ
نا ہو وہ میڈیا کے ریٹیڈ ،جادو ٹونے کے پروگرام کرے ان سے سند وصول کرلیتا ہے،جبکہ
مدرسہ کے لاعم و طالب علم کو شدت پسندی کی ڈگری فراخدلی سے دے دی جاتی ہے ۔
جیسے میڈیا نے
اپنے تخلیق کردہ اینکرز وعظ گو جیسے عامر لیاقت حسین کو ہی اسکالر بنا کر پیش کردیا ہے ، اور اب میڈیا نے جب گلی محلے کے نوٹ خرید
لوگوں کو معروف عالم بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی تو لوگوں کا علما کی بابت امیج
اور خراب ہوا،پھر انھی محولہ بالا افراد کو سیاسی تجزیہ نگار کے درجہ پر ترقی دے
دی جاتی جیسے اب عامر صاحب بول چینل پر اینکر پرسن کے درجے پر جا پہنچے ہیں ۔
اور ان کے پاس تعویز گنڈے والوں کی آمد اور عوام کی
نفسیاتی بیماریوں کا علاج تعویزی حکمت عملی سے کرنا تجارتی بنیادوں پر ایسا مفید
ثابت ہوا کہ ہر اسلام دشمن لبرل چینل نے مایا دیوی کی چاہ میں خود کو مشرف با
اسلام کرنے کی کوشش کی ہے ،محرم،بارہ ربع اول،رمضان اور حج میں دوپٹوں ،عبایوں اور
دعاووں کے جدید ورژن و اسٹایل جابجا نظر
اتے ہیں ،کمار سانو،ادیت ناراین ،سونونگم کی لہے و طرز پر قوالیاں و نعتیں پڑھیں
جاتی ہیں جس میں اللہ کا ذکر بس خانہ پری کے لئے
ہی ہوتا ہے ۔
حلانکہ جو لوگ
اہل تحقیق و علم ہیں وہ اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ جو علم و محقق علما ہیں وہ ان
چینلز پا نا تو آتے ہیں اور نا کوئی بیان
دیتے ہیں ،مفتقی عثمانی ہوں یا رفیع عثمانی،مولانا منظور مینگل ہوں ،یا زاہد
راشدی،مولانا صلاح الدین یوسف ہوں یا مولانا ارشاد الحق اثری یا زبیر علی زئیؒ ان
میں سے کسی کو آپ نے چینلز پر عموما دیکھا
سنا نہیں ہوگا،مفتی منیب کو یا مرحوم شاہ
تراب ،ابو الاعلی جہانگیر ان میں سے بھی کسی کو نا ہی دیکھا گیا ہوگا اور نا ہی
سنا گیا ہوگا اور اگر
دیکھا بھی گیا ہوگا تو صرف خبر کی
حد تک ایسا ممکن ہے ۔
حلانکہ صاحب
مطالعہ اہل علم ان سے واقف ہیں مگر معذرت کے ساتھ کہ لوگ ان سے زیادہ عامر
لیاقت،جنید جمشید مرحوم،طارق جمیل کو زیادہ جانتے ہیں ان میں نعت خواں ڈسکو خود
ساختہ علما کی بھی ایک نئی اینٹری نمودار ہوئی ہے جو انڈیا ،امریکن و پاکستانی
آیڈلز کی نقالی کرنے کو رواج دے رہے ہیں۔
میڈیا،حکومت،پیر
اور جاگیردار کے اس دوآبے سے انکی جدیدیت کے سبب جو تباہی پھیلی اسکا سارا نزلہ و ملبہ مذہبی اداروں پر گرا ،کچھ غیر محتاط
مذہبی عالموں کے سبب لوگوں نے دین سے راہ فرار اختیار کرنا شروع کر دی ہے،اور
پاکستان میں ملحدوں کی تنظیم فیس بک اور ان لاین دن رات ،اللہ،رسول قران ،اسلام
اور مسلمان کی تعہین کرتی رہتی ہے ۔
جب ہائی کلاس
عالم نے مسٹرسے دوری اختیار کی تو مسٹر یا توسرے سے ملحد ہوگیا یا کم از کم نکاح و
جنازے کی حد تک مسلمیت کو مظاہرہ کرنےوالا جانا گیا ،اس خلیج کو پاٹنا لازمی
ہے،جید علما کی ھجرہ نشینی سے کم علم لوگوں کو گمراہ کرتے رہیھنگے اس کا تدارک
لازمی ہے ۔
ایک اور غلطی
ملا سے یہ ہوئی کہ ملا نے مذہبی قوانین و اصول شریعت کو مصلحت کا شکار کرکے حکومت
و لوگوں کو اتنا تن آسان کردیا کہ اب ملا اگر صحیح اسلام سیکھانے کی کوشش کرے تو
شدت پسند،مفاد پرست ،غیر معتدل اور انسانی حقوق کے مانفی وجود نظر آتا ہے۔
ایک اور اہم
علمی بحث کے ملا کو جب اسلام میں اپنا مطلوبہ قد اونچا تیار کرنے کا طریقہ نظر
نہیں آیا تو ملا نے شریعت کے ساتھ طریقیت کا اضافہ کردیا،کوئی ان سے پوچھے کہ اسلام
میں بلا شبہ تقویٰ احسان،امر بلمعروف نہی المنکر کا ایک طریقہ اور حکم ملتا ہے۔
جسکے لئے صحیح آثار سے ثابت احادیث،‘آثار ِ
صحابہ کرام،تبعہ تابعین،محدثین،فقہا کرام،سلف کا ایک طریقہ و ذخیرہ ہے پھر عجمی
صوفیت جو یونانی،مصری،رومی،وعیسائی ، پارسی ،و ہندی وجودی و روحیتی مباحث سے اخذ
کردہ ہے کو شریعت کے مقابل کیسے لایا جاسکتا ہے حلانکہ شریعت ، قران ،وحی،سنت نبوی
،احادیث ِنبویہ کے بتائے گئے طریقے کا نام ہے۔
اب یہ طریقیت
کیا شہ ہے جو اسے ۔ و۔ کی عطف کے ساتھ
میان،بیوی کالے گورے ،امیر غریب،حسن و جمال کی طرح پیش کیا جائے ،جیسے کوئی دو الگ
الگ مساوی دلیلیں ہوں یا دو مبالغہ کے صیغے ،اب اگر اسلام ایک دین ِ کامل ہے کل
نطام کے مجموعے کو اصولی و دینی تناظر میں دین ِاسلام کہا جاتا ہے اور اس میں
مسلمین کی زنگی کو اصول و فروع میں شریعت سے رہنمائی لینی ہوتی ہے تو اس کے مقابل
ایک واردات قلبی جو یقین کی کیفیت سے عاری ہو،جسکا مشاہدہ و تجربہ ہر عام و خاص کو
نا ہو ،کیسے اسکے مساوی تسلیم کیا جا ئے۔
اب اگر کوئی کہے
نہیں شریعت کے تابع ہے شرعیت حاکم ہے اور طریقیت محکوم و اخذ کردہ تو پھر اسکے الگ
وجود کے قیام کی ضرورت کیا ؟اگر علم کا
نام ہے جیسے علم حدیث ،علم تفسیر وغیرہ تو کچھ بات بن جاتی ہے،مگر واضح رہے کہ علم
حدیث و اصول حدیث شریعت کے ماخذ اور وحی متلو سے متعلق ہے ،جس سے رہنمائی کے لئے
خود طریقیت کو بھی زانوئے تلمذ باندھنا پڑتا ہے،جو خود اخز کردہ ہو وہ کیسے ماخذ
کے مساوی آسکتا ہے ؟،اسلام کی اسکے بابت خاص اصطاحات،احسان اور زہد کی ہیں اور
انھیں سے اسلامی تصور روحانیت کو کچھ علمی بنیاد مل پاتی ہے ۔
مگر پھر یہ سوال
کیا جاسکتا ہے کہ اگر ایسا ہے جیسا کہا ،سنا گیا تو علم حدیث کو تو سلف نے نبی
اکرم ﷺ کی وحی غیر متلو ماخذ شریعت کے سبب علم کے طور پر مدون کیا
،اب طریقیت جب خود اس سے رہنمائی لیتی ہے تو پھر حدیث و قران کیا کافی و مکتفی
نہیں جو اسکو بجائے ماخز کے ایک بزات ِ خود ماخد جانا جائے ،کیا مسلمان نبی اکرم ،انبیا کرام،صحابہ کرام ؓ
کی حیات سے تربیت لینے ،رہنمائی لینے،فقہا و محدثین سے مسائل اخذ کرنے میں ہم ناکام رہے ہیں ؟۔
کہ اس کو شریعت
کے مساوی جا نا جائے میں اوپر سیاسی بحث کر رہھا تھا ادہر اس طرف صرف اس لئے
آیا کہ جب ملا باتیں فقر،صبر،تدبر،سادگی کی کرتا ہے ،وہ چن چن کر ایسی روائیتیں
لاتا ہے جس سے صرف نبی اکرمﷺ و صحابہ کرامؓ کی سادگی چھلکے ،دینی احکام،اصول
،شریعت کے بھلے وہ موضوع و ضعیف حدیث مخالف ہوں۔
توجن سے سادگیوں ،حلال اشیا سے اجتناب کا عمل
اخذ ہوتا ہو ،بھلے دلیل و مدلول میں ربط نا بنتا ہو سلف نے بھلے اس پہلو سے نا لیا
ہو نا دیکھا ہو تو کیا ان کے اس عمل کو دین جانا جائے یا مانا جائے ؟۔
یہ بات واضح ہو
اللہ نا بخیل کو پسند کرتا ہے اور نا فضول خرچ کو ،ابو بکر صدیقؓ،عمر فاروق ؓعثمان
ؓعلی ؓ زبیرؓ طلحہ ؓ و ابن عوف ؓ ٹھیک ٹھاک مالی و دولت رکھتے تھے ،تجارت و حلال طریقے سے رزق لیتے تھے ،اور اللہ
کی راہ میں نچھاور فرمایا کرتے تھے۔
اللہ کی حلال
کردہ اشیا کو نا کسی نے بذات خود حلال کیا اور نا حرام اور نا فضول وعظ
گوئی کو پسند فرمایا،
کنز العمال کی
ایک روایت میں ہہ کہ علیؓ نے ایک فرد سے اسکا مالی حال اسکے حلیہ کے سبب دریافت
کیا تو اس نے بتایا میرے پاس اتنا اتنا مال و دولت ،بھیڑ و بکریاں ہیں،آپ نے پوچھا
پھر ایسی ابتر حالت کیسے تو کہنے لگا کہ آپ کا بھی تو ایسا حلیہ ہے تو فرمایا کہ
تجھ پر تباہی ہو مجھ پر تو مسلمانوں کی زمہ داری ہے،تیرے ساتھ تو ایسا معاملہ نہیں
ہے۔
اب جب مولوی بات
تبلیغی نصاب یا فیضان سنت سے محیر العقول،ضعیف ،و موضوع روایت سے کرے لوگوں سے واہ
واہ ،سبحان اللہ کی تکرار کروائے اور
خروجِ وعظ کے بعد خود باہر نکلے تو کار میں بیٹھے مشک و عنبر کی خوشبو اس
سے آئے، اے۔۔ سی کا مطالبے کرے،ہاتھ میں سمارٹ فون ہو،کتاب میں یہ بتائے کہ اونچی
بلڈنگ بنانا کتنا گناہ ہے اور خود مدرسے کی یا اسکے گھر کی عمارت پانچ پانچ منزلہ
