شب برات کے وجود کا ایک علمی و تحقیقی جایزہ:ڈاکٹر محمد علی جنید

شب برات کے وجود کا ایک علمی و تحقیقی جایزہ


از:ڈاکٹر محمد علی جنید





 

یہ ناچیز  چونکہ خود ایک پیر کا نواسا رہا ہے اور ایک بدعات میں جری بریلوی گھرانے  اور جادو ٹونے پر یقین کرنے والے گھرانے کا چشم و چراغ رہا ہے،جبھی اسے اس مسلک اور اہل بدعت کے عقاید کا حال بخوبی معلوم ہے، لہذا مجھ سے زیادہ اور کون ان بدعات اور ان سے منسوب خرافات کو جان پایگا ،جب مجھے ایسے تہواروں پر حلوے مانڈے اور شیرمال بانٹنے کے لئے  ایک علاقہ کے  چالس پچاس گھرانون میں ثواب کی نیت سے بھیجا جاتا تھا ،تو  ایسی حالت میں کئی سو شیرمال ،قورموں اور بریانی کا بوجھ اٹھا کر گھر گھر حکم کی بجاآوری میں جانا اور اسکا درد برداشت کرنا مجھے بخوبی یاد ہے۔

 چناچہ ماسوائے اس فرد کے جو اہل بدعات کے ہاں پیدا ہوکر سچ و جھوٹ ،محقق و غیر محقق خبر موصول ہونے  کے باوجود ماں و باپ ،دادا و چاچا کے عقیدوں کو برا جانک ر بھی ان پر جمے رہنے والا ہی مجھ سے زیادہ ان چیزوں سے واقف ہوگا،کیونکہ میں تحقیق کے طویل سفر میں تحقیق کو عمل میں لانے کے لئے تحقیق کے عین مطابق نا صرف ان بدعات سے کم عمری یعنی میٹرک سے دور رہا تھا بلکہ ان بدعات سے بچنے کی ترغیب دوسروں کو بھی  دیتا رہا تھا ،مگر وہ بدعتی جو تاحال ان خرافات اور غیرمحقق امور میں پھنسا ہو تو اسکو ایک لاکھ توپوں کی سلامی پیش کی جائے ، کیونکہ ابلیس کو بھی اپنے موقف کی غلطی کا حال معلوم ہوگیا  تھا مگر اپنے رب کی توحید میں اس نے حرف آنے نا دیا،مگر اپنی گستاخی میں دیگر مابعد آنے والوں کو اپنے گروہ میں شامل کرنے کی اجازت اس نے اپنے گمراہی کے منصوبے کی تکمیل کے لئے  اول روزسے ہی حاصل کرلی تھی۔

 

اب ہم پندرہ شعبان کی رات اور اسکی مناسبت سے موجود عقاید و اعمال اک جایزہ لینے کی کوشش کریں گے۔ہم دیکھتے ہیں کہ فارسی زبان کے لفظ شب کے معنی رات کے لئے جاتے ہیں جبکہ برات سے مراد قطع تعلق،بندھن ٹروانا یا آزادی حاصل کرنے کے ہیں،چناچہ اس رات کے ماننے والے شریعت سے آزادی حاصل کرکے بدعت و گمراہی کی غلامی اختیار کرکے خود کو ڈھیڑھ مذہبی اور باپ داداوں کی روحوں کو خوش کرنے قبرستان جا پہنچتے ہیںا ور قبرستانوں کو حوروں کی طرح سجا کر دلکی تشفی کا سامان پیدا کرتے ہیں۔

 

شب برات کی رات کی بابت علما کرام اور عامتہ الناس میں بہت زیادہ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں،علمائے بریلویہ کی رو سے اس رات کے جواز میں صحیح ،غلط،،ضعیف و موضوع جو مل جائے اس سے مسلہ کی قوت کو امداد فراہم کرکے اسکا جواز ثابت کرنا ہی درست عمل ہے۔روافض کی رو سے  ۱۵ شعبان ۲۵۵ھ کو امام مہدی کی پیدائش ہوئ تھی چناچہ ، وہ اس رات امام مہدی کے جلد آنے کی دعائیں کرتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں ،جبکہ انکے برخلاف علمائے دیوبندیہ میں اس بابت دو گروہ ملتے ہیں ایک حیاتی دوسرا مماتی ہم دیکھتے کہ حیاتی گروہ جس میں چوٹی کے قدیم علما جن پر دیو بندیت کا استحکام ہے ،کہتے ہیں کہ اگر چہ اس رات سے بہت سی بدعات وابستہ ہیں مگر اسکی کچھ نا کچھ اصل صحیح و ضعیف احادیث سے ثابت ہے،یہ گروہ بریلویوں میں موجود اس رات کو اجتماعی طور پر منانے،قبرستان جانے کا تو زیادہ قایل نہیں ہے،مگر بحرحال اس رات کو عبادت کا انفرادی طور پر قایل ہے۔

 

بریلویہ تو خیر اس بابت صحیح و غلط کی تفریق کی عقل سے قاصر ہیں چناچہ یہ لوگ روایات کی تحقیق و صحت کی جگہ تعداد روایات سے اپنے موقف میں مضبوطی پیدا کرنے کی کوشش میں ہر حد پھلانگ لیتے ہیں،اس ضمن میں انھیں مواہب لدنیہ ،خصایص الکبری یا اخبار مکہ کی الٹی سیدہی رطب و یابس روایات لینے میں بھی  کوئی شرم و محصوس نہیں ہوتی ہے۔

 

خیر یہ سارے علما جتنی چاہے قوت لگالیں یہاں  اس رات کو جاگنے اور قبرستان جانے کے اجتماعی اعمال و رسومات کا جواز نبی اکرمﷺ اور صحابہ کرامؓ سے لیکرتابعین و تبعہ تابعین کے دور تک نہیں ملتا ہے۔ہاں اتنی بات  اصل بحث میں ضرور موجود ہے کہ اس رات ایک دفعہ عام معمول کی طرح نبی اکرم خاموشی سے قبرستان گئے تھے،مگر نا انھونے لوگوں کو اسکی ترغیب دی،نا انکو اس خبر لگنے دی،اور نا صحابہ نے اسے منایا،مگر ساتھ ساتھ اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اس ماہ نبی اکرمﷺ استقبال رمضان کے ضمن میں رمضان کی ابتدا سے کچھ قبل تک روزے رکھا کرتے کرتے تھے،چناچہ اسکا رد کرنا ضروری نہیں محسوس کرتا ہوں۔

 چناچہ: اس بحث میں شب برات اور پندرہ شعبان کو دو الگ الگ مقام اور منھج سے دیکھنے کی  اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے،روافض نے اپنے بارہویں امام کے اعزاز میں اسکی فضلیت  کا سامان پیدا کیا ہے ، یہ وہ وقت تھا جب روافض عباسی سلطنت کے عہد زوال میں آل بویہ کے سبب سیاسی قد و قامت حاصل کرنے لگے تھے،ان میں نت نئی رسومات  اجتماعی طور پر منانے کا چلن عام ہوچکاتھا تو اہل بدعات کے سلف نے اس رات کو ان سے اخذ کرلیا ،مگر چالاکی یہ دکھائی کہ پندرہ شعبان سے متعلقہ ضعیف و موضوع روایات سے اپنا مفروض شدہ  دعوی ثابت کرنے کی کوشش کی خوش قسمتی سےانہیں حدیث عایشہ میسر آگئی ،جس میں نبی اکرم کی تلاش میں وہ اپکو گھر میں نا پاکر قبرستان تک جاپہنچی اور وہان اپکو قبرستان والوں کے لئے دعائے مغفرت کرتے دیکھا،حلانکہ عایشہ ؓ کی اس روایت سے صاف واضح ہے کہ نبی اکرم ﷺ خاموشی سے گئے تھے،اپنے اس رات کو قبرستان جاکر یا اس سے قبل بعد کبھی اسکی ترغیب نہیں دی،،مابعد صحابہ کرم یا عایشہؓ سے اخذ روایت کرنے والوں سے اتنے بڑے پیمانے پر اجتماعی عبادت کا معمالہ آگے کبھی  دیکھا سنا نہیں گیا،،نا ہی  عایشہؓ کو  خود اس روایت  پر کبھی عامل دیکھا گیا،،یا اس سے وہ معنی و مفہوم لیتا پہچانا گیا جیسا کہ اہل بدعات کا معمول ہے،اس روایت کی اصل آخر میں بیان کی جایگی۔

 

ایک اور طرفہ تماشہ یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ اس رات کو اور لیلتہ القدر کو  باہم ایک جان کر خلط ملط کردیتے ہیں حلانکہ فیصلہ اور برکت والی رات لیلتہ القدر کی رات ہے  یہی وہ رات جس میں قران اترنا شروع ہوا تھا ،اور اسے رمضان کے آخری عشرے میں طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے،مگر اہل علم کا ایک گروہ ستایسویں شب  کو اس رات کو مقرر کرتا دیکھتا ہے۔

 

 اسی طرح اج کل کچھ لوگ تصوف سے بدعات تک کو امام ابن تیمیہ سے ثابت کرنے کے لئے خوب ہاتھ پیر مار رہے ہیں یہاں بھی کچھ لوگوں نے انکے قول سے غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی  چناچہ امام ابن تیمیہ کے متعلق دعوی کیا گیا ہے کہ انھونے اس رات عبادت  کو پسند کیا ہے،چاہے انفرادی طور پر ہو یا چاہے اجتماعی طور پر ہو،اول تو امام صاحب کی ہر بات کی تقلید کرنا اور انکے ہر موقف کو اپنانا کوئی فرض عمل نہیں ہے، مگر ساتھ یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ وہ  کیا نصف شعبان کی رات کو عبادت کا جواز تسلیم کر رہے ہیں یا شب برات کا وجود مان رہے ہیں  ، یہ تو واضح ہے کہ اس رات کی بدعات اور ،اس سے متعلقہ عقاید و افکار کو انھونے کبھی  تسلیم نہیں کیا ہے اور نا نوافل کے لئے اجتماعی طور پر مساجد میں فجر تک جمع ہونے اور جمع ہوکر قبرستان میں مرد زن کے اجتماع و اختلاط کو تسلیم کیا ہے۔

 

فتاوی امام ابن تیمیہ:ج:۲۳:صہ:۱۳۱

 

 عین اسی طرح عبدالرحمان مبارکپوری نے بس اتنا مانا ہے کہ مختلیف روایتوں کے مجموعی کلام سے پندرویں  شعبان کی رات کی کسی اصل کا حال معلوم ہوتا ہے  انھونے بھی،کہیں بھی شب برات کے نفس مضمون اور اسے متعلقہ خرافات کو تسلیم  نہیں کیا ہے۔

(علامہ عبدالرحمان مبارکپوری: تحفتہ الاحوزی:جہ:۲:صہ:۵۲،۵۳)

یہی موقف کافی حد تک،بنوری ٹاون کے فتوی اور مفتی تقی عثمانی کے فتوے سے معلوم ہوتاہے۔

 

 ہم دیکھتے ہیں کہ قران حکیم بھی ایک بابرکت رات کا ذکر کرتا نظر آتا ہے چناچہ ارشاد خداوندی ہے :

بےشک ہم نے اس (قرآن) کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا ہے

 

(الدخان:۴۴)

 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  کیا قران اس سے مراد شب معراج یا شب برات لیتا ہے ؟،بلکل نہیں کیونکہ قران کی تکمیل اور عہد صحابہ میں ایسی کسی راتوں اور ان سے متعلقہ رسومات و بدعات کو منانے کا کوئی تصور دور دور تک نہیں ملتا تھا۔اب ہم یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس رات سے قران کس رات کو عزت و شرف سے منسوب کرتا دکھتا ہے :

چناچہ اس ضمن میں ارشاد الہی ہے کہ

 

بےشک ہم نے اس (قرآن) کو لیلة القدر میں نازل کیا۔

(القدر:۱)

 

  آپ نے دیکھا کہ اول اللہ ایک بابرکت رات کا تذکرہ کرتا ملتا ہے پھر اس بابرکت رات سے مراد واضح طور پر لیلتہ القدر کو لیتا ملتا ہے۔اب یہ تو واضح ہوگیا کہ قران کی مراد بابرکت رات سے لیلتہ القدر ہے جسکا زمان رمضان کا مہینہ ہے۔

 

جناب اسامہ بن زید ؓ کے دماغ میں ایک دفعہ سوال پیدا ہوا کہ نبی اکرم ﷺ شعبان میں کیون اتنے روزے رکھتے ہیں تو   انھونے اپنا اشکال نبی اکرمﷺ کی جناب میں پیش کیا تو نبی   اکرمﷺ نے جواب میں جو  فرمایا

وہ ذیل میں بیان کیا جاتا ہے:

 

سیدنا اسامہ بن زید رضی الله عنه نے رسول الله صلی الله عليه وسلم سے پوچھا کہ سب مہینوں سے زیادہ شعبان میں روزے کیوں رکھتے ہیں؟

تو فرمایا:

یہ (شعبان) وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہیں رجب اور رمضان کے بیچ میں یہ وہ مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال پروردگار کے پاس اٹھائے جاتے ہیں میں چاہتا ہوں میرا عمل اس وقت جائے جب میں روزے سے ہوں۔

(نسائی:۲۳۶۱:کتاب الصیام)

اس حدیث اور نبی اکرم ﷺ کے معمول سے کل شعبان میں روزے وقفے وقفے سے استقبال کے لئے رکھنا سنت ہے ناکہ پندرہ شعبان کو اس روز سے مخصوص کرکے سنت سمجھنا ثابت نہیں ہے۔

 چناچہ سنت ہر ماہ کی ۱۳، ۱۴ اور ۱۵ تاریخ (ایام بیض) کے روزے رکھنا  مراد ہے. سنت شوال کے ۶ روزے، ۹ محرم  کے ساتھ ۱۰ یا ۱۱ محرم کے روزے رکھنا ہے سنت ، ۹ ذی الحج کا روزہ رکھنا ہے، اور عام دنوں میں  پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھنا سنت سمجھا جاتا  ہے۔