ہو تو بھلے ایک معتقد کو اس میں حکمت نطر آئے
مگر ایک بے علم،معقولی ہو یا شیطان
صفت ملحد انکو تو جواز مل جاتا ہے تنقید
کا۔
نبی اکرم اور
خلفائے راشدین ،سربراہان مملکت تھے لوگوں کے لئے رول ماڈل تھے انکی حیات و سادگی
اور دوسرے کی حیات میں فرق نا صرف کمیت کا ہے بلکہ کیفیت کا بھی ہے۔انکی نگاہ
اجتماعی امور اجتماعی فلاح و بہبود پر تھی کہ کوئی تنقید نا کردے ھم پر ،دین کی عمر مختصر ہے اسے قول و فعل کا تضاد لے
نا ڈوبے جبھی حزم و احتیاط سے پھونک پھونک کر قدم اٹھاو اور ذاتی دولت کو دین پر
بھی قربان کرو ،اسکی خدمت پر بھی صرف کرو اور اتنا مال ضرور رکھو کہ غیر کے آگے
ہاتھ نا پھیلانا پڑ جایئں۔
انہیں یہ احساس
تھا ،انکی سادگی اس معاشرے ،سماج،اور نوزایدہ ریاست سے مطابقت رکھتی تھی ،مگر
ہمارے سماج میں وہ سادگی قایم کرنا اس وقت تک مشکل ہے جبتک رہنماوں میں وہ چلن عام
نا ہو ،وہ یہ نا جان لیں کہ تبلیغ کے ساتھ
عمل ذاتہ طور پر ناگزیر ہے ۔
اسلام میں دین و
سیاست کی یکجائی کا سبب ہی یہی ہے کہ ریاست کا حاکم انکا باپ،بڑا بھائی ،نبی کا
خلیفہ اور رول ماڈل ہوتا ہے وہ نماز کی امامت کرواتا ہے جمعہ،عیدین کے خطبے دیتا
ہے۔عام و خاص اس سے ملتے ہیں ،جو معیار وہ قایم کرتا ہے لوگ اسکی پیروی کرتے
ہیں،امام غزالیؒ و امام ابن کثیرؒ کا تو کہنا تھا کہ :اللہ ریاست و قوت سے وہ امور
سرانجام دلواتا ہے جو قران سے نہیں کرواتا،کیونکہ قران کی تعلیمات کانفاذ ریاست و
قوت کے بغیر ناممکن ہے،یہود و نصاری اور مستشرقین نے اسکے حل کے لئے معاشرتی علوم
اور علم سیاسیایت کی مغربی علمی بنیادیں تخلیق کیں جنھونے قوم کے اذہان میں یہ امر
راسخ کیا کہ دین ایک اکائی ہے کل نہیں اور ذاتی معاملہ ہے جبکہ ریاست و سیاست ایک
الگ امر و دایرہ کار ہے ،جبھی دنیاوی طریقے کے لئے دین و سیاست کی تفریق لازمی ہے،یہیں
سے مسلمانوں کی سیاسی تباہی کا آغاز ہوا ،اور بلاآکر ہر دایرہ کار سے دین نکلتا
گیا اور اج دین صرف ،بارہ ربیع اول،محرم،شب برات و معراج منانے کا نام رہ گیا ۔
میں کچھ عرصہ
قبل آن لاین تھا پوسٹیں چیک کر رھا تھا :سوال آیا کہ :یہ طارق جمیل خطبہ دیکر
،پجارو میں بیٹھ کر چلا جاتا ہے اور بنگلے میں رہتا ہے اور تبلیغ کیا کرتا ہے
،اسلام کا دشمن ؟
میں نے موصوف کو
لکھا کہ طارق جمیل اول تو وعظ گو ہے اور جنید جمشید بھی وعظ گو ہے اور بڑا اچھا
وعظ گو ہے مگر اسکی روایات و دلایل پٌر حسن تو ہیں مگر محقق نہیں ہیں اور جہاں تک
انکی دولت کا تعلق ہے تو سنا ہے کہ وہ امیر گھرانے کے چشم و چراغ ہیں،اور دین کے
طرف خود آئے،اب اگر وہ اچھے گھر میں رہتے ہیں،اچھا پہنتے ہیں،کھاتے پیتے ہیں تو اس
میں شریعت کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہاں یہ کہ انکے وعظ کے پیغام و مفہوم کے ذرامنافی
ہے : کہ پیغام میں بیان کردہ تصوف پر خود
عمل نہیں کرتے ،میں گھوم کر پھر پھر اصل مدعے پر آرھا ہوں کہ تصوف کی حمایت میں
،پیر کے دفاع میں لوگوں کو دین سے دور نا کریں ،اب جو تصوف کو عین دین مانے وہ تو
گمراہ ہوا اور جنکو اس نے تبلیغ کی اسکی نیت حسن و ہو،مگر اسکا تاثر تباہ کن
ہوجاتا ہے۔
عیسائی کلیسا جو
دنیا میں بدھی،ہندوی سنیاسیت سے بھی بڑی رہبانی تصوفیت کی سب سے وسیع شکل ہے میں
پوپ اور کلیسا کی جانب سے شریعت سے ہٹ کر
جب زاتی آرا کا سلسلہ قائم ہوا تو شریعت تو عنقا ہوئی مگر تصوف ہی دین بن گیا اور
بلآخر دین ہی عیسائی حیات سے غایب ہوگیا۔
اور پوپ اور
کلیسا کا حکم ہی دین بن گیا،کلیسا نے یہودی اثر سے نکلنے کے لئے موسوی شرعت سے ہی
نجات حاصل کرلی جسکا عیسی ؑ نے بھی حکم نہیں دیا تھا۔
جبھی ہمارے وہ
علما جو سیاسی ہیں اور جو مبلغ ہیں انکو اپنے قول و فعل کا تضاد رفع کرنا ہوگا
،اور عوام کے لئے ایسا نمونہ بننا ہوگا کہ پاکستان میں ریاست و ادارے اگر کامل
الحاد کا شکار ہوجایئں تو بھی لوگ ان سے فیصلے قضا کروایئں ۔ایک وقت آہستہ ‘ہستہ ایسا آیئگا کہ انکی ملنساری،لگن
تدبر کے سبب ریاست خود شرعی قوانین کے نفاذ کی محافظ بنے گی ،ساتھ انکو صبر کے
ساتھ براہ راست ریاست سے تصادم سے بھی پرہیز کرنا چاہئے جبتکہ ریاست خود جبر پر
کامل اتفاق نا کرلے۔
میرا یقین کریں
کہ اگر آپ لوگوں کو شریعت پر لانا چاہتے ہیں تو اپ کو اول خود کو صرف عالم بناکر
انکے دلوں پر حکمرانی کرنی ہوگی عزت و وقار کے جھنڈے کو لیکر انکو قلوب کی تسخیر
کرنی ہوگی،جمہویت میں کوئی ایسا راستہ نہیں جس کے ذریعے اسلام یکمشت قایم و دائم
رہ سکے یا اسکا نفاذ ممکن ہو،پوری ریاستی و حکومتی،مشینری،نوکر شاہی،اسٹیبلشمنٹ
اسکا راستہ روکے گی،ایوان اسے مسترد کرتا رہے گا میڈیا اور این،،جی۔۔اوز انھیں
حقوق انسانی کےمنافی کہتی رہیں گی ،تو کیوں اسلام کو ایوان میں رسوا کریں ،آیئں
دینی پرجم اتھا کر لوگوں کی علمی،مزہبی،تربیت،و تطہیر کا کام کریں اور بلا جنگ و
جدال لوگوں کے دلوں کو فتھ کرے ریاست میں ریاست بنایئں جو لوگوں کے دل و دماغ پر
قایم ہو جسکے سبب موجودہ ریاست سے تصادم سے بچا جائے ۔
یہی لوگ ایک عزم
لیکر سیاسی جماعتوں میں شامل ہوں اور انھیں
اسلام منافی اقداما ت کو کرنے اور اس کے خلاف قانون سازی سے روک سکیں،اور
انھی میں سے کوئی بندا اور اسکی جماعت ان جماعتوں کی اندرونی صفائی کرکے نسلی
بادشہتوں کا خاتمہ کردیں ،لیکین اس سب کے باوجود یہ سب اتنا اسان نہیں ،مگر میری
جمہوریت سے علمی ناراضگی کا مطلب کبھی کسی بادشاہت و نسلی ھکمرانی کا جواز فراہم
کرنا نہیں اور نا اسے برداشت کیا جائیگا۔
اس نظام میں
مذہبی سیاسی جماعتیں بس تکثیری حسن کا نام ہے ،یا لوگوں کو مطمئین کرنے مدارس کو
خاموش رکھنے کی ایک تدبیر ہے پاکستان میں لبرل ،سیکولر نطام کے ساتھ فوج بھی
اسلامی نطام کے نفاذ میں سرے سے دلچسپی نہیں رکھتی ہے اور اسکے بغیر یہ ممکن نہیں
جبھی ہم باوجود اس امر کے فوج ایک لبرل،سیکولر،مفاداتی ڈسکورس پر کامل یقین ریکھتی
ہے۔
اس کی حمایت اس
لئے کرتے ہیں کہ مستقبل کا حال اللہ کو معلوم ہے اور پاکستان ہمارا وطن اور
مسلمانوں کا دار السکون و دارالامن ہے ،جبھی اسکے محافظون کو سراہنا چاہئے ۔ظاہر
ہے کہ ہر شے کامل و اکمل نہیں ہوتی اور نا وہ کسی امر کو فوراً توجہ کے قابل جانتی
ہے،مگر کمزور انسان صرف توقع سے زیادہ کیا کرسکتا ہے۔
شاید کوئی ایسا
جرنل آجائے جو کہ اٹھے کہ اس ریاست میں دہشت گردی کا خاتمہ جہاں ہماری ترجیع ہے تو
وہیں اس مطالبے کو بھی پورا کر کے اتمام ِحجت کردے کہ اسلامی نظام فوجداری ،و
دیوانی بنیادوں پر نافذ کردیتے ہیں تاکہ کم از کم ان دھشت گردوں کا منہ تو بند کیا
جا سکے جنکا مطالبہ اسلامی نظام کا نفاذ ہے ۔
اسلام کے شرع
نظام کے نفاذ سے فوج کا وجود کوئی ختم تو ہوگا نہیں الٹا اسکی فوجی سرگرمیوں کو
شرعی جواز ملے گا،باغیون۔مرتدوں کے خلاف کاروائی شرعی امر جانی جائیگیاور دین و
آخرت کی کامیابیاں حاصل ہونگیں۔
ڈیلی ڈان کا طریقہ کار اور سائیرل کی شیطانیاں
سائیرل گردی اور اظہار ِ رائے کا مطلق تصور
(۴)
محمد علی جنید۔۔شعبہ سیاسیات۔۔ جامعہ کراچی۔
قسط اول میں خاکسار نے سرجیکل اسٹرائیک کا مزاحیہ خاکہ پیش کیا تھا جبکہ،قسط دویم میں سرجیکل اسٹرائک پر بحث اور میڈیا کی غیر علمی و جذباتی طوفا نیت کو مرکز ِ نگاہ بنایا تھا،مذید ِ براں قسط سویم میں ہم نے سرجیکل اسٹرایئک اور متعلقہ مباحث پر غور و فکر کیا تھا۔
ڈان کا ایجنڈا ،طریقہ انداز اور رجحانات :