اس رات کو مساجد جاکر اجتماعی و انفرادی طور پر نماز پڑھنے کا ایک چلن عرصہ سے عبادتی عقیدہ بن گیا ہے جسے اکثر وہ لوگ ثواب سمجھ کر پڑھتے ہیں جو ایسی راتوںا ور تراویح کے علاوہ کبھی گھر اور مساجد میں نماز پڑھتے دیکھے نہیں گئے ہیں چناچہ ذیل میں قدیم اہل علم کا اس بابت موقف ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:

 

"امام فتنی "تذکرۃ الموضوعات" میں کہتے ہیں کہ:

 

 نصف شعبان کی رات کیلئے ایجاد کردہ بدعات میں "ہزاری نماز" بھی ہے جس میں سو رکعت دس ، دس رکعات کی شکل میں باجماعت ادا کی جاتی ہیں، اس نماز کا جمعہ اور عید کی نماز سے بھی بڑھ کر اہتمام کیا گیا ہے، حالانکہ اس کے بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے، سب یا تو ضعیف ہیں یا پھر خودساختہ ہیں، اگرچہ ان روایات کو "قوت القلوب "یا "احیاء علوم الدین" میں ذکر کیا گیا ہے تو اس سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے، اسی طرح تفسیر ثعلبی میں یہ کہا گیا ہے کہ یہی رات لیلۃ القدر ہے اس سے بھی دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔

 

فتنی رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا گفتگو کرنے کے بعد کہا ہے کہ:

 

"’’عوام اس خودساختہ نماز کے جھانسے میں اتنی گرگئی کہ کچھ لوگوں نے شب بیداری کیلئے کافی مقدار میں ایندھن ذخیرہ کیا، اس شب بیداری کی وجہ سے فسق وفجور پر مشتمل ایسے کام ہوئے جنہیں بیان نہیں کیا جاسکتا، حتی کہ کچھ اولیائے کرام کو عذاب الہی کا خدشہ ہوا اور صحراؤں کی طرف دوڑ نکلے۔

سب سے پہلے اس نماز کی ابتدا بیت المقد س میں ۴۴۸ ہجری کو ہوئی تھی۔

زید بن اسلمؒ کہتے ہیں:

ہمارے مشایخ یا فقہائے کرام کبھی بھی شب برات وغیرہ کی فضیلت کے متعلق توجہ بھی نہیں کرتے تھے۔

 

 

ابن دحیہؒ کہتے ہیں:

نماز [شب] برات کی تمام احادیث من گھڑت اور خودساختہ ہیں، ان میں سے صرف ایک مقطوع ہے، اور جو شخص کسی ایسی روایت پر عمل کرے جسکا من گھڑت ہونا ثابت ہوچکا ہو، تو وہ شیطان کا چیلہ ہے۔

فتنی:تذکرہ الموضوعات:صہ:۴۵

 

علامہ زین الدین عراقیؒ فرماتے ہیں کہ:

 

’’متاخر صوفی حضرات کی کتب میں یہ نماز بہت مشہور ہے، مجھے اس نماز اور نماز کی دعا کے بارے میں احادیث سے کوئی مستند دلیل نہیں ملی، ہاں یہ صوفی مشایخ کا عمل ہے، جبکہ ہمارے کچھ احباب کا کہنا ہے کہ: مساجد وغیرہ میں مذکورہ راتوں کی شب بیداری کیلئے جمع ہونا مکروہ ہے‘‘۔

امام ابن العربی مالکی (وفات: 543 ھ) پندرھویں شعبان کی رات کی تمام احادیث کو مردود قرار دیتے ھوئے رقمطراز ہیں:

"لیس فی لیلۃ النصف من شعبان حدیث یعول الیہ لا فی فضلھا ولا فی نسخ الآجال فیھا فلا تلفتتوا الیھا"۔

 

’’نصف شعبان کی شب کے بارے میں کوئی ایسی حدیث نہیں جس پر اعتماد کیا جاسکے۔ نہ اس شب کی فضیلت میں اور نہ موت و زندگی لکھنے کے بارے میں، سو ان روایات کی طرف قطعا توجہ نہ دو۔‘‘

تفسیر احکام القرآن: جلد: :2

 

نصف شعبان کے روزے سے متعلق روایات::

 

محدث عبد الرحمن بن عبد الرحیم مبارکپوری لکھتے ہیں:

 

لم اجد فی صوم لیلۃ النصف من شعبان حدیثا مرفوعا صحیحا اما حدیث علی الذی رواہ ابن ماجۃ فقد عرفت التضعیف جدا۔

 

’’میں نے نصف شعبان کے روزے کے بارے میں کوئی حدیث صحیح مرفوع نہیں پائ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جو روایت ابن ماجہ نے روایت کیا ہے وہ تو نہایت ضعیف ہے۔‘‘

تحفۃ الاحوذی: جلد ۲ :صفحہ: ۵۳۔

 

نصف شعبان کی نماز:

اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ نصف شعبان کی مخصوص نماز کا مسلہ ہے جس میں ایک نماز گھڑ کر اس رات سے مخصوص کردی گئی ہے  چناچہ:

 

علامہ شبیر احمد عثمانی فرماتے  ہیں کہ:

 

 

قال العینی وما احادیث التی فی صلوۃ النصف من شعبان نذکر ابوالخطاب بن دحیہ انھا موضوعۃ

 

علامہ عینی حنفی لکھتے ہیں کہ نصف شعبان کی نمازوں کے جتنی احادیث ہیں تو ابوالخطاب بن دحیہ فرماتے ہیں یہ سب منگھڑت ہیں۔

فتح الملہم شرح مسلم: جہ:۳ صہ: ۱۷۴۔

 

 

 عین اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ نصف شعبان کی شب کو مغفرت کی رات قرار دینے کے لیے "جاھل  لوگ" ترمذی سے روایت نقل فرماتے ہیں کہ:

نصف شعبان کی رات کو اللہ بنوکلب کی بھیڑیوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔لیکن اسی روایت کے ناقل اسکو ضعیف قرار دیتے ملتے ہیں ،جسکی تحقیق آخر میں آئیگی۔

 

نصف شعبان کی شب بارے ابن ماجہ کی سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے ایک روایت پیش کی جاتی ہے۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی شب میں طلوع فرماتا ہے اور مشرک کینہ پرور کے علاوہ سب کی مغفرت فرماتا ہے"۔

 

اس روایت کے چار راوی قطعا مجھول اور ایک شدید ضعیف۔ بے بنیاد روایت ہے۔ علامہ حبیب الرحمن کاندھلوی(ناصبی ،منکر حدیث) اپنی کتاب "شب براءت کیا ہے" اس روایت کے ناقل عبداللہ ابن لہیعہ کی بابت لکھتے ہیں کہ:

 

ابن عدی اور ذھبی کہتے ہیں کہ ابن لہیعہ کی یہ روایت منکر ہے۔

 

عبد اللہ بن لہیعہ کبھی تو دعوی کرتا ہے کہ یہ روایت زید بن سلیم(اسلم) سے مروی ہے اور کبھی کہتا ہے ضحاک بن ایمن سے مروی ہے۔ مطلب یہ روایت سخت مضطرب نوعیت کی حامل ہے۔واضح رہے ابن لہیعہ کی روایت جب عبادلہ سے مروی ہو تو مقبول ہوگی ورنا اسے رد کردیا جائیگا۔

اسی طرح عایشہؓ سے ایک روایت پیش کی جاتی جسے ذیل میں تحقیق کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے:

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَل تدرين مَا هَذِه اللَّيْل؟» يَعْنِي لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ قَالَتْ: مَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: «فِيهَا أَنْ يُكْتَبَ كلُّ مَوْلُودٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هَذِهِ السَّنَةِ وَفِيهَا أَنْ يُكْتَبَ كُلُّ هَالِكٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هَذِهِ السَّنَةِ وَفِيهَا تُرْفَعُ أَعْمَالُهُمْ وَفِيهَا تَنْزِلُ أَرْزَاقُهُمْ» . فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى؟ فَقَالَ: «مَا مِنْ أحد يدْخل الْجنَّة إِلَّا برحمة الله تَعَالَى» . ثَلَاثًا. قُلْتُ: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى هَامَتِهِ فَقَالَ: «وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ» . يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (اے عائشہ) کیا تم جانتی ہو یہ (یعنی نصف ۱۵ شعبان کی رات) کون سی رات ہے؟ سیدہ عائشہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اس میں کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اس رات میں بنی آدم کے اس سال پیدا ہونے والے بچوں کے بارہ میں لکھا جاتا ہے اس میں بنی آدم کے اس سال ہر فوت ہونے والے انسان کے متعلق لکھا جاتا ہے اس میں ان کے اعمال (اللہ تعالیٰ کی طرف) اٹھائے جاتے ہیں اور اس میں ان کا رزق نازل کیا جاتا ہے۔

مشکاۃ المصابیح، کتاب الصلاۃ، باب قیام شھر رمضان رقم: ۔۱۳۰۵

اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (لم اجدہ فی المطبوع منہ) * و رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۳۸۳۵) من طریق العلاء بن الحارث عن عائشۃ بہ وھو منقطع و رواہ البیھقی فی فضائل الاوقات (ص : ۱۲۶ ، ۱۲۸ ح ۲۶) نحوہ مطولاً و فیہ النظر بن کثیر العبدی وھو ضعیف و للحدیث شواھد ضعیفۃ

ہم دیکھتے ہیں کہ امام خطیب و بغوی نے اسے امام بھیقی سے لیا ہے یہ روایت شعب الایمان میں بھی ملتی ہے جس میں عایشہؓ کا طرق علا بن حارث سے منقطع ہونے کے سبب ثابت نہیں ہے۔علامہ البانیؒ نے بھی اس پر شک کے سبب ضعف کا حکم لگایا ہے یہ حکم مولانا اسمعیل سلفیؒ نے بھی روایت کے منقطع و غیر ثابت ہونے کے سبب لگایا تھا۔یہی حکم اس پر حافظ زبیر علی زئی ؒ نے لگایاہے  ، اسی طرح علامہ صالح المنجد نے بھی ایک سوال میں اس رات کو غیر ثابت قرار دیکر بدعت مانا ہے۔

اسی طرح ترمذی کی حدیث عایشہ ؓ پر جو مقدمہ کھڑا کیا جاتا ہے اسکو ذیل میں پیش کرکے اسکا تحقیقی حکم بیان کیا جاتا ہے :

(مرفوعحدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا الحجاج بن ارطاة، عن يحيى بن ابي كثير، عن عروة، عن عائشة، قالت: فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة، فخرجت فإذا هو بالبقيع، فقال: " اكنت تخافين ان يحيف الله عليك ورسوله؟ " قلت: يا رسول الله، إني ظننت انك اتيت بعض نسائك، فقال: " إن الله عز وجل ينزل ليلة النصف من شعبان إلى السماء الدنيا، فيغفر لاكثر من عدد شعر غنم كلب ". وفي الباب عن ابي بكر الصديق. قال ابو عيسى: حديث عائشة لا نعرفه إلا من هذا الوجه من حديث الحجاج، وسمعت محمدا يضعف هذا الحديث، وقال يحيى بن ابي كثير: لم يسمع من عروة، والحجاج بن ارطاة، لم يسمع من يحيى بن ابي كثير۔

.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا۔ تو میں (آپ کی تلاش میںباہر نکلی تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ بقیع قبرستان میں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم ڈر رہی تھی کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا گمان تھا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے ہاں گئے ہوں گے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پندرھویں شعبان  کی رات کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے، اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔

جن لوگوں نے اس حدیث سے دلیل لی ہے انکی علمی کمزوی کیا ہی غضب کی اہلیت کی حامل ہے،اور جنکو عبی چھوڑو اوردو بھی شاید نہیں آتی ہے،کیونکہ اس روایت کا انتساب جن امام ترمذی کی جانب منسوب کیا جاتا ہے وہ ایک تو اس روایت کو منفرد ،یکتا فرد واحد حجاج بن ارطاۃ سے مروی ہونا بیان کرتے ہیں۔اسی حدیث کے ذیل وہ خود اسکی اور بھی علت پیش کرتے ملتے ہیں۔

: حديث عائشة لا نعرفه إلا من هذا الوجه من حديث الحجاج، وسمعت محمدا يضعف هذا الحديث، وقال يحيى بن ابي كثير: لم يسمع من عروة، والحجاج بن ارطاة، لم يسمع من يحيى بن ابي كثير۔

 امم ترمذی اس حدیث میں کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو اس حدیث کی تضعیف کرتے سنا ہے، نیز فرمایا: یحییٰ بن ابی کثیر کا عروہ سے اور حجاج بن ارطاۃ کا یحییٰ بن ابی کثیر سے سماع نہیں، ہے۔اس باب میں ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔یعنی یہ حدیث منقطع ہے وہ پہ در پہ۔

قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (1389) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (295)، المشكاة (1299) الصفحة (406)، ضعيف الجامع الصغير۔ (1761) //

 

 

قال الشيخ زبير على زئي: (739) إسناده ضعيف / جه 1389

حجاج عنعن (تقدم: 527) وللحديث شواھد، كلھا ضعيف

 

اس مسلہ کو یار لوگوں نے  طرق جمع کرکے سنبھالنے کی بہت  کوشش کی ہے تاکہ مذہبی کاروبار چلتا رہے  اور یہ بات بھی  کہی ہے  کہ جب ضعیف حدیث زیادہ ہوں تو ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں،اور اسناد جمع کرنے سے ضعیف روایت حسن لغیرہ بن جاتی ہے۔دیو بندیوں اور بریلویوں  کا اکثر گروہ اور احناف کا  ایک طایفہ اسکے حق میں گیا ہے، مگر حدیث و رجال کے محققین شیخ زبیر علی زئیؒ،شیخ احمد شاکرؒ غازی ،عزیر،ارشاد الحق اثری، اور محدثین قدیم کی ایک جماعت نے اسکا رد کیا اسی طرح حافظ ابن حجر نے اسکی کچھ شروط بیان کی ہیں،حدیث حسن کے جامع امام ترمذی نے اسے ضعیف و منقطع مانا ہے چناچہ مزکورہ بالا افراد نے  ان شروط پر بحث کی  ہے،جنکےسبب ایسی روایتیں مقبول ہوکر حسن لغیرہ بن پاتی ہیں،لہذا ان ذہنی محنتوں کا کوئی معلقولی نتیجہ نکل نہیں پاتا ہے ۔مگر ان اصحاب نے یہان سیدھی سادھی کسی شرط کے بغیر جمع تفریق سے معاملہ سنبھالنا چاہا ہے۔ احناف و دیو بند میں  شب برات کا سب سے عمدہ علمی تعاقب علامہ رشید احمد لدھیانوی ؒ نے فرمایا ہے اور سچ یہی ہے کہ انھونے  تحقیق کا حق ادا کردیا ہے،اسی ضمن میں انکا مقوف مفتی تقی عثمانی کے موقف سے زیادہ محقق اور مدلل ہے جنکو شوق ہو وہ اس ضمن میں احسن الفتاوی کو دیکھ سکتے ہیں۔

یہ روایت خیر خود اسکے نقل کرنے والے کے سبب  کئی علتوں کے سبب ضعیف ہے بلکہ اسے حافظ زبیر علی زئیؒ اور علامہ البانی دونوں نے اسے ضعیف کہا ہے،علامہ علامہ البانیؒ نے اسے ضعیف مشکوۃ،ضعیف ابن ماجہ و ضعیف ترمذی میں ضعیف کہا ہے،حافظ زبیر علی زئی کے مطابق اسکے کل طرق ضعیف ہیں۔ ۔

یوں اس کل بحث پڑھنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ شب براۃ مھدی نامی شیعہ امام کے اعزاز میں منائی جاتی ہے، جبکہ اہل سنت کی محقق قدیم رائے کی رو سے اسکو منانا سخت بدعت ہے اور سلف سے اسکا ثبوت ثابت نہیں ہے،ہاں شعبان کے مہینے میں پندرہ شعبان کی تخصیص کے بغیر استقبال رمضان میں سنت جانکر نبی اکرمﷺ کے اتبع میں کچھ روزے رکھنا جایز ہے،مگر اسکے لئے جمع ہوکر مساجد جانا چراغان کرنا،اسے شب برات سے مخصوس کرنا ثابت نہیں ہے،بلکہ سخت بدعت ہے،اسی طرح اس رات اعمالوں کی رپورٹ کارڈ بننے کی کوئی صحیح روایت نہیں ملتی ہے،اس رات کی مناسبت سے کسی قسم کی صلواۃ تسبیح پڑھنا بھی ثابت نہیں ہے،پتے گرنے مردوں کا فیصلہ ہونے کی کوئی روایت ثابت نہیں ہے ،عین ایسے نبی اکرمﷺ کا قبرستان جانا بھی ثابت نہیں ہے۔جن لوگوں نے عایشہ ؓ کے نام سے یہ مقدمہ گھڑا انکو شرم کرنی چاہئے بلکہ انکو عایشہ ؓ کی بدعات مخالف صحیح و ثابت شدہ روایتوں کو لیکر اسے رد کرنا چاہئے۔

 

 اسی طرح پتوں کے جھڑنے والی یا فیصلے  کرنے والی رات کے متعلق  بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے  یہ سب ضعیف  و موضوع روایتیں  ہیں اس رات میں نوافل اور ان کہ ثواب والی سب احادیث من گھڑت ہیں یا کچھ جو ہیں وہ ضعیف ہیں۔

 

صحیحین میں اماں عائشہ رضی اللّٰه عنہا سے مروی ہےکہ :

’’اللّٰه کے رسول صلی اللّٰه علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: جس نے ہماری اس شریعت میں کوئی نئی چیزایجاد کی جواس میں سےنہیں ہے تو وہ لائق رد ہے‘‘بلکہ رصحیح مسلم کے الفاظ  تو الٹا یہ ہیں کہ:

’’جوکو ئی ایساعمل کرے جو دین سے بیگانہ عمل ہو تو وہ مردود (رد کیا ہوا) ہوگا‘‘

اسی طرح ایک اور جگہ :

صحیح مسلم کے اندر جابر رضی اللّٰه عنہ سے مروی ہے کہ:

’’ اللّٰه کے رسول صلی اللّٰه علیہ وسلم جمعہ کےخطبہ میں فرمایا کرتے تھے :سب سے بہترین کتاب اللّٰه کی کتاب ہے اور سب سے بہترین راستہ محمد صلی اللّٰه علیہ وسلم کا طریقہ ہے اورسب سے برے امور دین میں ایجاد کردہ نئی باتیں ہیں ( جنہیں بدعت کہتے ہیں ) اور ہر بدعت ضلالت وگمراہی ہے “۔

لہذا اس تمام بحث کے بعد جسکو ڈھونڈھنے اور لکھنے میں ہماری رات نکل گئی کوئی ہٹ ڈھرمی سے کام لے تو اسکو دس ہزار توپوں کی سلامی شیطان کی جانب سے قبول ہو۔

 

 

 


کیا علمی وفکری طور پر مسلمان کرسمس منا سکتے ہیں یا کسی عیسائی ساتھی کو مبارک باد پیش کرسکتے ہیں؟:ڈاکٹر محمد علی جنید

 


کیا علمی وفکری طور پر مسلمان کرسمس منا سکتے ہیں یا کسی عیسائی ساتھی کو مبارک باد پیش کرسکتے ہیں؟

تعارف:

 

گزرشتہ ماہ دسمبر کی ۲۵ تاریخ کو آنے والی کرسمس کے تناظر میں میرے علم میں کئی امور جدید عالمی تمدن میں مختلیف ادیان کے ماننے والوں کے باہمی میل و ملاپ اور انکے مابین فکری فکری تصادم کے تناظر میں لائے گئے  ہیں  چناچہ  موضوع کی مناسبت سےکئی پوسٹیں مسلمانوں کی جانب سے  اس ضمن میں انکے میلانات و رجحانات کے تناظر میں  ۲۰۲۱ کے اواخر میں کرسمس منانے کی حمایت و موافقت میں سامنے آئی ہیں ،کچھ لوگوں نے راسخ العقیدہ مسلمانوں کی اس فکر پر تنقید کی ہے کہ وہ کیوں مسلمانوں کی جانب سے کرسمس منانے اور اہل کرسمس کو مبارک باد دینے کے خلاف سودائیت و  سو کالڈ پاگل پن کا شکار  ہوئے جارہے ہیں اور انھونے ایسے سودائی پاگل اور شدت اور بنیاد پرست مسلمانوں  کے ایمان کو کمزور یا مضطرب قرار دیا  ہے ،کیونکہ انکا اسلام و ایمان بس کسی غیر مذہب کی عید پر مبارک باد دینے سے خطرہ میں پڑ جاتا ہے، یہاں حیرت یہ ہوتی ہے ان حضرات نے اپنے مخالفین کے ایمان  کو صرف  کرسمس کی مناسبت سے  کمزور قرار دیا ہے مگر یہی افراد انکے ایمان پر  جب موقع کی مناسبت سے آوازیں کستے ہیں تو انکو یہ عمل شدت پسندی نظر آتا ہے، لہذا اس بحث  سے یہ  ثابت ہوا کہ تنقید علمی بنیاد پر کم اور جذباتی بنیادوں پر زیادہ  دونوں جانب سے کی جارہی ہے،مگر اتنا طے ہے مسلم کرسمس پسندوں کے پاس دلیل کے لئے بس ذاتی مابعد الطبیعاتی اقدار موجود ہیں  اور انکی اس مابعدیات کی جوہریت کی رو سے وہ بطور فرد جس جمہوری لادینی،لبرلل کلچر کی پیداوار ہیں وہاں انکو کسی وحی پر مبنی شریعت سے ہدایت لینے کی سرے سے کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ خود اہل علم و فکر کو اپنی فردیت و انانیت کی بھینٹ چڑھاسکتے ہیں جس کے لئے انھیں کسی قسم کی تقابلی ادیان،فلسفہ،استشراقیت اور مغربیت پر مبنی علمیت و استعداد کی ضرورت نہیں ہے  چناچہخود کے میلانات و رجحانات کو بلذات اخلاقی جواز فراہم کرنے  کے ماسوا انکے پاس کہنے کو کچھ نہیں  باقی بچتا ہے  ہے یا لے دیکر اعتدال پسندی اور متنوع پسندی(ڈایورسٹی) کے ماسوا کچھ موجود نہیں ہے،میری میں،سلیف ایغو اور آزادیِ عمل و لسان سے ہی یہ دل بھلانے کو اچھے خیال تسلیم کئے جارہے ہیں؟

 دیکھا سنا گیا ہے بلکہ یہ تک سلیف میڈ  آزاد خیالی کی رو میں بہہ کر کہا گیا ہے کہ اگر آپکا عقیدہ یسوع مسیح کو ابن اللہ کا ماننے کا نہیں ہے تو اس کے معتقدین کو مبارک باد دینے سے یہ کہاں ثابت ہوجاتا  ہے کہ مبارک باد دینے والا بھی ایسا عقیدہ رکھتا ہے؟یہ اعتراض کرنے والے یہاں کذب بیانی سے لبریز نظر آتے ہیں مسلمانوں کا مسلم کرسمس پسندوں کی بابت یہ عقیدہ سرے سے ہے ہی نہیں کہ وہ عیسائیوں کی طرح  عیسیؑ کو ابن اللہ مانتے ہیں ،کیونکہ عیسائی یسوع کو ابن اللہ غلط یا صحیح عقیدہ کے ماسوا عہد نامہ جدید  اور چرچ کی تعلیمات کی روشنی میں مانتے ہیں عیسیؑ اور انکی ماں پر وحی اترنے کے وہ بھی مسلمانوں کی طرح قایل  دکھتےہیں ،یعنی یہاں بہت حد تک لبرٹی آف اوپینین اور ڈایورسٹی کی جگہ وحی و و نقل پر کسی نا کسی طرح بنیاد رکھ رہے ہیں،جبکہ انکے حامی مسلم کرسمسیوں کے پاس اس ضمن میں کوئی علمی نقلی اور وحی پر استوار بنیاد موجود نہیں ہے ،اسکے ساتھ وہ علمی و مذہبی غداری اور اںحراف ِ عقیدہ کا بھی شکار نظر آتے ہیں

۔

کیا یہاں ریسرچ میتھڈولوجی درست ہے؟

 

 اس دفعہ  ایک بار پھر ،لبرل مافیا کا یہ بھی موقف ہمیشہ کی طرح دوبارہ سامنے آیا  ہے کہ قران وسنت میں ایسا کہاں لکھا ہے کہ ایسے امور پر عذاب و سوال ہوگا کیونکہ انکی رو سے جس اللہ کو یہ حضرات بس اعتقادِ ابا و اجداد  ،خاندان اور معاشرتی فواید کے سبب اللہ نام کی ربوی ذات  ماننے پر مجبور ہیں وہ  اللہ  انکے دربار میں بس مجبور و لاچار محدود کرکے بے اختیار طور پر بس اپنی ذات و صفات کے صرف رحیم و کریم پہلو کا مالک تسلیم کیا جاسکتا  ہے، اللہ رب العالمیں کے بقیہ اسما الحسنی ذات و صفات سے انھونے اپنے بزعم خوید  اسے محروم کردیا ہے،کیونکہ بقیہ اسما الحسنی انکی آزاد خیال طبیعتوں پر بھاری و بوجھل پڑے جارہے ہیں ۔جبکہ ماضی میں بھی  ہم دیکھتے ہیں کہ  معتزلہ اللہ کی قدرت،سمع ،بصر اور خالق مطلق ہونے کے منکر نظر آتے تھے ۔ چناچہ اللہ کے نناوے اسما الحسنی اور ان سے ثابت اسکی ذات و صفات میں سے یہ طبقہ بس دو مذکورہ بالا ذات و صفات کو اہم جانتا  ہے  انکے درون خانہ دبے دبے احساسات کی  رو سے سمع ،بصر ،قدرت علم و قھر کو یہ بس صفاتی لفاظی کے ماسوا کچھ نہیں جانتے ہیں۔

 عین یہی معاملہ انکا نبی اکرمؐ کے ساتھ بھی رہا  ہے لہذا یہ سیرت نبویہ کے غیر ثابت شدہ اکثر مکی اور اوایل مدنی دور کے قصص سے جواز پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں،جنکی مدنی دور میں یا تو نسخ نازل ہوگئی تھی،یہ سرے سے احکامات منسوخ ہوگئے تھے ،یا مدنی تمدن اور وحی کے سبب ارتقائی تبدیلیوں نے نوعیت کو بدل دیا تھا،ظاہر ہے دور مکی میں نبی اکرمؐ نبی و رسول اور تبلیغ کار تھے مدنی دور میں آپ رسول الملوک،مقنن صاحب شریعت اور خاتم النبین ہوچکے تھے ،پہلے حدود،قصاص و تعزیر کا دور متعلقہ سیاسی دور کی مفقودیت کے سبب موجود نہیں تھا،تو یہاں ڈھونڈھنے والوں کو بس رحمت وکرم کی مثالیں ڈھونڈھنے سے مل جاتی ہیں مگر  ،مابعد جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ  شرعی ریاست قایم ہوگئی تو غیر اقوام و مذاہب سے تشبہ کی مخالفت شروع کردی گئی، کیونکہ یہ وہ روحانی طور پر ترقی یافتہ ریاست تھی ،جس کا اپنا ذاتی دیوانی و فوجداری وحی الہی سے تربیت و تعلیم یافتہ نظام موجود تھا۔

 چناچہ،یہ طبقہ نبی اکرمؐ کی سیاسی و قانونی حیات،اسلام کے فوجداری قانون کا سرے سے منکر نظر آتا ہے، اور   سیرت نبوی اور سنت نبوی کے اکثر پہلووں کو مغربی تحریک یافتہ انسانی حقوق کے فلسفہ کی روشنی میں انسانیت کے تصور کے خلاف جانتا ہے یا پھر  انکی من چاہی تاویل کرتا دکھتا ہے یا پھر سرے سے اپنے موقف کے خلاف صحیح  حدیث کو رد کردیتا ہے اور کہتا ہے کہ چونکہ  نبی اکرمؐ رحمت العالمین ہیں، جبھی آپ کا بھی ہم بس رحمت والا پہلو مانتے ہیں سزا،انصاف و انتقام  کے پہلو  مابعد گھڑے گئے  پہلو ہیں،جنکا ہمیں صاف انکار ہے۔ مزے کی بات ہے کہ علمی و تاریخی تناظر میں انکا یہ اتنا کمزور پہلو ہے کہ حدیث کا ناقد مستشرقین کا گروہ جو اسلام کی ہر شہ کو  رد کرنے کے لئے  تیار نظر آتا ہے وہ بھی انکے برخلاف نبی اکرم ؐ اور خلفائے راشدین کے  قوانین انصاف،جنگ و جدل ،فوجداری اور تعزیری قوانین کو ہی اصل جان کر ان پر تنقید کرتے دکھتے ہیں ۔