ڈان اخبار کو دنیا مسلم دینا میں بلعموم اور پاکستان اور جنوبی ایشیا میں بلخصوص لبرلازم کا خاص الخاص آرگن جانتی اور مانتی چلی آئی ہے ،ڈان کا معیار ،اور اسکی انگریزی صحافتی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔اسی طرح ڈان مغربی سیاسی اداروں،جمہوریت ،معیشت کا دفاع کرنے ،فروغ دینے اور انکی روشنی میں رائے عامہ کو متاثر کرنے کو نمایاں حیثیت دیتا نظر أتا ہے۔
ڈان کا رویہ اسلام،مذہب ،اسلام پسند جماعتوں،جہادی تنطیموں کی بابت کوئی ڈھکا چھپا نہیں ہے ماضی میں دا۔۔ نیشن اور اور دا۔۔ نیوذ کو چونکہ انکے کچھ حد تک مذہبی جھکاو اورپاکستانی مسلمیت کی پالیسی کے سبب ،ڈان کی مسابقت میں دیکھا جاتا تھا ۔مگر جدید کیبل،ڈش کیلچر کے بعد انھونے جب بہتی گنگا میں ہاتھ دہونے کے لئے ڈان کی نقل کی کوشش کی تو اپنی شناخت و مقام سے محروم ہوگے یوں ڈان بلا مقابلہ فائق مقام پاتا چلا گیا جسے فی الحال کچھ حد تک بزنس ریکارڈر ہی ہے جولچھ حد تک اسے چھو سکتا ہے۔
ڈان کو طبقہ اشرافیہ اور سوشسلٹ لیبربیانئے کے حلقوں میں بھی خاص درجہ استناد حاصل ہے یوں ڈان لبرل ازم ،سیکولر ازم،ماڈرنیٹی پر یقین رکھنے والے دائیں اور بائیں دونوں بازوں کی آنکھ تارا بن کر نمودار ہوا ہے۔ ڈان کا دعویٰ ہے کہ مسٹر جناح اس کے بانی ہیں اور اس نے مسلم لیگ کو تحریک آزادی میں خوب سپورٹ بھی کیا تھا۔مسٹر جناح کے سیکولر ہونے،انکی ۱۱۔۔اگست کی تقریر کے معاملے کو ڈان نے نا صرف روزِ اول سے زندہ رکھے ہوئے ہے بلکہ ڈان کے کئی ایڈیٹرز جنکا تعلق بی۔۔بی۔سی اور سی۔۔این۔۔این سے رہھ چکا ہے سے لیکر کالم نویس تک سب اس پر مسلسل با سکون ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں جبھی اب شک ہوچلا ہے کہ جامعات کے محقق اور مسلم لیگ کے رکن کے برخلاف ڈان کے مسٹر جناح اور مسلم لیگ کی کامل سیکولر تحریک آزادی کی بابت اور فکر کا کیا علمی مقام ہے مذید اس کا کیا اسنادی جواز ہے۔
ندیم۔ایف پراچہ کے کالمز اس کے واضح ثبوت فراہم کرتے ہیں ، مبارک علی میں بھی یہ مثال عام ہیں ۔ڈان کی بابت یہ تاثر عام ہے کہ ڈان ایران کو خوب سپورٹ کرنے اور سعودیہ کے اوپر تنقید میں پیش پیش رہتا ہے،اس کے کئی کالم نویس ماضی میں اسلامک بینکنگ اور میعشت کے ضمن میں اپنے خاص مذہی پس منظر کو بنیاد فراہم کرتے چلے آئے ہیں ۔
ڈان کیا واقعی غیر جانبدار ہے ؟ اس کا جھکاو کسی مخصوص مسلک و مذہبی ر جحان سے نہیں ہے ؟
ڈان خود کو سیکولر مإڈریٹ اور مذہبی طور پر غیر جانبدار ہونے کا تاثر دیتا چلا آیا ہے اس میں کتنی صداقت ہے اسکا ذرا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ڈان میں کام کرنے والوں کا اکثر تعلق یا تو مارکسی شیعت سے بی رہا ہے جس کے سبب وہ فقہی شیعت سے الگ اور منفرد نظر أتے ہیں جیسا کہ علی شریعتی کو جس طرح حوالہ کے طور ماضی میں چھلکتا دیکھا گیا ویسے محترم باقر الصدر جیسے عالم فا ضل کو انکے مخالف بلکل نظر اندازکردیتے ہیں ۔
اسی طرح ڈان نے ایک طرف خود کے غیر مذہبی اور سیکولر ہونے کے ساتھ ساتھ خود کو دیوبندی اور اہل حدیث افراد کا مخالف عیاں ہونے کا تاثر دیا ہے کیوں ؟ ظاہراً اس کا سبب انکا لربرل ،ماڈریٹ قدروں کو چیلنج کرنا یا انکے جہادی موقف ہیں ،جسے ڈان جیسے مغربی فکر کے نمائیندہ اخبار جناح کے سیکولر پاکستان کے مخالف جانتے ہیں،حلانکہ ان میں سے اکثر إزہبی خود ڈان کی طرح لبرل،سیکولر قدروں پر کہیں نا کہیں عمل پیرا ہیں جیسے جماعت ِ اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کا مذہبی لٹریچر ،مغربی فکر کی بڑی سادہ شرح و تنقید کرکے ان کی قدروں کو اسلامی بنا کر پیش کرتا ہے ۔
خصوصاً پورے پاکستان میں طلبا یونین ،فوج کی مخالفت اور جمہوریت کی حمایت میں پورے پاکستان میں کوئی لبرل جماعت بھی اتنا سخت موقف نہیں رکھتی ہے،علامہ مودودی نے اپنی علمیت و عظمت کے باوجود خلافت و ملوکیت نامی بدنام زمانہ کتاب میں صحابہ کرام و تابعین کے ایک گروہ کو انکے جمہوریت مخالف رجحانات و طریقہ کار پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا حلانکہ ان بیچاروں کو سرے سے ہی جمہوریت ،آزادی فکر ،حریت کی قدرو فکر سے ّگاہی نہ تھی انھونے کبھی افلاطون و ارسطو یا سیزرو کا نام بھی نا سنا تھا ،مگر پھر بھی جماعت ڈان کو عزیز نہ ہوسکی حلانکہ وہ جناب خمینی کو پسند و عزیز تھی۔
ڈان مدارس اور جہاد کے باہم تعلق کو خوب اچھالتا ہے مگر ا پنے ذاتی رجحانات و عقید و چھپا نہیں سکتا ہے ،اس سے یہ تا ثر ملتا ہے کہ پاکستان کا اجتماعی مذہبی موقف شدت پسند جہادی نوعیت کا حامل ہے اور قوت کے حلقے یہیں سے پھوٹتے ہیں جبکہ بریلوی قوتِ اقتدار میں پیچھے ہیں جبھی وہ رسوم و مزارات کے ذریعے خود کو اجاگر کرتے ہیں۔ انھونے عامر رانا و دیگر کالم نگاروں کے ذریعے بریلوی سیاست و شعور کی تبدیلی کو سنی تحریک کے تناظر میں بھی دیکھاہے۔ جبکہ ابھی حال میں انھونے ایک سنڈے ایمیجیز میں یہ نقطہ نظر بھی پیش کیا کہ ایم ۔۔کیو ۔ایم کا ایک مذہبی اور فرقہ وارانہ سوچ کا حامل گروہ اہل سنت و الجماعت میں چلا گیا ہے جس سے اسکی سیاسی قوت مییں اضافہ ہوا ہے،انکا ایک یہ بھی تاثر ہے کہ غلطی عموماً اکثریتی مذاہب سے ہوتی ہے اور وہی فساد کا سبب ہیں ،جس کو معمولی عقل ہے اور جو روز کا ڈان کا قاری ہے وہ انصاف سے کام لے اور کالموں سے یہی اجتماعی سوچ لیکر اٹھے گا ۔
دوسری طرف صوفی افکار،تعزیے ،مزاروں کو جمالیات سے لیکر مختلیف پہلووں تک نئی کمالات کے ساتھ اجاگر کرتا ہے اور کمال اتا ترک کی کمالیات کو سراہتا ہے جسکا ثبوت سنڈے ایمیجز[1] میں ایک پورے صفحے سے لگایا جاسکتا ہے جس میں کبھی مدارس اور مساجد کو زمینوں پر قابض دکھایا جاتا ہے ،کبھی جہادیوں کے اوپر فیچر ہوتے ہیں کبھی تعزیوں ،مزاروں سے مضمون نگار کی عقیدت اور ان میں جمالیات کو تختہ مشق بنایا جاتا ہے۔
ڈان کے ہیرو اور اسکا تضاد ِ انتخاب :
جیسا کہ انھونے ایک دفعہ صوفی عنایت اللہ ،جھوک والے صاحب کو ہیرو کی طرح سبط حسن کی نقالی میں پیش کیا اور انکے عرس پر خاص روشنی ڈالی کیونکہ انھونے مقامی جاگیرداروں اور مغل حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھائے تھے اورایک دعویٰ کے مطابق انکے افکار اشتراکی نوعیت کے حامل تھے مگر کیا وہ حقیقتاً ایسے تھے جیسا تاثر دیا گیا ہے یہ تو خیر مان لیا انھونے اصلاح کی کوشش کی اور ظلم پر آواز اٹھائی مگر انکے حسن تدبیر کو جو اشتراکیت و اشتمالیت سے صاف دور تھا کو مشابہت کے سبب کھینچ تان کر فٹ کرنا کونسی علمی کوشش کا نام ہے۔
اگر اپیقیورسی اور افادی[2] قدروں کی روشنی میں کوئی گمراہ مراد صرف جنس خوری اور بسیار خوری لے تو وہ عمدہ یا برحق جانی جائیگی؟ اور کیا اسے اور ان سے بچنے والے کی نیکی کیا اپنے اپنے دائروں میں عمدہ و احسن گردانے کے باوجود کیا قدر نیکی کی شراکت لفظی کے سبب کیا ایک مانی جائینگی ؟ بے وقوف کو بھی معلوم ہے کہ حرام جنسیات کی قدر و احتیاط ایک محدود اختراع کردہ قدر کے مقابلے میں صدیوں سے عالمگیر چلی آرہی ہے تو صرف دونوں کا احسنی دعویٰ یکساں نوعیت کا حامل نہیں ہے اس میں کیفیت اور نیت کا بھی وجود مانا جاتا ہے۔
اییسے ہی کئی دفعہ ڈان نے تعزیوں پر خاص توجہ دی اور اسکے فنی اور پیشہ وارانہ پہلووں کو عیاں کیا مگر اس کے مقابل سنی بریلوی مکتبہ کی طرف سے منعقدہ بارہ ربیع اول کی تقریبات کو محرم کے طرح توجہ و مقام نہیں دیا گئیا حلانکہ انکی بھی ایک اسٹریٹ پاور ہے جسے وہ بھی اپنا قد و کاٹھ ،حلقہ اثر دکھانے کے لئے اپنے موقع و مقام پر نمایاں کرتے ہیں ۔ پھروہ بھی شیعہ نقالی میں مدینہ کے گنبدِ خضرا کے نمونے تہوار پر نکالے جنھیں اکثر مزکورا ًتعزیہ والے ہی بناتے ہیں لہذا کوشش کر کے ان میں بھی جمالیا ت کی کچھ نا کچھ چھلک ڈھونڈھی جاسکتی ہے مگر ان پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے اگر پروگرامز اور خبر یں سامیعن پر منحصر ہیں تو انکا حق بھی زیادہ بنتا ہے ،کیونکہ بریلوی مسلک کے ماننے والے اکثریت رکھتے ہیں ۔[3]
ہمیں اس لینا دینا نہیں کہ کون محرم میں تعزیہ نکال رہا ھے اور کون بارہ ربیع اول پر جلوس نکال رہا ہے ،جس کے پاس قوت اور اٹریٹ پاور ہے وہ جمہوری تعویز پین کر سب کچھ کر سکتا ہے ۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ ایک سیکولر،لبرل ڈسکورس کا مو ئید اپنا خاص مذہبی پہلو کیسے چھپا نہیں پاتا ہے اب اگر ان مباحث کو صرف تحقیقات تک رکھا جاتا تو عمدہ تھا مگر ڈان نے انصاف کے خود ساختہ معیار صرف سیکولر ازم،لبرلازم،جمہوریت،آزادی رائے اور انسانی حقوق کو بنا رکھا ہے ،اور وہ اسی کی قدر میں حق و باطل کا تعین کرتا ہے ساتھ اسکا یہ عمل کس علمی چھتری کے زیر سایہ کام کررہا ہے اسکی وضاحت مطلوب ہے؟ کہ اسکی تحریروں اور عمل میں تضادِ بیان و عمل کیوں ہے؟ کہ اوپر ایک طرف وہ ندیم پراچہ کو چھاپ رہا ہے دوسری طرف مبارک علی اکثر صفحے کی نچلی سطح پر ملتے ہیں مذید آگے کے دو صفحے مذکورا بالا امور پر صرف کردیتا ہے۔۔
دیو بندی اور وہابی فرقہ وارانہ مخالفت کا ایجنڈااور اسلامی قوانین کے خلا ف اسکا اعلان ِ جنگ :
ڈان میں دیوبندی و وہابی کو صرف سلبی اور منفی دیو کے طور پر دکھایا جاتا ہے جو خود کش دھماکے کرنے ،امریکہ و یورپ سے تو تو میں میں کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں اور وہ لوگوں کو قرون ِ اولیٰ کے مزاروں میں مدفن کرنے کی حکمت ِ عملی میں دلچسپی رکھتے ہیں ،مگر عامر رانا کا ماننا ہے کہ یہ کوئی بے وقوف نہیں بلکہ یہ نتائیج و اہداف کو معقولی طور پر مد ِ نظر رکھتے ہیں ۔
مگر ڈان کا رویہ این ۔جی اوز اور ،ہیومن رایٹس کی حمایت میں ،توہین ِ رسالت کے قوانین کی مخالفت ،سے لیکر حدود و قصاص کے خلاف اعلان جنگ کرنے سے لیکر موت پر پابندی کے مطالبے کو اٹھا نے تک کئی سوالات اٹھا جاتا ہے۔مگر سرمایہ داران سوچ اور معبود ِ حقیقی خداوند نوٹ و زر کا برا ہو کہ رسوم ِ مذہب پر ڈان خاص مذہبی پروگرام ،رمضان ٹرانسمیشن کو کمرشل شیر میں حصہ نکالنے میں أگے آگے رہتا ہے کہ جو موقف لبرل موقف سے میل کھائے اسکو امدادی بنا لو اور اہل مذہب کو بدھو بنا کر نوٹ کما لو ۔
رینجرز سے مخالفت :
رینجرز اور ڈان کے باہمی مخالفت بھی اندرونی ذرایع سے ڈھکی چھپی نہی ہے ڈان جناح کورٹ کی عمارت پر بھی رینجرز کا مخالف ہے اور اسے غاضب جانتا ہے ۔
ڈان کے ڈان نما کالمز :
ڈان نے افغان جہاد ،ضیاالحق ،دیو بندی ،وہابی فیکٹر ،مشرف و افواج،آمریت و جمہوریت کی بحث میں خاص موقف اختیار کیا ہے اور جسکی سب نے ہی تقلید بھی کی ہے ۔ بھارت کے موقف کی حمایت میں اکثر ڈان جماعت الدعوۃ اور مسعود اظہر جیسے عناصر پر پابندی کے مشورے ،تجاویز،انکے آرمی سے تعلقات پر اسکی تنقید جس طرح آگ اگلتی ہے اس کے نمونہ سایرل اور محمد عامر رانا کے کالمز میں نمایاں نظر أتے ہیں۔
سائیرل کا طرز اسلوب و مقام :
سایرل ڈان کا ایک ملازم و اسٹنٹ ایڈیٹر ہے اسکے کالمز میں عموما ٍ ذو معنی جملے،طنز و مزاح اور ظرافت نمایاں نظر آتی ہے جس سے یہ انداذہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ حکومت پر برس رہھا ہے یا آرمی پر ،اس میں گوا کی پرتگالی کیتھولک عیسائیت لگتا ہے کافی کم ہو کر لبرل اقدار ذیادہ سما چکی ہیں حلا نکہ پروٹسٹنٹ کے مقابلے میں کیتھولک بہ حیثیت ِ مجموعی کچھ قدامتی موقف رکھتے ہیں ،یہ بنیادی طور پر ایک خاموش شیطان ہے ،اسکو معلوما ت نکلوانے اور اگلوانے میں کافی تجربہ ہے اسکا عیسائی نام اور انگریزی لوگوں کو متاثر کرتی ہے ویسے تو ظاہراً مصعوم اور پرکشش نطر آتا ہے مگر جب سییریس خاموش ہوتا ہے تو سمجھیں یہ کچھ شیطانی کھچڑی پکا رہھا ہوتا ہے۔
جبھی عام طور پر سائرل کو بطور کالم نویس وہ مقام حاصل نہیں ہو سکا جیسے دوسروں کو ہوا ہاں ایاز امیر کے بعد اس کا مقام بطور کالم نویس ذیادہ واضح ہوا ہے اکژ تو اسکے نچلے حصے کے کالم پر توجہ ہی نہیں دیتے ہیں کیونکہ گفتگو کچھ تمسخرانہ نوعیت کی حامل اور ہجو گوئی سے خوب لبریز ہوتی ہے اور اس میں سنجیدہ تجزیہ نگاری بھی نسبتاً کم ہوتی ہے ۔ اسکے اکثر کالم سے مسلم لیگ ایک مظلوم تنظیم نطر آتی ہے مگر جب آگے بڑھتے ہیں تو ماجرا کچھ اور ہوتا ہے ڈان کا مسلم لیگ قیادت سے پرانا تعلق ہے ،جیسا کہ ایاز امیر بھی مسلم لیگ ۔۔ن کے رکن اسمبلی رہ چکے ہیں حال ہی میں سرجیکل اسٹرایئک اور سایرلی شیطان نویسی میں امبر سہگل کا مسلم لیگ سے تعلق خوب سوشل میڈیا پر اچھالا گیا ہے ۔
ڈان ںیوز پیپر اور ڈان ںیوز چینل :
ماضی قریب میں ڈان گروپ کا ایک ٹی وی چینل انگریزی میں ایکسپریس،انگلش نیوز کی مانند آیا تھا جو کامیاب نا ہوسکا یوں ڈان نے مجبوراً اردو میڈیا میں بھی ہاتھ دیونے کا فیصلہ کیا تاکہ الیکٹرونک میڈیا میں ایک مقام بنا سکے اور کافی حد تک اپنے اصولوں،پیشہ واریت کے سبب اس میں کامیاب بھی ہوا ہے اور اس نے عام عوام کو دہوکا دینے کے لئے اپنے موقف کو کافی قابو قبضے میں رکھا ہوا ہے۔
اب اگر آپ ڈان نیوذ کو پڑھیں اور ڈان نیوز کو دیکھیں تو زمین آسمان کا فرق واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے،میں اس محرم پر ڈان پر جس طرح محرم ٹرانسمیشن دیکھ رہھا تھا اس سے انداذہ ہوا کہ ‘آج کا سب سے بڑا مذہب صرف سرمایہ دارانہ ذہنیت،دھن و دولت اور قوت و غلبہ ہے۔اور یہ سب جمہوری اقدار میں ہی ممکن ہیں جبھی ڈان اور تمام اخبار جمہوریت کے لئے صرف حسن نیت کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں ۔
ڈان کا کلاسیکل لبرلازم :
تمام میڈیا ایک خاص زاویہ فکر سے ریسرچ کرتا ہے اور عوامی مزاج کو کمرشل مجبوریوں کے سبب اہمیت دینے میں اپنے اصولوں کی دہجیاں بکھیرنے سے بھی پرہیز نہیں کرتا۔ اس حقیقت میں دو رائے قایم کرنا منصف مزاج محقق کے لئے ناممکن ہے کہ تمام میڈیا چاہے وہ مذہبی نوعیت کا حامل ہی کیوں نا ہو اس کی بنیادوں میں لبرلازم کے کچھ نا کچھ جراثیم ضرور موجود ہوتے ہیں تو غور کریں جو اس پر کامل یقین رکھے اس میں کتنے فیصد ہونگے ؟ ڈان میں یہ عناصر و جراثیم خالصتاً نوعیت کےحامل ملتے ہیں۔
ڈان کا اردو جرنلازم کے مقابل موقف ہے کہ آزادی اظہار ِ رائے حتمی ،کامل اور غیر متغیر نوعیت کی حامل ہو اور اس پر قدغن و تحدید بین الاقوامی لبرل ڈسکورس،انسانی حقاق کے منافی ہے،ڈان کے اس مباحثہ علمی کے اچھے اور مفید پہلو بھی ہیں جیسے عالمی گلوبل وارننگ،شجر کاری،بدعنوانی ،جدید تعیلمی نطام کی انتظامی خرابیاں، زمینوں پر قابض مافیا،جاگیرداری نظام کی خرابیاں ،جرایم کی نوعیت وغیرہ ۔
حلانکہ یہ ڈان کا موقف سرے سے فاش غلطی اور کلاسکل ،لیزز فیرے دور میں رھنے اور جینے کی علامت ہے ،ڈان آج بھی پاکستان کو کوئی برطانوںی دور کا علاقہ سمجھ رہا ھے۔پوسٹ لبرلازم نے لامحدود آزادی کو محدود تحدیدات سے رؤشناس کروایا ہے اب جو جمہوری حکومتیں ہیں وہان فوج سول حکومت کے تابع ظاہرا ہوتی ہیں ورنا انکے اندرون خانہ اثر و نفوذ ،عزت و وقار،قوت کسی سی ڈھکا چھپا نہیں ہے،امریکہ یورپ اور خود عالمی بینک کی کئی تحریریں نیشنل سیکیورٹی کے مباحث کو بیس بیس سال بعد آشکار کرتے ہیں ،آزادی صحافت انفرادی آزادی کی فرع ہے اصل نہیں ،آزادی صحافت و آرا سے یہ مراد کہ :