 ان لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ یہ سب مولوی نما لوگوں کا شیطانی  پن ہے کہ وہ اللہ کو بس منتقم المزاج دکھاتے پھرتے ہیں، بلکہ یہ تک کہا گیا ہے کہ  کچھ لوگ فضول میں عیسایوں کا باہمی اختلاف اور خود انکے اہل علم میں عدم اتفاق کو اچھال کر وقت ضایع کررہے ہیں،انہی لوگوں سے پوچھا جائے ہم ٹھرے تعصبی و جاہل لوگ یعنی دور جھالت اور ڈارک ایج کی پیداوار ہیں ،مگر اہل یورپ و امریکہ و ہند جب اپنے دین کا مدحیانہ و ناقدانہ تعارف پیش کرتے ہیں تو یہ لوگ بھی ابتدا میں کیوں تعارف ،تعارفی قانونی ،سیاسی و سماجی پس منظر اور پہلووں پر روشنی ڈالتے نظر آتے ہیں۔ جسکو ذرا بھی شک ہے تو انسایکلو پیڈیا بریٹینیکا،انکارٹا،امریکانا،کولیر،کیمبرج وغیرہ میں یا خود عیسائی کتب کو ہی پڑھ کر دیکھ لیں کہ وہ کیوں ان چیزوں کو علمی معاملوں میں اتنی اہمیت دیے کر ان پر اتنی طویل بحث کرتے نظر آتے ہیں؟کچھ لوگوں کو یہاں تعصب ،قدامت پرستی،بنیاد پرستی،اور نفرت انگیزی کی بحثیں  دکھتی نظر آتی ہیں،انہی لوگوں کو جب ایسی ہی بحثیں برنارڈ لیوس،ہنٹنگٹن،واٹ،میور،کیرن اور رسل کے یہاں دکھتی ہیں تو واہ واہ کرتے دکھتے ہیں،جیسے آپ رسل کی کتاب دیکھیں جن میں  وہ خدا اور مذہب کا رد کرنے میں علمی قعر مذلت تک جاپہنچتا ہے، اسکی اگر خودنشت دیکھ  لی جائے تو اندازہ ہوگا کہ وہ بچپن کی مذہبی سختی کی ضد میں اپنی دادی و اہل خانہ کی مذہبی فکر کے رد میں بلوغت سے قبل ہی باغی ذہنیت کا مالک تھا  ہاں یہ اس کی اچھی بات ہے کہ وہ اپنی تاریخ فلسفہ میں اسلام کا ذکر بڑے اعتدال سے کرتا دکھتا ہے مگر اپنی کتاب میں عیسائی کیوں نہیں ہوں؟ میں عیسائیت کے رد کے ساتھ ساتھ دیگر ادیان کے وجود و حقیقت کو اپنے من چاہے فلسفہ سے رد کرتا دکھتا ہے،اسی طرح ایک جگہ وجود باری تعالی کی نفی میں   آسمانی کیتلی کے مفروضہ سے دل خوش کرتا دکھتا ہے  عین اسی طرح ڈاکٹر شبیر احمد (امریکہ:معتزلی) کی کتاب میں عیسائی کیوں نہیں ہوں؟ دیکھیں،جن پر عقل کا کافی غلبہ ہے ،یار لوگوں کو ایسی کتب میں تعصب کی جگہ حکمت چھلکتی نظر آتی ہے،تعصب  کیا ہے بس ایک پسندیدگی کی چھلنی ہے جس سے لوگ مخالفیں کو چھان لیتے ہیں ۔

خیر  یہ امر سمجھ لینا چاہئے کہ جناب اہل علم لوگوں کی خواہشوں پر نہیں موضوع، حقیقت و ماہیت کی دریافت کے لحاظ سے مسلہ دیکھتے ہیں باقی تعصب اور عدم تعصب یہ تو انیس بیس کے فرق کے ساتھ سب جگہ ہی دکھتا محسوس ہوتا ہے،چونکہ ایک فرد کسی فعل کو سرانجام دے رہا ہوتا ہے،اسکا اس پر اعتقاد ہوتا ہے تو وہ کسی موقف کو جسے اس نے اپنے حسن انتخاب و نیت سے چن لیا ہوتا ہے کو ہی جایز سمجھنے لگتا ہے، اور مخالف موقف کو ناجایز و غلطی پر تسلیم کرتا پھرتا  ہے ،مزے کی بات حق و باطل وہ  یہاں اپنے ذاتی موقف اپنی رضا و خواہش سے مقرر کردیتا ہے  چناچہ محولہ بالا اعتراضات کرنے والوں نے یہاں موجودہ بحث میں ا پنی خاص گھڑی گئی من چاہی  اقدار بطور مبنی بر حق  تسلیم و مفروض  کرلی ہیں سمجھو یہ اسکا عقیدہ ہے  اب جو انکو اپنے موقف کے خلاف دکھتا ہے یہ طبقہ  ان پر کی بورڈ سے فائرنگ داغنے لگتا ہے۔

اول تو میں  یہاؓں  عیسائیت پر کوئی تفصیلی بحث نہیں کرنے والا ہوں نا ہی میں  خود کو کئی سو صفحوں کی بحث کی محتاج بحث کو اختصار و اجمال کے نام پر قتل کرنے کا  شوقین  محسوس  پاتا ہوں،سب سے اول تو یہ  جان لینا چاہئے کہ جذباتی باتیں کرکے دوسروں کی نگاہ میں اچھا بننے یا اپنے من پسند موقف کو اپنا ذاتی انفرادی سیلف ریگولیٹیڈ دین بنا کر بیان داغنا کسی صورت میں کوئی مجرد خالص معقول موقف مانا  نہیں جاسکتا  ہے۔یہ باتیں کرنا  ایسے بیانیوں کے موئید حضرات کے قلت ِ علم اور قلت فھم کی عکاسی کرتا  ہے،جن چیزوں کو اس بحث میں انکی جانب سے  فضول کہا جارہا ہے وہ دراصل  متعلقہ بحث کا سیاق و سباق،پس منظر،تاریخی و مذہبی پس منظر اور بیک گراونڈ ہے،اور ہر ریسرچ پیپر اور تھیسس کا  من حیث المجموع ایک ابتدائیہ،پری ایمبل اور انٹروڈکشن ہوتا ہے،انکا شروع شروع میں سابقہ تحقیقات کی مناسبت سے لٹریچر ریویو کیا جاتا ہے،منطقی جوہریت دریافت کرکے ناقدانہ جایزہ لیا جاتا ہے اور انیس بیس کے فرق کے ساتھ قریباً سب کا ہی  ایک اختتامیہ یا کنلیوژن بھی موجود  ہوتا ہے،کچھ لوگ اسے دل بھلانے کو  اسے نتیجہ یا فاینڈنگ بھی کہہ لیتے ہیں ، عامتہ الناس کے برخلاف محققانہ بات اور غیر محققانہ باتوں میں جوہری و فکری فرق واقع ہوتا ہے،ایک جاہل غبی،اور ذاتی بیان داغںے والا ایسی باتیں کر سکتا ہے،ایک محقق ایسی باتیں علمی و فکری بالیدیگی کے سبب  نہیں کرسکتا ہے،محقق کو اپنی منھج،وسعت مضمون ،طریقہ کار(میتھڈولوجی) مقصدیت (آبجیکٹیو) سب کچھ مد نظر رکھنا پڑتا ہے وہ ،معیار و تعداد (کوالٹی اینڈ کوانتیٹی ) کو بھی دیکھتا ہے ٹاپک میں پنھاں تغیر یا ویریشن کو بھی دیکھتا ہے،وہ پبلک ڈیمانڈ اور جمہوری قاری بازی پر یقین نہیں رکھتا ہے بطور محقق اسے اپنی انفرادی فردیت و اہلیت منوانی پڑتی ہے،چناچہ تقابلی ادیان کے بین الاقوامی جامعات کے اساتذہ ،طلبا و طالبات کے یہاں ایسی بھانڈ بازی دیکھنے کو نہیں ملتی ہے،کیونکہ یہ  انکی ڈگری ،شعبہ اور موضوع کا تقاضہ ہوتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ جس طرح ہر آئین و قانوں کی عبارت کی اہمیت و افادیت بنیادی اور فنڈامینٹل گراونڈ پر  مسلمہ طور پر مانی  اور تسلیم کی جاتی ہے،انکی تشریح و توضیح یا ہرمانیوٹکس  کرنا اہل علم و ماہر قوانین کا کام ہوتا ہے،اور ساتھ  دیکھا جاتا ہے کہ وہ اپنا کیس مضبوط کرنے کے لئے  وہ کسی متعقلہ کیس میں ججز کے سابقہ فیصلہ جات یا ،پریزی ڈنس سے کیا کچھ  اخذ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ متعلقہ دفعہ کے متعلقہ کیس کے فلاں  فلاں مسلہ پر اطلاق کرنے  اور حادثات،واقعات اور قانونی معاملہ میں انھیں منطبق کرنے میں ذاتی ٹامک ٹوئیاں نہیں کررہا  ہوتا ہے بلکہ فلاں فلاں کیس اور فلاں فلاں ججز کے فلاں فلاں کمنٹس سے یہ امر ثابت ہورہا  ہے یا فلاں امر کی نفی  کی جارہی ہوتی ہے ۔

شریعت کی ماخذیت میں قران و سنت کی اہمیت کا معاملہ:

عین اسی طرح شریعت کے ماخذات میں قران وسنت کی ایک مسلمہ اہمیت اور افادیت مانی جاتی  ہے ،آیمہ کرام اور علما حضرات کی آرا و موقف اوپینین آف ایکسپرٹ تصور کی جاتی ہے،جبھی یہ فضول گپ ہانکنا علمی نراجیت و علمی انحرافیت کے ماسوا کیا ہے کہ پہلے میں ہر شہ کو تعصب سے دیکھتا تھا اب میں معتدل مزاج  ہوگیا ہوں،سبحان جاوں انکے اعتدال پر کہ کس  طرح اعتدال  کی سیاست سے اپنےخصم کا لفظوں سے خون کردیا گیا ہے، اور احساس تک سیلف اوپینین یا سیلف لبرٹی پر مبنی تنقید کے دوران ایسے منتشر الدماغ لوگوں  کو ہو نہیں پاتا ہے،یہ لوگ یاں یہ  بھول جاتے ہیں کہ قران و سنت بطور ماخذ شریعت ا صل میں  ذاتی وجودیت کے ساتھ ساتھ  یک جان یک قالب کی کیمسٹری بھی منواتے نظر آتے ہیں کیونکہ ان میں فرق بس وحی متلو اور غئیر متلو کا وقوع پذیر پوتا ہے اور یہ دونوں  باہم ایک دوسرے کی تشریح و توضیح کرتے نظر آتے ہیں اور اجماع ،قیاس نما دیگر ثانوی منھج و ماخذات کی بھی یہی دونوں ماخذات ہی  اصل  حقیقت و بنیاد ہوتے  ہیں ،عین اسی طرح اصول اور عقاید میں ہم ان دونوں کے ساتھ ساتھ  شخصیاتی مواقف کے ضمن میں صحیح اسناد سے ثابت شدہ سیرت نبویؐ اور حیاتِ صحابہ کرام کے محتاج ہوتے  ہیں،جبھی تقابلہ کرنے کی منھج میں لازما دونوں ادیان کا تقابلہ موقف عقیدہ دیکھنا پڑتا ہے یک طرفہ فیصلہ کرنا فرقہ پرست ،مقلد سماج میں خیر سمجھا جاتا ہے ناکہ اہل تحقیق کے ہاں یہ طریقہ محمود جانا جاتا ہے چناچہ ہمیں  اسکا تعین کرنا ہوگا کہ ہم شناختی و فکری طور پر کسی دایرہ کار میں کھڑے ہیں؟

 پاکستان ارادہ آزادی کے اظھار سے وجود آنے کے ساتھ مسلم تشخص کے اصرار اور اسکے لئے متعلقہ ریاستی ماحول ،حدود اربعہ ،اور ذاتی حکومت کے مطالبہ پر معرض وجود میں آیا تھا  یہ تو جانی مانی بات ہے   کہ جس پاکستان کےشھری یہ باتیں کرتےپھرہے ہیں وہ کیا اپنے ڈگری کے امتحانات میں ان مباحث کی افادیت،اہمیت اور حقیقت کو مطالعہ پاکستان اور تحریک پاکستان کے مضامین میں دوران تدریس  کیا صحیح طرح پڑھ یا سمجھ نہیں سکے ہیں،اور کیا وہاں اس امتحانی پرچہ کے حل کرنے کے دوران ان  ان بقراطوں نے یہ بقراطیت جھاڑنے کی کوشش کی تھی؟  وہ ایسا کر نہیں سکتے تھے کیونکہ  ہماری ریاست پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بنی ہے اور انکا الٹ کہنا انکو ناکام کروا سکتا تھا؟۔

دو قومی نظریہ کی بحث سے اخذ مسایل:

کونسا پاکستانی شھری ہوگا جس نے سید احمد خان کے پیش کردہ اور مسلم لیگ کے پروان کردہ دو قومی نظریہ کی بابت اپنے اسکول،کالج اور یونیورسٹی میں نہیں پڑھا اور سنا ہوگا؟ سمجھو اگر دو قومی نظریہ اس ریاست کی تحریک کا جوہری پہلو نا بھی ہوتا تو بھی ایک ٹھیٹ مومن و موحد کے نقطیہ ںظر سے  لبرل سیکولر ریاست کے مسلم شھری جو کلمہ طیبہ کا  روح و دل سے معتقد ہوتا ہے   اگر اس بندہ خدا میں مذہبی جرثومے صحیح تناسب و وافر مقدار سے  موجود ہوں تو وہ  کلمہ طیبہ کی ملکی آئین و قوانین پر  برتری اور افادیت کسی بھی ریاست میں  آئین و قانوں کی وہاں  عدم موجودگی کی صورت  میں بھی  تسلیم کررہا ہوتا ہے۔