کون کس کمرے میں کیا کر رہھا ہے اور کس کی بیوی کس کے ساتھ،کس کا میاں کس کے ساتھ، کون ابن ٌ الحرام اور کون خلوت میں کیا کرہا ہے؟ ایک اور بنیادی حق حقِ عزت و وقار کی شقوں کے خلاف ہے ،آئین کا فریضہ ریاست اور اداروں کے حقوق اور فراٗض میں تحدیدات قایم کرنا ہے بلخصوص مفصل قوانینکے ضمن میں اسے لامحدود مانا تکثیریت و نراجیت میں آتا ہے ،جدید آئین کو فلسفہ آئین و قانون کی اخلاقیت و علت کو بحرحال اہمیت دینی ہوتی ہے ۔
ڈان کا طریقہ واردات :
ڈان کو ساییرل کی شیطانیاں بہت بھاتی ہیں جہاں اسے کوئی کھیل کھیلنا ہوتا ہے یہ سایرل جیسوں کو حساس اجلاسوں کی رویداد تک کے حصول کے لئے مقرر کردیتا ہے ،ورنا ڈان اپنے ملازمین جیسے سائیرل نما کو بروئے کار لا کر کھیل کھیلتا ہے۔
۲۹ ۔۔ستمبر کو بھارت کی سرجیکل اسٹرایک کی دھوکہ بیانی کو پاکستان میں بہت حد تک عیاں کردیا گیا تھا،اور لوگوں کا اس پر اعتماد اور یقین نا ہونے کے برابر تھا،خود بھارت میں بھی کانگریس،اور عام آدمی پارٹی کو بھی اس پر خاص یقین نا تھا۔ کہ اچا نک سائیرل کھسک کر اسلام أباد جا پہنچا ،اسے بعد میں جو ردِ عمل آنا تھا ان سے بخوبی آگاہی تھی ،مگر ساتھ ساتھ اسے مسلم لیگ کی در پردہ حمایت،حکومتی پشت پناہی ،اور بیورو کریسی کی ترغیبات سے زیادہ نئی منتظر شہرت بے قرار کررہی تھی۔
ڈان سے تعلق ہونے کا صاف مطلب تھا کہ پورا یورپ اور امریکہ اس کی پشت پر ہے ،اس کو پہلے صرف انگریزی قارعین جانتے تھے مگر اس کے بعد وہ سوشل میڈیا اور ،گوگل اور اردو دنیا کے ان پڑھ فرد تک کی زبان پر آگیا ،مشرق وسطی دسے یورپ و امریکہ تک اسکا ذکر خاص طو ر پر آیا۔[4]
ڈان کی بھارت کی امداد کرنا تاکہ مودی یو پی وغیرہ میں الیکشن جتوا سکے :
ہم دیکھتے ہیں کہ اس سے بھارت کو اپنی ناکامی اور جعلی اسٹرایک پر کمزوری کا مدآوا کرنے کا موقعہ میسر آگیا سوال یہ ہے کہ اس نے لکھا کیا تھا : سنیں اور غور کریں اس نے وہ کہا جس سے ہم پہلے سے واقف تھے اور دشمن بھی واقف تھے مگر اس پرانی شراب کو سات دن بعد خاص مقام پر خاص لوگوں نے خاص طریقہ سے سے ری مکس کرکے بڑی سکرین پر چلادیا۔
وکی پیڈیا تک پر جلدی جلدی میں کچھ انجانے ہاتھوں نے سایرل کا کچھ سطور میں تعارف لکھ ڈالا جس میں صرف ڈان سے اسکا تعلق اور کالم میں موجود رپورٹنگ ہی وجہ شہرت قرار دی گئی ہے ۔اور لازماً اسکے پیچھے کچھ بھارتی اور دوست دو دو سطور لکھنےوالے لوگ موجود ہیں۔
کالم میں کیا تھا سائیرلانہ داستانِ سیاست میں :
ذیل میں مذکورہ کالم اور اس کا نفس مضمون پیش کیا جاتا ہے :
ISLAMABAD: In a blunt, orchestrated and unprecedented warning, the civilian government has informed the military leadership of a growing international isolation of Pakistan and sought consensus on several key actions by the state.
As a result of the most recent meeting, an undisclosed one on the day of the All Parties’ Conference on Monday, at least two sets of actions have been agreed.
First, ISI DG Gen Rizwan Akhtar, accompanied by National Security Adviser Nasser Janjua, is to travel to each of the four provinces with a message for provincial apex committees and ISI sector commanders.
The message: military-led intelligence agencies are not to interfere if law enforcement acts against militant groups that are banned or until now considered off-limits for civilian action. Gen Akhtar’s inter-provincial tour has begun with a visit to Lahore.
Second, Prime Minister Nawaz Sharif has directed that fresh attempts be made to conclude the Pathankot investigation and restart the stalled Mumbai attacks-related trials in a Rawalpindi antiterrorism court.
Those decisions, taken after an extraordinary verbal confrontation between Punjab Chief Minister Shahbaz Sharif and the ISI DG, appear to indicate a high-stakes new approach by the PML-N government.
The following account is based on conversations with Dawn of individuals present in the crucial meetings this week.
All declined to speak on the record and none of the attributed statements were confirmed by the individuals mentioned.
Foreign secretary’s presentation
On Monday, on the day of the All Parties’ Conference, Foreign Secretary Aizaz Chaudhry gave a separate, exclusive presentation in the Prime Minister’s Office to a small group of civil and military officials.
The meeting was chaired by Prime Minister Sharif and included senior cabinet and provincial officials. On the military side, ISI DG Rizwan Akhtar led the representatives.
The presentation by the foreign secretary summarised the results of the recent diplomatic outreach by Pakistan, the crux being that Pakistan faces diplomatic isolation and that the government’s talking points have been met with indifference in major world capitals.
On the US, Mr Chaudhry said that relations have deteriorated and will likely further deteriorate because of the American demand that action be taken against the Haqqani network. On India, Mr Chaudhry stated that the completion of the Pathankot investigation and some visible action against Jaish-i-Mohammad were the principal demands.
Then, to a hushed but surprised room, Mr Chaudhry suggested that while China has reiterated its support for Pakistan, it too has indicated a preference for a change in course by Pakistan. Specifically, while Chinese authorities have conveyed their willingness to keep putting on technical hold a UN ban on Jaish-i-Mohammad leader Masood Azhar, they have questioned the logic of doing so repeatedly.
Extraordinary exchange
The foreign secretary’s unexpectedly blunt conclusions triggered an astonishing and potentially ground-shifting exchange between the ISI DG and several civilian officials.
In response to Foreign Secretary Chaudhry’s conclusions, Gen Akhtar asked what steps could be taken to prevent the drift towards isolation. Mr Chaudhry’s reply was direct and emphatic: the principal international demands are for action against Masood Azhar and the Jaish-i-Mohmmad; Hafiz Saeed and the Lashkar-e-Taiba; and the Haqqani network.
To that, Gen Akhtar offered that the government should arrest whomever it deems necessary, though it is unclear whether he was referring to particular individuals or members of banned groups generally. At that point came the stunning and unexpectedly bold intervention by Punjab Chief Minister Shahbaz Sharif.