اگر واقعی کسی موحد و مومن کی نگاہ میں  قران و سنت یا سیرت نبوی صحیحہ ثابتہ مسلمانوں کے قانونی فکری ماخذات کا درجہ رکھتے  ہیں تو یہ انکی نگاہ میں  کسی گولڈزیھر ،واٹ، اور جوزف شاخت کے استشراقی حملوں ،غامدیانہ اور پرویزی تھیوریز سے اڑنے والے  مباحث نہیں ہیں  ،چناچہ ایک مسلم امہ کا متبع شریعت فرد  وجودی شناخت کی رو سے خود کو  ریاست اور بلا ریاست دوںون صورتوں میں  اسلامی اصول و فروع کی تابعداری کا  پابند پاتا   نظر آتا ہے،جس طرح کسی یہودی کے لئے موسوی تالمودی ،عہدنامی منطقیت و شریعت زندگی کے ہر باب میں اہم  مانی جاتی ہے ، عین اسی مانند اسلام کی فکر و نظر میں وحی کی اہمیت مسلم جانی جاتی  ہے،تمام عقل و نقل ،منطق و قیاسیت انکے پیروں کی دھول تسلیم کی جاتی ہیں،یہ معاملہ صرف کرسمس کا معاملہ  نہیں ہے بلکہ یہ فکری و نظری معاملہ عملی طور پر  تہذیبوں اور ثقافتوں کے مابین فکری بعد اور نظریاتی اضداد کا  بھی  کارفرما ہے،،یہاں ہیگلین امتزاجیت اور سِنتھیسس کی کوئی گنجایش نہیں ہوتی  ہے کیونکہ قران صاف کہہ چکا ہے کہ اللہ نے تمہارا دین کامل کردیا ہے اور اسلام کو بطور دین تمارے لئے پسند کرلیا ہے(المایدہ:۳) یہاں صاف الگ الگ منتشر موقف والی آزادی و نراجیت کی نفی ہے قران صاف کہتا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور باہم تفرقہ سے پرہیز کرو(القران)۔

 چناچہ یہاں میرا ماننا ،میرا کہنا اور میرا تخیل یا موقف جیسے الفاظ  سرے سے  پرکاہ برابر حیثیت نہیں رکھتے ہیں،کیونکہ یہاں معاملہ علمی  و فنی طور پر بلکل الگ کھڑا  نظر آتا ہے،اول یہ کہ سرسید کی فکر سے انکا ناسخ ترین موقف دو قومی نظریہ کا تھا اور اس نے ایک جوہری محرک کے طور پر جداگانہ طریقہ انتخاب کو تسلیم کروا کر مسلم شناخت کو دیگر اقوام  کی انفرادیت و ثقافت کے مقابل  انفراد کو  تسلیم کروالیا تھا، اور سرسید جدید الخیال مادرن مسلم فکری طبقہ ہیرو اور قاید تسلیم کئے جاتے ہیں،لہذا انکو کم ازم دو قومی نظریہ کی منفردیت،یکتائیت اور شخصیاتی انفرادیت کے تناظر میں سید احمد خان اور جناح کی بات کا اتبع کرنا چاہئے،اور اقوام ِ غیر سے مشابہت سے پرہیز کرنا چاہئے ۔

 یہاں شناختی انفرادیت کے تناظر کو اہمیت نا دینے والے لکڑ پتھر ہضم جدید الخیال لبرل طبقہ کو اپنے خود ساختہ علمی مغالطوں کی تصحیح کرنی چاہئے ،چونکہ مسلم قوم  ہمیشہ ہر دور و ماحول میں صدیوں سے ایک الگ تمدن و ثقافت پر عامل و راسخ رہتی   چلی آرہی ہے جبھی وہ اقوام غیر کے جس تصور سے نجات پاکر آزادی حاصل کرپائی تھی،اور جس حکومت چھینے والے سے آزادی حاصل کررہی تھی اسکے دین سے وہ کیسے فرحت و انبساط حاصل کرسکتی تھی؟، جناح کی تقاریر جو لبرلوں کے لئے مشعل راہ  بنی ہوئی ہیں ان میں صاف مسلم رسم و رواج  تشخص کی  فکر اقوامِ غیر کے مقابل  اہمیت و انفرادیت بیان کی گئی ہے ،ہندووں کی بابت انکے  موقف  سے مسلمانوں کی مذہبی سماجی،تاریخی و شخصیاتی تفریق واضح ہوجاتی ہے، آپ غور کریں ہندووں میں بھی تثلیث اولیت کا درجہ  رکھتی ہے، چناچہ برہما،وشنو، اور شیو کی تری مورتی سے جناح نے مفاہمت کرنے سے  صاف انکار کردیا ہے ، حلانکہ ایک ہندی فکری و مذہبی آرا کی رو سے یہ تینوں ایک ہی وحدت کے تین مختلیف تخصیص پر مبنی خدا ہیں یوں یہ عیسائی تثلیث سے اس لحاظ سے الگ ہیں کہ وہاں باپ سے زیادہ اس کا بیٹا یسوع  اپنی قربانی کے سبب زیادہ اہم جانا جاتا ہے،کبھی مریم بھی اس سے مقابلہ کرتی نظر آتی ہے،لہذا عیسائی تسور یسوع مسیح کو منانا تری مورتی سے زیادہ خطرناک ہے۔

جب جناح نے ہندووں کے مقابل اپنی قومی و ملی انفرادیت و تشخص پر زیادہ زور دیا تھا تو وہ کیسے اس عیسائی تثلیث پر راضی ہوسکتے تھے جسکی نفی قران و سنت بہ بانگ دھل کرتے  نظر آتے ہیں، چناچہ ہماری نہیں اللہ،رسول کی نہیں تو  کم از کم  بابا جناح کی  ہی بات اس ضمن میں سن لی جائے تو عمدہ ہوگا  جنکی ۱۱ اگست کی تقریر کو آذاد خیال لوگ ریاستی بایبل کا بیان  جانتے و تسلیم کرنے پر مصر نظر آتے ہیں،  خود دیکھو کہ جب خود  انکا بابائے قوم مسلم تشخص کو اجاگر کرکے  اس قوم کے لئے ایک تجربہ گاہ کا مطالبہ کر رہا ہو اور پھر مابعد تشکیل پاکستان اگر  ریاست خود اسی تشخص کے خلاف جائے تو اسکی سابقہ  کل تحریک اور ارادہ ازادی  کیا فنی و منطقی طور پر معطون نہیں  ٹھریں گے ؟عین ایسے اللہ کے غیر منقسم شدہ اقتدار اعلی  کو کیسے تقسیم شدہ تثلیث سے مفاہمت کروانا ممکن ہے؟یہ علمی فکری خلا آخر ایک توحیدی  کیسے اور کس طرح  پاٹے گا؟۔

قراردار مقاصد،قران و سنت سے فکری مبادیات:

اس  طرح پاکستان کو معرض وجود میں آنے کے بعد دیکھ  لو کیسے یہاں  مابعد تخیلق ِ  پاکستان قرار دار مقاصد کو تینوں آئینوں کا لازمی  حصہ مانا گیا  ہے،جس میں واضح طور پر اللہ کو کلی و حتمی طور پر اقتدار اعلی کا مالک و اہل گردانا گیا ہے،اسکی رو سے سرے سے کوئی بھی توحید ( سورہ اخلاص کی آیاتی تفسیر) کی رو سے اسکا کسی طرح سے شریک و سھیم  ممکن نہیں ہے تو اس تثلیث کے پیروکاروں سے فنی طور پر مفاہمت کیسے ممکن ہے؟  جبھی ملی  تشخص و موقف کا حامل مومن کیسے  کسی کو اس بات کی مبارک باد پیش کرسکتا ہے جو اسکے موقف کی رو سے حرام و غلط موقف ہے ؟یعنی  ایک طرح سے آپ انکو یہ  مبارک باد پیش کرہے ہیں کہ  چونکہ تم  ہمارے دین کے مخالف موقف اور عقیدہ پر خوشیاں منا رہے ہو جبھی ہم تم کو اس بات کی مبارک باد پیش کرہے ہیں کہ تم نے کھل کو وہ بات کہہ دی جسکو کہنے کی ہم کو اجازت نہیں ہے،یہ  ایک طرح سے ایسا معاملہ ہے کہ کوئی پاکستان میں جامعات میں ۱۵ اگست کا دن بطور مبارک باد بھارت کو خوش کرنے کے لئے منائے ،میرا ان سے سوال ہے کہ معاشرہ ،ریاست اور تمہارے شہری ضمیر کیا   یہ بات پسند کرینگے؟ اگر تم کہوگے نہیں تو تم وطن پرست ٹھروگے،جب تمہاری وطنیت اتنی انفرادیت پرست شناخت پر مصر ہوسکتی ہے تو اہل مذہب کیوں مذہب کی خالص غیر ملاوٹ شدہ تعبیر سے لطف اندوز ہونہیں سکتے ہیں؟،

یہاں بھی کوئی بھارت کو پاکستان نہیں تسلیم کررہا ہے اور نا اسے دھرتی ماں مان رہا ہے؟یہ کیا شدت پسندی نہیں ہے،ایسے فرد کے لئے کیا ریاست اللہ سے بڑی اور اہم شہ ہے؟ ۔

 جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ہم اہل ذمہ ،غیر مذاہب سے تعلق رکھتے شھریوں سے کس ظرح کے معاملات اس ضمن میں روا رکھیں تو جان لینا چاہئے یہاں زیادہ سے زیادہ آپ انکو ایک ریاستی شھری جانکر ،ذمی تسلیم کرکے انکو  اپنی کمیونٹی کے ساتھ خوشی و غم منانے کی اجازت دے سکتے ہیں ۔،انکے نجی معاملات میں ان سے دور رہ سکتے ہیں،انکی شادی بیاہ میں انکو مبارک باد دے  سکتے ہیں،ان کے غم میں انکا سہارا بن سکتے ہیں،انکی غربت و افلاس میں انکی مدد کرسکتے ہیں ، انکے ساتھ کھانا پینا بشرطیکہ حلال و طبیب ہوں کھا،پی سکتے ہیں ،انکے پڑوسی ہوسکتے ہیں ،مگر انکے خدا کے معرض وجود میں آنے کے تہوار کو یہ جانکر بھی کہ اس میں خود انکے اور انکے اباواجداد   کے  قرار کردہ خدا کی نفی و تقسیم پائی جاتی ہے پر وہ خود کیسے اپنی فکری بنیادوں کو  ڈھا سکتے ہیں؟

 یاد رکھیں اسلام کل انبیا کرام  کو مانتا و تسلیم کرتا  ہے،وہ ہزاروں  انبیا کرام جنکا قران و حدیث میں ذکر ہے یا جنکا قران و سنت میں ذکر نہیں ہے کو اہل اسلام  سے تسلیم کرواتا ہے مگر جو یقین اسما و تعارف سے قران کچھ انبیا کرام میں تخصیص کے ساتھ متعارف کرواتا ہے اسکا مقابلہ غیر وضاحت و صراحت کردہ انبیا کرام سے کرنا یقینی کیفیت پیدا نہیں کرتا ہے ، چناچہ  قران میں موجود چھبیس انبیا کرام کی پیدائیش و وفات سے دن موسوم کرکے منایا  نہیں  جا سکتا ہے،کوئی موحد و مومن  عیسیؑ ابن مریم کو نا تو عیسائیوں کی طرح ابن اللہ جانتا ہے اور نا مان سکتا ہے، کیونکہ اسکا دعوی،تھسسس اور ڈسکورس  اسکے بلکل الٹ ہے اور نا اس تناظر میں خوشیاں منانے والوں کے ساتھ مفاہمت و موافقت کرسکتا ہے،کیونکہ یہ دن اللہ اور نبی اکرمؐ کی تعلیمات کا اینٹی تھسس (جوب دعوی ) ہے،یہ الگ بات ہے کہ دیار غیر میں کمانے والے پاکستانیوں کی غیر اقوام کے علاقوں میں رہایش ،انکے ساتھ ملازمت کرنا اور انکے زیر نگین رہنا انکا شھری بننا انکو بھت حد تک مجبور کردیتا ہے وہ تقیہ سے کام لینے لگتے ہیں ،مگر دارالاسلام والوں کو یہ عذر بھی درپیش نہیں ہے،عیسائی اپنے عقیدہ کی رو سے جو چاہئے منائیں ہمیں اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ،مگر مسلمان ان کے تہوار کو انکو خوش کرنے کے لئے سرانجام دے یہاں فکری مسایل درپیش آجاتے  ہیں شاید اللہ نے ایسوں کی طرف ذیل کی آیت میں اشارہ کیا ہے کہ:

اور جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو انکے دل تنگ ہوجاتے ہیں،جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ہیں جب اسکے علاوہ والوں کا ذکر ہوتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں[الزمر:۳۹:۴۵]

سب تعریفیں اللہ کے ہی لایق ہیں جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ،اندہیرا  اور اجالا بنایا،پھر بھی کافر اپنے مالک کے ساتھ دوسروں کو برابر مانتے ہیں[الانعام:۱]۔

 

ذیل کی آیت دیکھیں جو ایک رو سے نبی اکرمؐ کی مستقل باقاعدہ اہمیت و اہلیت کو تسلیم کرواتی  دکھتی ہے، ساتھ ساتھ  دوسری طرف ساتھ اپکی شخصی قانونیت کو قایم کرتی  دکھتی ہے ، اور سب سے بڑھ کر دین میں غیر ثابتہ امور کی بیخ کنی کرتی نظر آتی ہے،جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے کہ:

سنو! جو لوگ حکم رسولؐ کی مخالفت کرتے ہیں انھیں ڈرنا چاہئے کہیں ان پر زبردست آفت نا پڑ جائے یا انھیں درناک عذاب نا آپکڑے[النور:۲۴:۶۳]