Addressing Gen Akhtar, the younger Sharif complained that whenever action has been taken against certain groups by civilian authorities, the security establishment has worked behind the scenes to set the arrested free. Astounded onlookers describe a stunned room that was immediately aware of the extraordinary, unprecedented nature of the exchange.
To defuse tensions, Prime Minister Sharif himself addressed Gen Akhtar and said that policies pursued in the past were state policies and as such they were the collective responsibility of the state and that the ISI DG was not being accused of complicity in present-day events.
PM’s strategy?
Several eyewitnesses to the incredible events of Monday believe that the foreign secretary’s presentation and Chief Minister Shahbaz Sharif’s intervention were orchestrated by the prime minister to stir the military to action, leading to the decision to dispatch the ISI DG on an inter-provincial tour.
Yet, according to the accounts shared with Dawn, the sparring between the ISI DG and civilian officials did not degenerate into acrimony.
Earlier in the meeting, ISI DG Gen Akhtar stated that not only is it the military’s policy to not distinguish between militant groups, but that the military is committed to that policy prevailing. The ISI chief did mention concerns about the timing of action against several groups, citing the need to not be seen as buckling to Indian pressure or abandoning the Kashmiri people.
Gen Akhtar also readily agreed to tour the provinces at the direction of the prime minister, issue fresh orders to ISI sector commanders and meet with provincial apex committees to chalk out specific actions that need to be taken in various provinces.
According to several government officials, Monday’s confrontation was part of a high-stakes gamble by Prime Minister Sharif to try and forestall further diplomatic pressure on Pakistan. In separate meetings with the army chief, participants describe an animated and energised Mr Sharif, who has argued that Pakistan faces real isolation if policy adjustments are not made.
Government officials, however, are divided about whether Prime Minister Sharif’s gamble will pay off. According to one official, commenting on the ISI DG’s commitments, “This is what we prayed to hear all our lives. Let’s see if it happens.”
Another government official offered: “Wait till November to see if action will be taken. By then a lot of things will be settled.”
Military officials declined to comment.
Clarification:
The spokesman for Prime Minister Office on Thursday denied a story appearing in Dawn on Oct 6 regarding “purported deliberations” of a meeting held on security issues. The spokesman termed contents of the story not only speculative but misleading and factually incorrect, describing it as an “amalgamation of fiction and fabrication”.
Dispelling the impression created by the report, headlined “Act against militants or face international isolation, civilians tell military”, he said that intelligence agencies, particularly the ISI, are working in line with the state policy in the best interest of the nation, both at the federal and provincial levels to act against terrorists of all hue and colour without any discrimination. Indeed the Army’s and ISI’s role and contributions towards implementation of NAP have been proactive and unwavering, the spokesman said. Meanwhile, the office of the chief minister of Punjab also denied the comments attributed to Chief Minister Shahbaz Sharif in the news story.
Dismissing it as a baseless table story, he emphasised that besides his respect for the institution of the armed forces, on an individual level he also had the highest respect for the present ISI DG for his professionalism, commitment to duty and sincerity of purpose.
Published in Dawn, October 6th, 2016[5]
سائیرل کے کالم اور عرف سیاسیہ سے ترتیب کردہ خاکہ :
ہوا یہ کہ تین اکتوبر کو اسلام آباد میں پاک بھارت کشیدگی،بھارتی گیدر بھبکیوں ،اور سرجیکل دعووں پر سیاسی جما
عتوں کی ایک کانفرنس منعقِد ہوئیی( چھ اکتوبر کو سائیرل کی حقیقی یا جعلی کوششوں سے یہ کالم چھپا کہ ) ادھر کچھ دیر بعد وزیر اعطم صاحب نے اسی ٹایمنگ سے ایک خفیہ میٹنگ وزیر اعظم ہاوس میں طلب کی جس میں ملکی سیکیورٹی کے معاملا ت کا جایزہ لیا گیا ۔اس میں کچھ حضرات جنکا تعلق نوکر شاہی او بلخصوص فارن سروس سے تھا وزیر اعظم کو کچھ سمجھا بجھا کر تحریک دلا کر لائے تھے یا وزیر ِ اعظم انہیں گود میں بٹھا کر ٹافیوں کے لالچ پر ساتھ لائے تھے یہ امر واضح نہیں ہے ۔
اوپر سائیرل شیطان بھی ادھر ادھر گھوم پھر کی کن سنیاں لینے کی کوشش میں مشغول تھا،خیر گفتگو و شنید ،تبادلہ خیال ہونے لگا ،تجاویزات،محرکات،زیر ِ بحث آئے(ممکن ہے کہ اسے خبر دی گئی ہو یا اس نے کراچی بیٹھے بیٹھے کھیل کھیلا ہو یا اسے مجبور کیا گیا ہو ؟) ۔
ڈھکے چھپے انداز میں فوج اور آئی۔۔ایس ۔آئی کو پاکستان کی عا لمی علیجد گی کا سبب گردانا گیا،جس پر جنرل رضون سے منہہ ماری بھی ہوئی اور کہا گیا کہ ملٹری ایجنسیاں اور فوج پولیس و رینجرز کے ہاتھوں سے دہشت گردوں کو چھڑوا لیتی ہے ۔اور یہ سول معاملات میں مداؒخلت کرتی ہیں ۔
ا عزاز چوہدری اور ہمنوا کے خیال میں ہمیں اپنی فارن پالیسی میں کچھ ہنگا می تبدیلیوں کی ضرورت ہے اب ،غالباً پریزینٹیشن انھی نے تیار کی تھی ،دو تین وزرا بھی ساتھ تھے کون تھے یہ معا ملہ واضح نہیں غالباً خواجہ آصف ،چوہدری نثار اور پرویز رشید ہونگے وزیر اعظم کے پریس سیکرٹیری محی الدیں وانی اور وزیر اعلی پنجاب کا مشیربھی اپنے اپنے شعبہ جات کے مطابق شامل تھے ،یوں یہ میٹنگ ،داخؒلہ ،خارجہ ،دفاع و اطلاعات کی وزارتوں کا سنگم تھی۔[6]
کسی نے اعتراض کیا کہ بھئی ہم کب تک چین کے ذریعے مسعود اظہر کے معاملے کو ٹال کر بھارت و امریکہ سے دشمنی مول لیتے رہیں گے ،حقانی نیٹ ورک اور جماعت الدعوۃ کے خلارف کاروائی نہیں کرتے اب تو چین بھی ڈھکے چھپے انداز میں احتجاج کرنے لگا ہے ۔
جنرل رضوان نے واضح کیا کہ ہمارا اس طرح کا کوئی تعلق نہیں جیسا تاثر آپ دینا چاہئتے ہیں ،پولیس اگر پکڑتی ہے تو کورٹ عدم شواہد پر بری کردیتا ہے ،بلا ثبوت الزام تھونپنے سے کوئی مجرم نہیں ہوجاتا ہے (عرف سیاسیہ) ۔
جو آپ کا کام ہے وہ آپ کریں جو ہمارا ہے وہ ہم کرینگے ،ملکی مفاد ہمیں سب سے مقدم ہے اور بھارت سے ڈکٹیشن لیکر کشمیری لوگوں کو محروم اور بے آسرا چھوڑنا کوئی عقلمندی اور انسانیت نہیں ہے(عرف سیاسیہ) ۔
اس ضمن میں بتایا جاتا ہے کہ فیصلہ یہ لیا گیا کہ وہ قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ کے ساتھ چاروں صوبوں کو خود دورہ کرکے یہ غلط فہمی دور کرینگے اور یہ ہدایت صوبائی ایپکس کمیٹیوں اور آئی۔ایس۔۔آئی سیکٹر کمانڈروں کو دینگے کہ وہ گرفتار دہشت گردوں کے خلاف کاروائی میں مداؒخلت نا کریں ،پٹھان کوٹ مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے مذید یہ کہ ممبئی حملہ کیس راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں از سر نو چلا جائے ۔
کالم کا مشاہدۃ النفس :
اگر ہم اس کالم کا مشاہدۃ النفس کریں ،اسکی جرح پھٹک کریں تو کئی معاملات غور طلب ہیں اور کئی امور وضاحت کے محتاج ہیں :
حکومت کا موقف :
۱۔ یہ کالم حکومت کے مطابق غلط معلومات اور افسانہ طرازی سے پر ہے اور افواج ِ پاکستان ،آئی ۔۔ایس آئی سب وزیر اعظم کے ذیل اپنے فرایض بخوبی سر انجام دے رہے ہیں جو ہمارا اہم اساسہ ہیں اور ہمارے لئے قابل ِ احترام ہیں،مذید شہباز شریف سے متعلق خبر صریحاً جھوٹ ہے۔۔ ڈان نے سات تاریخ کے اپ ڈیٹیڈ کالم میں حکومت کی یہ وضاحت شایع کی تھی مگر اپنی معلومات کی اسناد سے دستبرداری سے پرہیز کیا اور وثوق پر اصرار کیا گیا ۔
۲۔ حکومت کے کسی ذمےدار فرد نے اس قسم کا کوئی افشا ئے راز نہیں کیا باقی دودھ کا دودھ پانی کا پانی تحقیقات میں ہوجائےگا جو خود حقیقتاً مذاق کن امر ہے اور اکتوبر کا اختتام ہے کوئی اتا پتا نہیں ہے۔
اگر حکومت دروغ گوئی اور دغا سے کام لے رہی ہے تو ؟ :
۳۔ وزیر اعظم نوز شریف اور انکی ٹیم جنرل رضوان کو گھیرنے،دباو میں لانے کی حکمت عملی کے ساتھ آئی تھی اور انکی پالیسیوں کو مناسب نہیں جانتی تھی ، اور ڈھکے چھپے الفاظ میں ۱۹۹۹ والی حرکت کو پرویز مشرف کی افتخار چوہدری کوطلب کرنے والی حرکت کے ساتھ آزما رہے تھے بصورت یہ کہ یہ خبر سچ ہو ورنا یہ سازش و بہتان جانی جائیگی۔
۴۔ پاکستانی حکومت نے فوج کو اندررون َ خانہ بھارتی مطالبے کو ماننے پر مجبور کرنے کی کوشش کی تھی ۔
۵۔ پاکستانی حکومت کی دوغلیت عیاں ہوگئی کہ وہ خارجہ سطح پر الگ بیان دیتی ہے اور اندرون ِ خانہ کچھ اور کہتی،کرتی چلی آئی ہے۔
۶۔ نواز شریف نے شہباز شریف کو کس بنیاد پر ایسی حساس میٹنگ میں بٹھایا جبکہ دیگر صوبوں کے وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر بھی موجود نہیں تھے، شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں یا پاکستان کے جو وہاں نا صرف موجود تھے بلکہ انھوانے ایک با عزت ادارے کے فرد و منتظم سے اپنی حدود سے تجاوز کرکے جرح پٹھک کی ؟اگر پنجاب میں انکے تحفظات تھے تو پنجاب میں وزیر اعلیٰ کی حدود میں ان سے ملاقا ت کرتے مذید براں یہ کہ کیا آئی ۔۔ایس ۔۔آئی صوبائی قیادت کے آگے جواب دہ ہے؟ یہ کئی سیاسی۔انتظامی اور نوعیت کے مسایل ہیں جنکہ جواب نواز شریف اور خاندان سے مطلوب ہیں ۔۔
۷۔ کیا نواز لیگ اور دیگر سیاسی قیادتیں ،قومی دہشت گردی اور جرایم کی پشت پناہی نہیں کرتے اور قانون ساز اداروں پر اثر انداز ہوکر ملزموں کو آزاد نہیں کرواتے چھوٹو گینگ جیسے جرایم پیشہ افراد کس کی دین تھے؟۔
۸۔ وزیر اعظم نے اقوام ِ متحدہ میں جعلی تقریر کرکے لو گوں کو بے وقوف بنایا تھا ،جبکہ اندرون ِ خانہ وہ بھارت سے معاملات طے کرہے تھے۔
۹۔وزیر اعظم راحیل شریف سے اور انکی مقبولیت سے جل کر راکھ ہو رہے ہیں اور انکی رٹائرمنٹ کے قریب انکو دن میں تارے دکھانا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام کو یہ سبق دینا چاہتے ہیں کہ انکے پاس ان سیاست دانون کے علاوہ کوئی اور دروازہ نہیں ہے حال میں سولہ مملک کے فوجی ممالک میں راحیل شریف مہمان ِ خصوصی تھے دروازے عام عوام کے لئے بھی کھلے تھے مگر وزیر اعظم اور انکی ٹیم میں سے کوئی بھی نا تھا ،ظاہراً اس فوجی تقریب میں وزیر اعظم کا موجود نا ہونا ممکن ہے معقولی نا ہو مگر لاہور کی عام عوام کے درمیان راحیل شریف کا ہونا اور اسکی میڈیا کوریج انکی مقبولیت کی علامت تھی۔
۔۱ُْ ۔ پاکستانی عدالتوں نے جو حافظ سعید و مسعود اظہر کو جو رہا کیا وہ سب کیا غلط فیصلے اور دباوسے پرامر تھے؟ کیا حکومت سے عدلیہ خارج ہے اور کیا فوج کی طرح عدلیہ بھی حکومت کو الگ حریف شعبہ لگتا ہے؟ ۔
میرا نام سا یرل ہے اور میں صحافتی دہشت گرد ہوں :
۱۱۔۰۔اکتوبر کو سایرل نے پھر ایک اور تفریحی اور ذو معنی کالم لکھ مارا جس میں شیطانی أزادی کو برائے کا رلایا کہ : پیغام دے دیا گیا ہے ،کیا وہ پنجاب میں اسلحہ بردار حکمت عملی میں غلطی پر تھے اور کیا انھونے اس وقت غلط اندازے لگا کر فیصلے کیے تھے ۔انکو ویسے تو اس مسلحہ جتھے بندی سے خاص مسلہ نا تھا مگر تین تبدیلیاں رونما ہویئں ہیں انکی حکومتی عملیت کے بعد :
اول یہ کہ راحیل نے فارن پالیسی پر قبضہ جمالیا ہے ،مسلحہ گروہ انکی معاشی مفادات اور حکمت عملی کی راہ کا روڑا بن گئے ہیں اور یہ کہ فوج پنجاب میں آپریشن کو بے قرار ہے ۔راحیل شریف کے سبب ہمارے تعلقات انڈیا،ایران اور افغانستان سے ابتر ہوئے ہیں اور ہم نے اپنے پرانے ساتھی سعودیہ کو بھی دوغلہ پن دکھا دیا ہے ۔
راحیل شریف نے شروع سے انڈیا مخالفت کا رویہ اپنایا ہوا ہے اور اس سے فاصلے پر رہے ہیں جس میں مودی کی سستی اور گرج نے اور اضافہ کردیا ہے۔اور اب فوج پاکستان مخلاف عناصر کے خلاف پنجاب میں آپریشن کوپرتول رہی ہے،جس کے سبب انکا مسلم لیگ سے تصادم ممکن ہے۔دنیا جہادیوں سے پریشان و ناراض ہے تو ساتھ میں ہم عالمی سطح پر سفارتتی علیجگی کی طرف جارہے ہیں اور راحیل شریف بھی نومبر میں تشریف لے جارہے ہیں،دیکھیں نیا نوجوان [7] کون آتا ہے اور اگلے نومر تک میچیور ہو چکا ہوگا ساتھ میں الیکشن بھی قریب ہونگے ۔
اور کوئی ایک ہی میٹنگ کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایسی تو کئی میٹنگز اور پریزینٹینز [8] ہیں جن میں چیف بھی شامل تھے ،أرمی نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہا مگر نواز لیگ کا خیال ہے ان شریر جنگجووں کو ہم نے نہیں تخلیق کیا جو ایوان میں قراردار لاکر انکی مذمت پر وقت زایع کیا جائے ،اور پنجاب میں آپریشن کیوں یہ پنجاب ہے کراچی نہیں َ؟
نواز بھائی یو ٹرن سے زیادہ فوری اور یکا یک فیصلوں میں دلچسپی رکھتے ہیں ،چیف صاحب أرمی میں کچھ تبدیلیاں لا سکتے ہیں ساتھ ساتھ آئی ۔۔ایس ۔۔۔آئی میں بھی اکھاڑ پچھاڑ نئے ممکنہ چیف کے ضمن میں ممکن ہیں پتے بھی تو انھی کو کھیلنے ہیں ۔دلچسپ دن قریب ہیں ۔[9]
چوہدری نثار کے ہاتھ سیاسی مجبوریوں نے باندھے ہوئے ہیں جبھی چار دنوں کی انکوائیری ایک زبانی دعویٰ کے درجے سے باہر قدم نہ نکال سکی اور جب اپنے ہی گھر مکین اس میں شامل ہوں تو سیاسی جرایم اور انکی اطلاقی شکل حکومی جرایم میں سب شریک ہوتے کا مصداق بنکر انھیں لب سینے پڑے۔
مگر اس سارے معاملے میں یہ امر بڑا غور طلب ہے کہ نواز شریف کو کیا بھولنے کی بیماری ہے کہ ۱۹۹۹ ؑ کے فوجی انقلاب نے بھی انھیں یہ باور نا کروایا کہ عقل مند آدمی کبھی ایک غلطی بار بار نہیں دوہراتا ہے ،پھر انھونے ایسی معصومانہ غلطی کا ارتکاب کس کے دم پر کیا؟
۱۲۔ کیا انھیں کسی بیرونی قوت کی یقین دھانی ہے کہ اب کی بار فوج وہ حرکت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔
۱۳۔ میڈیا کی نئی غالب ذہن ساز قوت کے ہوتے فوج کامیاب نہیں ہوسکتی ۔
۱۴۔ ترک ناکام انقلاب نے انھیں حوصلہ دیا کہ اب کی بار فوج نے کچھ کیا تو اسے منہ کی کاھنی پڑے گی۔
۱۵۔ عمرانی دھرنے فوج کی آشیرواد سے ہیں جبھی آر یا پار کردو عمران بھی ویسے یہی چاہتا ہے تو ہم جرات سے خود کیوں پتے نا کھیل لیں ؟۔
۱۶۔ انھیں خود فوج کے کسی نئے متوقعہ چیف سے ایسی جرات حاصل ہوئی یہ امر ویسے تو خارج از امکان ہے ۔
ایک نیا موڑ معاملہ کچن کیبنٹ کی سازشوں سے عمل میں آیا :
۱۷۔ یہ کسی گھریلو فرد کا کارنامہ ہے : یہ نقطہ کچھ خبروں میڈیا تحقیقات کے ضمن میں اپنا مقام بنا رہا ہے کیسے ؟
سما ٹی وی نے حال میں ان خبروں کے پیچھے کسی خاتون کی قیادت میں ہونے والے کارنامے کا اشارتاً ذکر کیا ہے جسے سوشل میڈیا میں مریم نواز کے نام سے پیش کیا جارہا ہے ،معرکہ پاناما کے بعد مریم کی سیاست کے متحرک منبع ہونے کی طرف یہ اہم کلید ہے جس میں پھنس کر مریم کا سیاسی مستقبل صرف مسلم لیگی حکومتوں کے امکانات تک محدود ہوسکتا ہے اور اسے موسمی سیاست ہی گردانا جاسکتا ہے۔
سیاست۔پی۔۔کے[10] کے مطابق اس معاملے کے پیچھے جو نام موجود ہیں ان میں سرے فہرست مریم نواز،مشاہد اللہ،پرویز رشید،احسن اقبال ۔فواد حسن فواد شامل ہیں ۔ایک اندرونی خبر کے مطابق ایک وزیر (پرویز رشید؟) نے ایک میڈیا گروپ(جنگ؟) کے نچلے درجے کے عملے کو خبر لگانے کی ترغیب دی جس نے اپنے عاجزی ظاہر کرکے اس حساس معاملے کو مالکان سے رجوع کرنے کے مشورے سے آگے بڑھایا ،مالکان نے بھی انکار کرکے ڈان گروپ کو اس کے لئے موزوں قرارد دے کر اٌن سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا اسکا سبب ایک تو غالباً یہ ہوگا کہ اسکے مالکان کا مسلم لیگ سے تعلق جانا مانا ہے ،اور انکو ذرا حکومتوں کا خوف اپنی عالمی لبرل اقدار سے وابستگی اور عالمی حمایت و امداد کے سبب کم ہی ہے۔