 اسلام غیر شرعی شعار کے ضمن میں اقوام غیر کی نقالی نفی کرتا نظر آتا ہے چناچہ ایک حدیثِ مبارکہ  میں ذکر  آیا ہے کہ غزوہ حنین سے واپسی پر صحابہ کرامؓ نے نبی اکرمؐ سے کفار کی  طرح ا اپنے لئے ایک شعار کا درخت مقرر کرنے کی درخواست کی تھی  جسے ذات انواط کہتے ہیں  تو نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ:سبحان اللہ! یہ تو ایسے ہے کہ جیسے موسیؑ کی قوم نے کہا تھا کہ ہمارے لئے بھی ایسے معبود مقرر کردیجئے جیسے ان (کفار) کے معبود ہیں ۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم ضرور پہلے لوگون کے طریقوں پر چلوگے(ترمذی:۲۱۸۰:لب لباب)

عین اسی طرح ایک اور  حدیث میں یہ بیان ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:

’’جس نے کسی قوم کی مشابہت کی وہ انہی میں سے ہو گا‘‘[احمد:ج :۲:صہ:۵۰]ـ

امام ابن کثیر ؒ اسکی شرح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:

’’مسلمانوں کے لئے یہ امر جائز نہیں کہ وہ کفار کی عیدوں، موسمی تہواروں اور عبادات میں ان کی مشابہت اختیار کریں‘‘[ابن کثٰیر:البدائیہ والنھائیہ:ج:۲:صہ:۱۳۴

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ :

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیگر دنوں کی نسبت ہفتہ اور اتوار کا روزہ رکھتے تھے اور یہ کی مخالفت کی  وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ  یہ   ’’ کے خاص ان دنوں  کے ضمن میں انکی مخالفت دو دن مشرکین کے لئے عید کی حیثیت رکھتے ہیں لہٰذا میں چاہتا ہوں اس کروں‘‘۔[احمد:ج:۶:صہ:۳۲۴:مفہوم و ترجمہ]  

اب لوگ خود فیصلہ کرلیں کہ جس مسلہ کو لوگ اتنا عام سا کھیل تماشہ مان رہے ہیں اور یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ مسلمانوں کے کرسمس منانے سے انکے ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہے اور ایمان کم یا زیادہ نہیں ہوتا ہے،تو جناب یہ موقف جمیع اہل سنت کے مستند اور بخاری کی حدیث کے خلاف ہے جسکی رو سے ایمان کم اور زیادہ ہوتا ہے جب مسلمان گناہ کرتا ہے تو ایمان میں کمی واقع ہوتی ہے،اور جب وہ نیکی کرتا ہے،عبادات میں مشغول ہوتا ہے امر بلمعروف پر عمل کرتا ہے تو ایمان مضبوط ہوتا ہے اور زیادتی کی طرف جاتا ہے۔

قران میں ذکر ہے کہ :

سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے جب کہا گیا کہ:

 ﴿أَوَلَمْ تُؤْمِن ﴾:ایمان نہیں رکھتے ہو

 تو انہوں نے جواب دیا

بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي 

[البقرۃ: 2/260 ]کیوں نہیں، لیکن دل کا اطمینان چاہتا ہوں۔

جندب بن عبداللہ البجلي رضي اللہ عنہ کہتے ہیں:كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِتْيَانٌ حَزَاوِرَةٌ، «فَتَعَلَّمْنَا الْإِيمَانَ قَبْلَ أَنْ نَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ، ثُمَّ تَعَلَّمْنَا الْقُرْآنَ فَازْدَدْنَا بِهِ إِيمَانًا»
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: انہوں نے فرمایا: ہمیں نبی
کا ساتھ نصیب ہوا جب کہ ہم بھر پور جوان تھے، تو ہم نے قرآن کا علم حاصل کرنے سے پہلے ایمان سیکھا ،پھر ہم نے قرآن سیکھا تو اس سے ہمارے ایمان میں اضافہ ہوگیا۔.

  [ابن ماجہ: 61 وصحیحہ الالبانی]

 چناچہ ،نبی اکرمؐ نے صاف اور واضح طور پر مسلمانوں کی صرف دو عیدیں قرار دی ہیں(نسائی:کتاب الصلوۃ العدین:ابن حبان:عن انس بن مالکؓ) عید الاضحی اور عید الفطر اور یہ بات کل عالم اسلام کو جان لینا چاہئے کہ خالصتاً محقق طور پر شرعی نقطہ نظر سے   ان  عیدوں کے علاوہ مسلمانوں کی کوئی اور عید و تھوار نہیں ہیں،کیا نبی اکرمؐ اور خلفائے راشدین،خلفا بنو امیہ،بنو عباس،فاطمیں و عثمان اہل کتاب ذمی عوام اپنی سلطنتیوں میں  نہیں رکھتے تھے َ؟پھر کیوں انھونے انکے تہواروں میں شرکت نہیں کی،انکو مبارک باد پیش نہیں کی،انکی تقریبات میں شرکت کیوں نہیں کی؟ظاہر ہے ان مواقف میں رسالت و نبوت کے ارتقا نفسی،نیابت کی بابت تو بحث ممکن ہے مگر خدائی کی تقسیم اور اسکی جوہریت میں تبدیلی پر مفاہمت ممکن نہیں ہے،کوئی فرد بیک وقت پاکستان کا شھری بنتے ہوئے،ہندوستان کا شھری نہیں بن سکتا ہے(ہاں وہ ترکی و جاپان کا دوسرا شھری ممکن ہے)،دوہری شھریت حاصل کرکے دونوں کے ساتھ جنگ و جدل میں انصاف نہیں کرسکتا ہے،یہاں لبرل آرڈر فرد کی یہ آزادی پسند نہیں کریگا کہ وہ اپنی اصل سے غداری کرے اور غیر سے نباہ کرتا پھرے۔

چناچہ کسی کو خوش کرنے کے لئے ہیپی کرسمس کہنا اسلامی اصول و عقاید کے ساتھ ساتھ آئین پاکستان کی رو سے بھی  جایز نہیں ٹھرتا ہے،یہ ایک مسلمہ مسلہ ہے کہ قراردار مقاصد مسلم تصور اقتدار اعلی کی مظھر ہے ناکہ کسی تثیلیثی نظریہ کا وجود تسلیم کرتی ہے، واضح رہے ہمارے لبرل اور غیر لبرل افراد ارادہ آذادی کو قانونی  دستاویزات میں بروئے کار نہیں لاتے ہیں  اپنے شناختی کارڈ سے ووٹ تک،اسمبلی تک خود کا دین اسلام ہی کثیر فواید کے حصول کے لئے لکھتے پھرتے  ہیں ،چونکہ انکا تحریری دین اور انکا شناختی کارڈ انکو مسلمان قرار دیتا ہے،جبھی وہ ریاست و سیاست سے بوقت ضرورت بہت کچھ حاصل کرلیتے ہیں، جبھی ان پر سیکولر موقف کے اظھار کی جگہ فنی طور پر اسلام کے اقرار اور عمل کا تقاضہ منطقی ٹھرتا ہے۔

دوسری بات آئین کی تمہید اور قراردار مقاصد اصولی فنی طور پر پاکستان کو سیکولر ریاست تسلیم نہیں کرتے ہیں اور یہ الگ بات ہے کہ عملی طور پر پاکستان اسلامی ریاست کے برخلاف رویہ رکھتا  نظر آتا ہے ، لہذا یہاں  کسی کے ہاتھ کچھ  ایسا کم از کم تحریری تناظر میں یہ دعوی کے تناظر میں متضاد کہنے و کرنے کے لئے باقی  نہیں بچتا ہے کے اس میں کچھ کرتا پھرے اور یہ لوگ اس ضمن میں علمی طور پر ایسا  کر بھی کیسے سکتے ہیں؟ جب ہم اس ضمن میں قران کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ قران اس معاملہ میں اللہ کی جانب سے شرک میں کسی رحم وکرم ،مفاہمت اور کمپرومایز کا سرے سے قایل ہی  نظر نہیں آتا ہے، کیونکہ قرانی آیات و صحیح احادیث کی رو سے  کوئی بشر اللہ پر سب سے بڑا ظلم لفظی و اعتقادی طور پر یا شرعی غداری کے ضمن میں   شرک کی صورت میں کرتا ہے ۔

اور اللہ  مشرک کو اپنے قول و ہدایت کی رو سے سے سرے سے نہیں بخشتا ہے  جبتکہ وہ اسلام نا لے آئے  بلکہ قران و سنت سے یہ امر کثرت سے ثابت ہے کہ  اللہ نے خود پر نصوص کی رو سے  سے یہ امر فرض کرلیا ہے کہ وہ مشرک کو نہیں بخشے گا،یہ الگ بات ہے کہ اصل مالک،رازق اور آخری فیصلہ کرنے والا وہی ہے چناچہ  یہاں مشرکانہ عید   مبارک باد کیسے تسلیم کی جاسکتی ہے ؟اسی طرح جب ایک فرد پاکستانی ریاست یا کسی اسلامی ریاست کے دایرہ کار میں رہتے ہوئے جب اپنے شناختی کارڈ ،بینک ریکارڈ،ایف۔آر۔سی۔برتھ اور ڈیتھ سرٹیفیکیٹ سے نکاح اور وراثت تک خود کو مسلم کہلواکر مسلم فرد کے حقوق سے لطف اندوز ہوتا ہے تو اس پر نتیجتاً یہ امر بطور فرض   لازم آتا ہے کہ اپنے رب کے حقوق ادا کرے ،اسکا وفادار رہے اسکی رضا کو اپنا مقصود جانے،یہ نہیں ہوسکتا  ہے کہ وہ  رب کسی اور کو سمجھے ، اور تعظیم عبودیت کسی اور کی بجا لائے ،اسکی حمد و ثنا کو مذاق جانے اور اسکی جوہری مخالفت کرنے والوں کو دل کے قریب تسلیم کرتاپھرے۔

اللہ بقول قران و حدیث اس بات کو گالی تصور کرتا ہے کہ کوئی اسکی جانب اپنی طرح آل اولاد،ماں،باپ،رشتہ داری ثابت کرے  اور ان سے متعلقہ تقریبات مناتا پھرے ؟ عیسائیت چونکہ اسلامی فرقہ نہیں ہے بلکہ بلذات آزاد شخصی دین ہے جبھی انکا کرسمس منانا انکا دینی تہوار ہے ،انھونے کبھی اسلام سے اپنی نسبت قایم نہیں کی ہے جبھی خارجی طور پر وہ کرسمس منا سکتے ہیں ،مگر مسلمانوں کو اسکی تبلیغ و دعوت دینا صدیوں کی روایات کے خلاف ہے ،چونکہ کل انبیا کرام کا مذہب اسلام تھا اور سب نے توحید پر اصرار کی تبلیغ کی شرک کے خلاف جھاد کیا اور اس دایرہ کار کی علمیاتی روح کی تخریب کاری پر توجہ مرکوز رکھی جبھی کل دور رسالت اور صحابہ کرام میں کسی نے اسلامی سلطنت میں موجود ذمیوں کو نا انکے تہواروں پر مبارک باد پیش کی اور نا انکی محفلوں میں خیر سگالی بنیادوں پر شریک ہوئے،بلکہ اہل سنت کے برخلاف اہل جعفریہ نے غیر مسلموں کے وجود اور پسینوں تک کو ناپاک قرار دیا ہے،حلانکہ ہم ایسا کوئی موقف نہیں رکھتے ہیں نا انکے ساتھ کھانے پینے،کاروبار کرنے کے منکر ہیں ،مگر اسکا یہ بھی مطلب نہیں ہے کہ ہم انکے ساتھ شادی بیاہ کرنے اور انکے تہواروں میں شرکت کے قایل ہیں،کیونکہ اسلام کا علمیاتی دایرہ کار اور اس کی کل جوہری فکر میں اسکی سرے سے گنجایش موجود نہیں ہے، کیونکہ توحید و تثلیث میں کوئی خارجی و داخلی  مفاہمت ممکن نہیں  ہے، ماسوا کچھ مسایل ِ فروع کے۔

ساتھ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ کوئی ہیپی کرسمس کہنے والا کافر ہوجاتا ہے،لیکین نافرمان اور غیر مطیع اعتقادی فاسق وہ ہر صورت میں ہو جاتا ہے ،یہں یہ امر جان لینا چاہئے کہ اعتقادی فسق عملی فسق سے ہزار گناہ خطرناک شہ ہوتی ہے، لہذا یہ ضرورسمجھنا چاہئے کہ اللہ کو اہل کفر و شرک سے تشبہ پسند نہیں ہے۔ جب نبی اکرمؐ جنکی رحمت العالمیت کے ہمارے نیم مسلم نیم لبرل گن گاتے پھرتے ہیں سے اسکے موافق کچھ ثابت نہیں ہے مگر مخالفت میں کثرت سے  بلسند مرفوع صحیح روایات ثابت ہیں تو اپنے انفرادی موقف کو صرٖف لفظ رحمت العالمیں سے ثابت کرنا کیسے علمی طور پر ممکن ہے؟یا تو یہ کہا جارہا ہے کہ آپؐ رحمت العالمین تھے تو اسی تناظر میں نبی رحمت سے ذمیوں پر یہ رحمت بھی مستند حوالے سے بلسند و متن ثابت کردیتے تو عمدہ ہوتا کہ انھی بنی محترمؐ نے کبھی عربی عیسائیوں،غسانیوں،و نجرانیوں کو کبھی کرسمس کی مبارک باد نبی رحمت بننے کے ضمن میں دی ہو؟