وزیر اعظم کی آنکھوں کے تارے طاقتور نوکرِ شاہی فواد حسن فواد نے ان منٹس کو امبر سہگل جو ڈان کے مالکان میں سے ہیں سے بات کے بعد ڈان کو فراہم کردئیے ۔امبر نے اس کو سائیرل کے سپرد کردیا جس نے اسے اپنے مزاج سے ہٹ کر سنجیدہ ملع کاری کرکے ڈان میں چھپواد دیا(ڈیلی ٹایمز۔۱۹۔اکتوبر۔۔۲۰۱۶ )،[11]
اس بابت اور بھی کہا سنا گیا جیسے کہ ڈان کے ایڈیٹر اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر بھی اس سے بے خبر تھے،ایک تاثر یہ دیا گیا کہ وزیر اعظم بھی اس میں شریک نا تھے مگر ایک آئیندہ کالم میں سائرل کا تاثر یہ تھا کہ ایڈیٹر صاحب کی ہمت افزائی کے سبب مجھے بڑی جرات اور حوصلہ ملا ۔
فریحہ ادریس نے احمد قریشی سے نیو ٹی وی میں گفتگو میں اپنے سابقہ ڈان کے ملازم ہونے کے تجربے کی روشنی میں اس قسم کی حرکت کو ڈان کے نام ،مقام اور سابقہ اصولوں کے منافی گردانا ،اور اسے کوئی غلطی قرار دیا اور حیرت کی کہ بیی۔بی۔۔سی کے تجربہ یافتہ ایڈیٹر سے ایسی غلطی ممکن نہیں۔
اب خبر کو دیکھیں تو اس میں ایڈیٹر کو نا واقف اور سائیرل کو صحافتی اقدار کی روشنی میں محقق ِ خبر نہیں ایک آلہ کار گردانا گیا ہے۔
اگر یہ مانا جائے کہ وزیر اعظم اس پورے معاملے سے بے خبر تھے تو یہ ایک سنگین و فاش غلطی اور انکی اپنے فرض سے ناواقف ہونے اور حد درجہ کمزور ہونے کا ضامن امر گردانا جائےگا کہ انکی بیٹی کیسے پورے ملک کو اور قومی سلامتی کے معاملات میں مداخلت کر رہی ہے ۔
اس لئے یہی معقولی امر محسوس ہوتا ہے کہ دونوں ہی اس میں شریک تھے ۔
مگر اس سے اہم سوال یہ ہے کہ اس خبر کو اتنا کیوں اچھالا گیا جتنی یہ اہم ہے نہیں کیونکہ راحیل شریف اور فوج سے مسلم لیگ کے اختلافات کو ساری دنیا جانتی ہے یہ الگ بات ہے کہ رسمی طور پر انھیں تسلیم نہیں کیا جاتا ہے مشرف کا معاملہ ہو،پنجاب میں آپریشن کا معاملہ ہو،کراچی کے آپریشن میں کئی دفعہ رخنے ڈلوائے گئے ہوں،خارجہ معاملات ہوں،بھارت سے تعلقات کے معاملات ہوں ،کہانی کو اعتراض اس پرہے کہ کس نے اس سیاسی لطیفے کو حقیقت کی شکل دے کر پھیلا دیا ۔
دونوں جانب اندرون ِ خانہ ایک دوسرے پر تحفظات موجود ہیں اور اس میں بھر حال نقصان وزیر اعطم کا زیادہ ہے پانامہ کا معاملہ ہو یا،طاہر القادری کے قصاصِ لاہور کی تحریک ہو یا الطاف حسین کی بریت اور حکومت کا اس میں درپردہ پیچھے ہٹنا ،امداد میں کوتاہی کرنا سب انکے گلے میں پھنسے ہوئے ہیں مذید یہ کہ الیکشن بھی قریب آتے جا رہے ہیں۔
حکومت نے اصل میں رائے کو پہاڑ بنا کر غلط وقت میں خود کو پھنسا لیا ہے اس میں جو سب سے اہم معاملہ ہے کہ شہباز شریف نے کس استعداد میں یہ فضول گوئی کی ،مریم نواز کا وزیر اعظم کی اولاد سے خارج کیا قومی مقام ہے ؟۔
اگر ایسی قدریں اپنا اثر شخصیت پرستی اور نسل پرستانہ فکر کے ذریعے جواز فراہم کرنے لگے تو راحیل شریف،مشرف،الطاف حسین کی بیٹے ،بیٹیاں بھی پاکستان میں طاقت کے ماخذ ہونے کے سبب لوگوں کی ملکی تقدیروں سے کھیلنے لگیں گے۔
تمام صدیقی،فاروقی،عثمانی نسلیں اپنے اباواجداد کی خلافتوں کے جواز میں عہدے اور مقام مانگنے میں سنی دینا سے مدد لینگیں،تمام سید علوی ،موسوی، علیؓ اور حسن ؓ کی خلافتوں و نسلوں پر اگے آئنگے اور ایک دن لوگ سب کے خلاف نکل کر ملک میں ایک نراجیت اورایک انقلاب لے آئنگے اور کوئی نسل سنل کا کھیل کھیلنے لگے باقی سب اچھوت گردانے جائینگے۔
نواز سریف نے راحیل شریف کے آخری ماہِ روزگار کو پر امن ،پر مطمین بناکر رخصت کرنے کی جگہ ایسے وقت میں آبیل مجھے مار والی سابقہ غلطی دہرائی ہے۔
ظاہراً تو وہ اسکے منکر ہیں مگر تحقیقات،تجزیات،کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیے دال میں کالے ہونے کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔
ڈان گروپ اس خبر کو شروع سے قبول کررہا ھے اور اس نے اپنی غلطی کو قبول بھی نہیں کیا ہے زیادہ سے زیادہ اس میں یہ نوٹ بڑھادیا گیا کہ :حکومت نے اسے جھوٹ ،کذب اور حقائق کے منافی گردانا ہے ،جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں اعزاز چوہدری،وانی،اور دو تین وفاقی وزرا کا تو نام لیا تھا مگر مریم کا نام نہیں لیا تھا۔
انھونے اور عامر ہاشم خاکوانی نے سایرل کو جوشیلا اور جرات مند گردانا ہے ۔مگر جاوید چوہدری نے ساتھ یہ بھی کہا کہ میڈیا کا کام خبر پہنچانا ہے جبھی سایرل کو بخش دیا جائے ،جنرل پرویز مشرف کے مطابق جس نے خبر دی اسکو کٹہرا میں لایا جائے یہ ایک بلیغ نقطہ یوں ہے کہ انھونے مجھول کرداروں کو اشارے میں سمولیا ہے۔ڈان گروپ پھر لبرل ،پروفیشنل مباحث کو بنیاد بنا کر اپنے چینل میں اسکا دفاع کر رہھا ہے۔انکا موقف کسی قانونی اور فلسفیانہ دلیل کی بجائے مروجہ عرف ِ ابلاغیات کی طرف ہے اور ایک دو دفعہ تو مہر عباسی اور دیگر نے اسے آئین ِ پاکستان کی دفعہ :انیس کی روشنی میں جواز دینے کی کوشش بھی کی ہے حلانکہ خود حکومت ِ پاکستان کے طبع شدہ آئین اس آزادی رائے کی دلیل پر کچھ تحدیادات عائید کرتا محسوس ہوتا ہے جسکا مشاہدہ ذیل میں کیا جاسکتا ہے :

اس میں واضح طور پر آزادی رائے و تقریر کو سلامتی و دفاع اور اسلام کے تابع ہونے کی طرف اشارہ دیا گیا ہے ،پاکستان میں بے چارے اسلام کو کوئی عملی طور پر کم ہی خاطر میں لاتا ہے جبھی ہم نے اسکا نام کم ہی لیا ،ڈان وغیرہ کو اس سے ویسے بھی اللہ واسطے کا بیر ہے اسلام کی روشنی میں تو یہ سب فکر زندیقیت کے دایرے میں داخل ہو سکتی ہے کہ ظاہر میں تو مذہب کا منکر و مخالف نا ہو مگر باطن ،فکر و تحریک سے یہی تاثر ملے۔
سابق چیف جسٹس ۔افتخار محمد چوہدردی، نے بھی یہ امر پہچان کر وزیر اعظم کے نام خط میں مذکورہ صحافی،اخبار اور مطلوب فرد کے خلاف آفیشل سروس ایکٹ۔۱۹۲۳۔پاکستان کی دفعات :۳،۵،۸،۹،۱۰ کی رو سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اصل میں اگر یہ معاملہ حقیقتاً درست ہے تو اس کے پس ِپشت صرف بھارت کی طرف جھکاو نہیں ہے اور نا خالصتاً کاروباری معاملات ہیں۔ کیونکہ کاروبار اور تجارت ،کے معاملات جدید سرمایہ داراہ لبرل قدروں کی رو سے عالمگیر ہیں اس پر تحدیدات مغربی عالمی اداروں،حکومتوں اور سرگرمیوں کے منافی ہے ۔ جبھی نواز شریف سے ہٹ کر بھارت کے سرمایہ دار بھی تعلقات کے ضمن میں اپنی حکومت پر لازماً دباو ڈال رہے ہونگے کیونکہ جنوبی ایشیا میں بھارت پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شریک ہے اور جس میں اربوں کا توازن بھارت کے حق میں ہے جبھی ان کا انفرادی وجود مسایل تک بھلے کچھ اثر رکھتا ہو مگر انکو واحد عنصر نہیں گردانا جاسکتا ہے۔
اس کے پس پشت کئی محرکات ممکن ہیں ایک تو پاک ،روس تعلقات،پاکستانی قوم کا حد درجہ بڑھتا فوج موافق رجحان اور بھارت مخالف رویہ ،نواز شریف کی بڑھتی حکومتی کمزوری،عمران خان کی تحریک ان سب کو نواز شریف ایک رائی سے فتح کرنے لگے ہیں ۔اور اس رائی کے ذرئعے انھونے مودی کے بھارتی انتخابات کو کامیاب کرانے کی کوشش کی ہے ۔اس مسلے سے لوگوں کی توجہ کشمیر سے ہٹ گئی ہے فوج پر ایک دباو بھی ڈالا گیا ہے کہ ذیادہ نا اڑو پر کترے جاسکتے ہیں،نیا چیف کون ہوگا ممکن ہے کسی سے اندرون ِ خانہ معا ملات طے ہو رہے ہوں۔سب سے اہم عنصر امریکہ کی آشیرواد جو مسترد کرنا قریباً نا ممکن نہیں ہے۔
والسلام
[1] Sunday Images .daily .dawn karachi.
[2] Epicurean and Utilitarian values
[3] "Muharram’s passion plays". Sunday Images.Daily dawn.khi.pp:6-7.9.oct.2016.
3. www.thehindu.com/news/.../dawn-journalist-cyril-almeida.../article9207331.ece
4. qz.com/.../dawns-cyril-almeida-how-a-pakistani-journalist-got-caught-in-the-crossfire
5. www.firstpost.com › World News
[7] Chap is the word he used in his column.