پھ یہاں پرر یہ کیا یک طرفہ  خود ساختہ  کلیہ گھڑ لیا گیا ہے کہ ہمیں اللہ و رسول بس رحمت کے طور پر قابل قبول ہیں، ،صاحب سزا و جزا کے طور پر قابل قبول نہیں ہیں؟کیا نبی اکرمؐ نے دین اسلام کی تعلیم وحی کی روشنی میں دی تھی یا کسی کی خواہش نفسانی کی فکری مابعد الطبیعات کی روشنی میں دی تھی؟یہ تو نراجیوں ،انارکسٹ لوگوں اور ٹریڈیشنل کلاسیکل لبرلازم کا موقف ہے کہ ریاست شھری اور تاجر کے معاملات میں کم سے کم مداخؒت کرے اور ان پر ٹیکس کا بوجھ کم کرے،یہ لیزیز فیرے نما بیان دلیل میں کہے کہ بابو جی!ً اچھی حکومت وہی ہے جو کم از کم فرد کے معاملات میں مداخلت کرے،ایسے موقف کے نتیجے میں جب محقق دماغ تحقیق کرتا ہے تو دیکھتا ہے کہ  دو نوں جنگ عظیموں میں ہونے والے خون خرابے،کاروباری سود بازی،قمار بازی،گروہ بندیوں اور عالمی کساد بازاری نے خود لبرل سیکولر ریاست کو مجبور کیا  ہےکہ وہ ریاست کے شہریوں  کی ہر حرکت و عمل پر نگاہ رکھے،عوام کو جایز حدود میں آزادیاں فراہم کرے اور منفی غیر منضبط آزادیوں کی نفی کرے، ہم دیکھتے ہیں کہ جان مینارڈ کینز کی معاشی اصلاحات نے ریاستی دایرہ کار کو اور مضبوط کردیا ہے اور ۱۱ ۔۹ نے اسکو مذید بام عروج عطا پر پھنچا دیا ہے،یہیں سے پوسٹ ماڈرن لبرلازم کو جلا ملتی ہے،لہذا جدید ہو یا قدیم ریاست دونوں ہی کچھ امورِ حیات کو جایز اور کچھ کو ناجایز قرار دیتی چلی  آئی ہیں،اور ان منھیات کی نفی کرنے والوں کو سزا دیتی آئی ہیں۔

دین میں قانون ِ شرعی کی رو سے رحمت ،قھر ،جزا و سزا کا معاملہ:

لہذا معلوم ہوا کہ جزا و سزا(ریوارڈ اور پنشمنٹ) کا تصور معقولی قانونی اور علمی نوعیت کا حامل ہے،فرد جب منظم اجتماع کی مخالف سمت میں جاتا ہے تو وہ دیش دروہی اور نراجی مانا جاتا ہے،عین یہی معاملہ اسلام کے امر بلمعروف ونہی من المنکر کا بھی  ہے، لہذا اللہ رحم کے قابل لوگوں کو ، اور توبہ کرنے والوں کو معاف بھی کرتا ہے اور ان پر رحم بھی کرتا ہے،نبی اکرمؐ بھی اسی روشنی میں بیک وقت خلیق،و رحیم تھے مگر ساتھ میں حدود و تعزیز کے نفاذ کے بھی عامل تھے، کیونکہ حدود و قصاص و دیت معاشرے میں عدل و انصاف ،امن و بقا کے ضامن عین انصاف کی علامت ہوتے ہیں ۔

چناچہ رحیم و کریم اللہ اور رحمت العالمیت والے نبی محترمؐ کے خدا  نے لوطیوں  اور ہفتہ کے روز مچھلی کے شکار کا حیلہ کرنے والوں ،انکی حمایت کرنے والوں ،انکے بد اعمالوں پر خاموشی اختیار کرنے والوں سب پر عذاب نازل کیا تھا،بنی اسرائیل کا یہ قصہ قران و سنت سے ثابت ہے،  چناچہ صاحب موقف نے کل اسلامی ریاست کے خاص ثابتہ  امور حدود و قصاص کو سرے سے رحمت کے نام پر بھلا دیا  ہےاور سیرت نبوی اور سنت نبوی کے ان قانونی پہلووں سے چشم پوشی سے کام لیا ہے،وہ یہ کیوں فراموش کرگئے کہ فاطمہ مخزومی کا حد میں ہاتھ قطع کرنا،صفوان بن امیہ کی چادر کے چور کا قطع ید کرنا،قبیلہ عکل کے باغیوں مرتدوں کو ہاتھ پیر کاٹ کر مرتا چھوڑنا بھی نبیؐ سے ثابت ہے اور یہ عین انصاف تھا ناکہ کوئی ظلم  و ناجایز قھر پر مبنی کوئی عمل تھا ،کیونکہ مجرم پر رحم معاشرے و ریاست پر ظلم ہوتا ہے،اور انکی مجرمانہ ظالمانہ سماج و قانون مخالف اعمال پر خاموشی انصاف کا قتل ،ظلم کی انتھا اور مظلوم کی نفی کرنا ہوتا ہے۔

ریاست و مذہب اسلامی منھج میں مغربی سیاسی و قانونی منھج کے برخلاف لذت کی انتھا ،تبلیغ و فروغ پر یقین نہیں رکھتے ہیں بلکہ انکی تحدیدیت پر یقین رکھتے ہیں،جبھی سزا دینا اور ظلم کرنا دو الگ الگ پہلو ہیں،انکو یکساں سمجھنا اور فرد و رب کو بس رحمت و کرم میں مقید کرنا کسی کا ذاتی غیر معقولی رویہ و موقف  ہوسکتا ہے،جس میں وہ اپنی خواہش نفی کو بلا تحدید کئے رب و نبی کے اختیار و قوت کی تحدید کردیتا ہے، مگر اسی جدید ریاست کے جدید شھری فرد اور اسکی فردیت کا ذاتی ٹوپی ڈرامہ حقیقت میں یہ نظر آتا ہے کہ وہ خود تو اپنے عزیز و اقارب کے قاتل کو قتل کرنا ایک عملِ باعث ثواب جانتا ہے ،مگر رب کو اپنی نافرمانی کرنے پر سزا دینے سے محروم کرنا بڑی جرات سے بزعم خویش  مفروض کرلیتا ہے۔

 چناچہ ہم دیکھتے ہیں کوئی بھی ریاست ارادہ آزادی پر قایم ہوتی ہے اور حکومت اقتدار اعلی کی روشنی میں کام کرتی ہے،وہ شھریوں کو اختیار و حقوق دیتی ہے ،ان سے مشورہ کرکے،انکی خواہشوں کے آگے جبکہ وہ ناجایز ہوں سر تسلیم  خم نہیں کرتی ہیں،چناچہ مذہب و رب ریاست کا ماخذ ہوتے ہیں اسکی جوہریت ہوتے ہیں نا کہ اسکی لونڈی ہوتے ہیں  کہ جنھیں ہر کوئی  ایرا غیرا نتھو خیرا انکو جس طرح چاہے چلاتا پھرے اور ان سے یہ توقع کرے کہ  وہ ہر گھر کے دروازے سے صاحب بیت کی خواہش کے مطابق روپ دھار کر داخل ہونگے اور نتیجتاً ،ہر دروازہ سے داخل ہوتے ہوئے انکی کایہ کلپ ہوجائیگی؟یہ امریکی  ڈرامہ  سیریل ویسٹ ورلڈ،آلٹرڈ کاربن  کی قسم کا  کوئی اضافتی مسلہ و موضوعیت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تاریخی حقیقت اور  مستقل صدیوں سے منتقل ہوتا غیر متغیر منظر نامہ ہے جسے کوئی سامع و قاری ہایپر ریلیٹی جانکر ہضم نہیں کرسکتا ہے۔

ہر قوم مذہب کی کچھ  مخصوص رسم و رواج،تہذیب،تمدن،ثقافت اور اقدار نامے ہوتے ہیں جو انکی شناخت کو دیگر افراد،ثقافتوں ،اداروں اور سماجوں سے متمیز کرتے نظر آتے ہیں،عیساٗئی مذہب اگر چہ کہنے کی حد تک ایک سامی دایرہ المذاہب  کی مذہبی درجہ بندی کا  ایک جز سمجھا جاتا ہے، مگر پھر ہمیں یہ بھی  جان لینا چاہئے کہ سامی مذاہب میں عموما سامی نسل سے تعلق رکھتے وہ مذاہب شامل کئے جاتے ہیں،جو سام بن نوح کی نسل یا اسکی نسل میں موجود انبیا کرام کی تبلیغ و پیغام پر اعتقاد رکھنے والے جانے جاتے ہیں،اس بحث میں ہمیں ان سوالات کا جواب ڈھونڈھنا پڑیگا جو ہم سے پوچھے جاتے ہیں اور موجودہ کرسمس پر  پاکستان  میں  ایک کیک کے سبب جو اعتقادی بحث ادیان کے درمیان مفاہمت کی کوکھ سے نکلی  ہےاس پر عام فرد کا ذہن مضطرب و بے چین نظر آرہا  ہے،فیس بک پر کثرت سے طلبا و طالبات کی پوسٹوں ،تنقیدوں،مزاح، صنم سعید اور سارہ یوسف کے بیانات سے جو بحث نکلی اسکا ایک جوہری جایزہ قران سنت،تاریخ اور ادیان عالم سے لینے کی کوشش کرینگے۔

کرسمس کی تاریخ و اصل:

سب سے اول ہم یہ دیکھنے کی کوشش کرینگےکہ یہ کرسمس کا تصور عیسائی دنیا میں کیسے نفوذ پذیر ہوا اور لفظ کرسمس سے کیا معنی ہیں؟

کرسمس دو لفظوں کرایسٹ جمع میس کا مجموعہ ہے جو اب ایک تہواری اصطلاح کا درجہ حاصل کرچکی ہے،یہاں کرایسٹ سے مراد جِسِس ،یسوع مسیح اور ابن اللہ کو  لیا جاتا ہے جبکہ  میس انگریزی میں عوام کے اجمتع کو کہتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ کرسمس سے مراد وہ تہوار ہے جو یسوع مسیح کی مناسبت سے منایا جاتا ہے، اور عوام جس کے مناے کے لئے مجتمع ہواتے ہیں ،چناچہ یہ تہوار ماضی میں رومن بت پرست،مظاہر پرست اس تاریخ کو منایا کرتے تھے،جب چوتھی صدی عیسویں میں عیسائیت پر سے رومن سلطنت میں بطور مذہب ماننے کی قدغن ختم ہوئی تو ،تثلیث کی قدیم اقوام میں موجود تصوریت نے اسے عیسائیت کے روپ میں منقلب کردیا،تاریخ سے معلوم پڑتا ہے کہ اس روز ۲۵ دسمبر کو سورج دیوتا کی مناسبت سے یہ دن اہل روم میں معروف تھا۔

چناچہ انسایکلو پیڈیا آف ورلڈ ریلیجنز میں لکھا ہے کہ:

The earliest celebration of Christmas that we know about took place in Rome in the middle of the fourth century. This is the period during which CHRISTIANITY was in the process of becoming the official religion of the Roman Empire.A century earlier the Roman emperor Aurelian (ruled 270–275) had made the WORSHIP of Sol In victus, “The unconquered sun,” the official religion of the empire. In 274 he had required all subjects of Rome to celebrate the birth of the sun on December 25. This is the date when days in the Northern Hemisphere begin to grow longer again. Many speculate that Aurelian’s celebration of the birth of the sun was the origin of the celebration of Christmas on December 25.

]Ellwood&Alles(ed) ۔encyclopedia of world religions .facts on file.2007.USA.pp:90.[

ہمارے رومن کلینڈر میں جو یسوع مسیح کی پیدائیش سے شروع ہوتا ہے  وہ بلنفس ایک شمسی کلینڈر ہے اور مسیح کی تاریخ پیدایش ،شمس یعنی سورج دیوتا بمعنی سن کے تہوار سے منسوب  نظر آتی ہے،یعنی مسیح کا پیداواری تہوار بذات خود تاریخی نقطہ نظر سے ایک مظاہر پرست معاشرے کا جانشین مگر متبدل تہوار ہے۔چناچہ اے۔ڈی[1] کی علامت سے مراد انگریزی میں اینو ڈومینی ہے ،یعنی ہمارے رب،ابن اللہ ،یسوع مسیح کی پیدایش سے شروع ہونا ہے۔یہ بات واضح رہے کہ مسیح کی تاریخ پیدائیش کوئی تاریخی حقیقت یا متفقہ تاریخ نہیں ہے،عیسائی انسایکلو پیڈیا نما کتاب جو عیسائیت کی بابت مخلتلیف معلومات کا مجموعہ ہے یعنی میری مراد قاموس الکتاب سے ہے معلوم پڑتا ہے کہ مسیح ۴ یا ۶ قبل میسح میں پیدا ہوئے تھے۔چناچہ مختلیف عیسائی کلیساوں میں اس تاریخ پر اختلاف ملتا ہے رومن کتھولک اور انکی کوکھ سے انکے رد میں پیدا ہونے والے پروٹسنٹ ۲۵ دسمبر مسیح کی تاریخ پیدائیش سمجھ کر مناتے ہیں جبکہ انکے مقابل مشرقی آرتھو ڈاکس کلیسا(گریک آرتھو ڈاکس) ۶ جنوری اور آرمینی کلیسا ۱۹ جنوری کو مناتا دکھتا ہے اسکا باقاعدہ آغاز قیاساً ۳۲۵ کی نکایا کانفرنس کے بعد ہوا تھا جب عیسائی مذہب کو سرکاری سطح پر مان لیا گیا تھا۔

چناچہ قاموس الکتاب میں لکھا ہے کہ: 

یہ واضح نہیں ہے کہ اول اسے کب منایا گیا ،کیونکہ مسیح کی صحیح تاریخ پیدائیش کا پتہ کسی کو بھی نہیں ہے،تیسری صدی عیسویں میں الگزینڈریا کے کلیمنٹ نے رائے پیش کی تھی  کہ اسے ۲۰ مئی کو منانا چاہئے،لیکین اسکے برخلاف ہم دیکھتے ہیں کہ ۲۵ مئی کو اسے اس لئے روم میں بطور تاریخ پدائیش منانے کا فیصلہ ہوا تاکہ جشن زحل کے غیر مسیحی تہوار( جس میں خود نگ رلیاں،موج مستیاں ،ناچ گانے ہوتے تھے ) جو سورج کےراس الجدی پر پہنچنے پر منعقد ہوتا تھا کی جگہ اسکی مخالفت میں یہ دن منایا جاسکے۔

[قاموس الکتاب:صہ:۱۴۷]

اس قسم کی گفتگو معروف ادیان عالم پر کتاب از غلام رسول چیمہ میں بھی لکھی ملتی ہے

(ادیان عالم کا تقابلی مطالعہ:صہ:۴۳۵)

اہل مغرب کی تہواری غیر اقداریت کی روح:

 

 کرسمس آج اہل مغرب اور انکے اتبع و تقلید کا عالمی تہوار بن چکا  ہے ،چناچہ آج کرسمس کا تہوار صرف عیسائی  ہی نہیں مانتے ہیں بلکہ کل مغربی تہذیب مناتی ہے جس میں ملحدین،فری تھنکرز،متشکیکین تک شامل ہوتے  ہیں،کیونکہ ان سب کا  یہ ماننا ہے کہ فری تھنکنگ ،ہیومن ازم،انسانیت پرستی،ایک خاص روماننیت کی پیداوار ہے،چناچہ اہل مغرب کے غالب انفرادیت پسند لبرلز کے ہاں قدری طور پر کفر،شرک،توحید سب  فرد کے نجی ذاتی معاملے سمجھے جاتے  ہیں چناچہ انکے نزدیک اخلاقی طور پر جو جو فرد  جس جس امر پر اعتقاد رکھتا ہے وہ وہ  امر و موقف اسکے لئے خیر سمجھا جاتا  ہے باقیوں کے لئے یا تو شر پر مبنی ہوگا اور  ملایم الفاظ میں انکے لئے غیر خیر ہوگی یا غیر اقداری قدر کی حامل ہوگی، مگر جسے وہ لذت،اشتھا اور خواہش محبوب ہوگی اسکی اخلاقیت کے تناظر میں اسے خٰیر جانا جائیگا۔

چناچہ اسی تناظر میں کل جدید الخیال،کلچر ڈایورسٹی کی معتقد دنیا بھی تصوف کی طرح ادیان کو ذاتی معاملہ قرار دیتی نظر آتی ہے اور جس قوم کا بھی تہوار ہو اس میں شامل ہوکر موج مستیاں منانے کو وہ کوئی برا کام تصور نہیں کرتے ہیں،انکی رو سے کوئی لگا بندھا،علمیاتی ڈھانچہ کسی نظام کا موجود ہونا اور نا ہونا کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے،انسانی خواہش ،لذت،بلرضا تعلقات و معاشرت اصل شہ  ہوتے ہیں ،چونکہ ہیومن رایٹس ڈسکورس اطالوی نشاتہ ثانیہ کی رومانوی بشری رجعت پسندی کی کوکھ سے یہ تصور مغرب میں پیدا ہوا تھا کہ انسان ہی اصل رب ،معیار ِ حق و باطل ہے جو اسکی پسند اور رضا ہوگی وہی حق ہوگا جسکا وہ مخالف اور  منکر  فرد و بشر ہوگا وہی شر مانی جائیگی،یہیں سے افادیتی پسندوں کی اشتہا و لذت کی بو قلمونی پیدا ہوتی دکھتی ہے،چناچہ کسی سوچ کو کوئی مذہبی ضابطہ حیات و عقیدہ مقید و محدود نہیں کرسکتا ہے، انکے نزدیک کل مذاہب انسانوں کے بنائے گئے  فکری سانچے ہوتے ہیں اور یہ انسان  اور اسکی خواہش نفسی و لذتی سے بالاتر نہیں  ہوتےہیں،بقول انکل  مارکس مذہب ایک افیون اور استحصالی ادارہ ہے۔

چناچہ جن اذہان پر ایسے افکار راسخ ہوتے چلے جاتے ہیں وہاں یہ لوگ  کسی مذہب کی روایتوں ،اعمالوں،اور عقاید کو زیادہ سے زیادہ بس  ایک نجی ،پرایوٹ معاملہ گرداننےلگتے ہیں اور جب کوئی اسے اجتماعی اور کلیکٹیو موقف ثابت کرنے کی کوشش کرتا  ہے، یا ان سے بحث کرتا ہے تو وہ اںاجتماعت اور اسکے ذیل انفرادیتیں انکی رو سے تنگ نظر بیک ورڈ تصور کی جاتی ہے،انکی رو سے خدا اور نبی بس رحم کرنے والے مھربانی کرنے والے وجودوں کے طور پر قابل قبول ہیں،جبھی انکی ہر تعمیل حکم اور اسکی خلاف ورزی سرے سے  اہم نہیں مانی جاتی ہے کیونکہ انکے موقف اور فری عقیدہ کی رو سے چونکہ اللہ بڑا مھربان نہایت رحم کرنے والا  ممکن ہےاور نبی اکرم رحمت العالمیں  سنے گئے  ہیں جبھی یہ  دونوں انکی عدالت ِ احتساب میں اخلاقی،قانونی،سیاسی کج رویوں پر سزا دیتے سناتے انھیں قابل قبول نہیں ہوتے  ہیں،چناچہ بقول عامر لیاقت حسین جس نے عشق رسول کا پٹہ ڈالا ہو اسکو دوپٹہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

میری اس تحریر کا مدعا و مقصد اس بحث کی کوکھ سے پھوٹا ہے جس میں یہ بیان ہوا کہ کراچی میں ڈیفنس میں ایک سینٹ جوزف اور اقرا کی کی طالبہ کیلیسیا نسیم خان ایک معروف بیکری چین بنام ڈیلزیا،خیابان ِ جامی(جمیل؟) ڈیفینس کرسمس کیک خریدنے گئی تو وہاں کیک پر ہیپی کرسمس لکھنے سے انکار کردیا گیا۔جس پر موصوفہ نے اپنی فیس بک کے صفحے پر اس واقعہ کی خبر شیر کی،جس پر لبرل طبقہ اور میڈیا کی شخصیات جیسے صنم سعید،اور سارہ یوسف نے بڑے  افسوس  و تاسف کا اظہار کیا،اور اسکو ایک تنگ نظری اور جھالت سے تشبیھہ دی گئی  اور اپنے تیر کش سےذاتی  لبرل فتاوی جاری کردئے  ویسے بھی میڈیا پرسنز اور اداکار لبرل معاشرے کے اہم ترین آلہ کار اور مبلغ ہوتے ہیں  چناچہ من حیث المجموع ایسے تمام حضرات کے  لبرل فتاوی جات میں  یہ قرار دیا  گیا ہے کہ ایسا  چھوٹا  عمل کرنا چھوٹی ذہنیت و تعصب کی علامت ہے،مزے کی بات یہ ہے کہ اس بیکری پر ایسے الزامات ۲۰۱۸ کی کرسمس میں بھی عاید کئے گئے تھے۔دونوں دفعہ بیکری نے شور شرابے پر اظھار افسوس کیا  تھااور کسی ذمہ داری لینے سے انکار کیا ہے،جبکہ فیس بک پر پوسٹ کرنے والی صاحبہ کی رو سے انھیں بتایا گیا کہ ایسا نا کرنے کا اوپر سے حکم ہے۔

احادیث مبارکہ اور آیمہ کرام کے ارشادات  سے کچھ نادر بحثیں: 

یہاں اتنا تو واضح ہے کہ کوئی بھی متبع شریعت فرد جو اسلام کی جوہری فکر اصول و فروع کو جانتا ہے،یا اسے انکی معمولی سی  بھی معلومات حاصل ہے،جس نے بس قران تھوڑا بھی ترجمہ سے پڑھا ہے وہ کبھی کسی بھی غیر قوم کے تھوار پر اسے مبارک باد پیش نہیں کریگا، لیکین ہمیں یہاں  یہ شک درپیش  ہے  کہ عموما  کراچی میں بیکریوں پر بلعموم،چوہراہوں پر بلخصوص ویلنٹاین ڈے سے کرسمس تک کیک سے ،پھول تک،اور عشقیہ تحفہ جات تک کھلے عام بکتے نظر آتے ہیں اور کوئی اس ضمن میں دین کو خاص اہمیت دینا پسند ہی نہیں کرتا ہے،اب یہاں دیکھنا اور تحقیق کرنا باقی ہے کہ  بیکری ملازمین کا انکار انتظامی حکم  کے سبب  ممکن ہوا ہے  یا ملازمیں اور بیکر کا ذاتی موقف تھا۔

کیونکہ ڈیفنس میں لبرل موقف ،ّزاد خیالی پر مبنی اعمالوں اور تہواروں کو منانا سرے سے معیوب جانا ہی نہیں جاتا ہے ،اور وہاں ملازمت کرنے والے کٹر مسلمان بھی ان امور پر خاموش رہ کر کمانا اور ملازمت کرنا ہی محفوظ تصور کرتے ہیں چناچہ ،بیکری کی انتظامیہ کا ایسا حکم دینا شھرت کے ماسوا کیا ہوگا؟ کیونکہ بزنس ،کلاینٹ  تعلقات و کاروبار کے تناظر میں ایسا ہونا کچھ اچھنبا سا محسوس ہوتا ہے ، اگر بہ حیثیتِ مجموعی  بیکری اور اسکے متعلقہ  ملازمین نے ایسا  کچھ عمل  کسی  دینی فکر کی روشنی میں کیا ہے تو ان فری کی میڈیا سے تعلق رکھتی مفت کی مفتی خواتین کے لبرل فتاوی کا رد کرنا  ہمیں لازمی محسوس ہوتا ہے  کیونکہ نبی اکرمؐ کے کثیر ارشاداتِ  گرامی اسکی نفی میں کئی صحیح روایتوں سے ثابت  ہیں جیسا کہ:

سیدنا حسن بن علیؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرمؐ سے یاد کیا کہ :

جو چیز تمہیں شک میں میں مبتلا کرے اسے چھوڑ دو اور جو شک میں مبتلا نا کرے اسے اختیار کرو ،اس لئے کہ صدق میں اطمینان ہے اور جھوٹ میں شک ہے۔[ترمذی:۲۵۱۸]

 

سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ: آّدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات ّگے بیان کردے[مسلم:مقدمہ:۵:۵۔۔ابوداود:۴۹۹۲]

یہاں یہ بات قران ،حدیث،تاریخ،موافق و إلاف تاریخ،ادیان عالم کے تقابلی مطالعہ سے ثابت ہے کہ مسلمان توحید کے پیروکار ہیں وہ عیسیؑ کو عیسیؑ ابن مریم الرسول،النبی،العبد جانتے ہیں،وہ ناکہ عیسی کو یسوع مسیح ابن اللہ تسلیم کرتے ہیں،اللہ بقول قران و حدیث شرک کو سب سے بڑا گناہ ہے،اور اسکی اولاد،بیٹا اور بیٹیاں ہونا کائینات کا سب سے بڑا جھوٹ تسلیم کرتا ہے،کل ادیان کی رو سے جھوٹ ایک شر و گناہ ہے،سچ ایک حق و نیکی ہے،جبھی اسلام کا پیروکار یہ بات بخوبی  جانتا ہے وہ کیوں اور کس لئے  عیسائیت سے الگ و مختلیف قلب و جسد کا مالک ہے،اسکا عقیدہ ان سے کیونکر الگ اور مختلیف  نقطہ نظر کا حامل ہے، اور یہ تصور کرسمس بازی  سورہ اخلاص کے اجمال اور اور قران کے مفسر ہونے کے  عین درست سمت کے  خلاف کحڑا نظر آتا ہے،چناچہ کسی کی حمایت میں مسلمان کے صحیح فعل کو ناپسند کرنا  اوراس پر  مغربی لبرل ڈایورسٹی  اور ان لایٹن منٹ کی روشنی میں تنقید کرنا ،اور اپنے   عمل کو اوپن ماینڈنس کہنا اور ماننا  ،جبکہ خود عیسائی دنیا میں اس بابت تحقیق پر اختلاف پایا جاتا  ہے اور کچھ اہل  کلیسا بھی اس بابت اپنی تحقیقات کے مطابق  الگ موقف رکھتے ہیں، ایک علمی گستاخی اور بدمعاشی ہی تسلیم کی جاسکتی ہے جبکہ یہ کرسمسی  تحفہ حقیقت میں  قدیم عیسائی فکر کی جگہ  رومن  کلیسا اور رومن قدیم خداوں کی باقیات  ہیں بےجا پر اصرار کرنا سنگین علمی خیانت کے ماسوا اورکیا ہے

۔

بدعات و رسومات کا مقام نبی اکرمؐ اور صحابہ کرام کے نزدیک:

اس موضوع پر قران حکیم کی روشنی میں  آگے چل کر محاکمہ کیا جائیگا ،ذیل میں واضح کیا جائیگا کہ نبی اکرمؐ اور آپکے تربیت یافتہ صحابہ کرام کے اعمال اور افکار کی مخالفت میں کیا جانے والا ہر وہ عمل جو دین کے نام پر کیا جائے یا جس سے دین کی جوہریت اور فکر اسلامی پر ضرب پڑتی ہو انسان کو گناہ گار اور کفر تک ترقی دلواسکتا ہے۔

سیدنا عوف بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ؐ نے فرمایا ہے کہ:

جس شخص نے کسی بدعت کا اجرا کیا جسے اللہ اور اسکے رسول پسند نہیں کرتے ہیں،تو اس بدعت پر عمل کرنے والے کا گناہ اس شخص پر ہوگا،اور یہ لوگوں کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہیں کریگا

[ترمذی:۲۶۷۷:کتاب العلم]

سیدنا انس بن مالکؓ نے فرمایا :

ہمارے آقاؐ نے فرمایا ہے کہ:جس نے میری سنت سے بے رغبتی  اختیار کی وہ مجھ سے نہیں ہے(متعلقہ جملہ:سنتی فلیس منی:بخاری :مسلم:کتب النکاح)۔

سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ :

تم لوگ جن چیزوں کو بال کے برابر باریک جانتے ہو(یعنی انھیں کوئی اہمیت نہیں دیتے ہو) ہم انھیں دورِ رسالت میں ہلاکت میں ڈالنے والا تصور کیا کرتے تھے۔

[بخاری:۶۴۹۲۔۔احمد]

 

سیدنا عمرو بن شیعبؒ اپنی سند اپنے دادا عبداللہ بن عمراؓ پر ختم کرتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ:

''جس نے مذاہبِ غیر کے ساتھ تَشَبُّہ اختیار کیا وہ ہم میں سے نہیں ، یہودونصاریٰ سے مشابہت اختیار نہ کرو، کیونکہ یہود کا سلام انگلیوں سے اشارہ کرناہے اور نصاریٰ کا سلام ہتھیلیوں سے اشارہ کرنا ہے۔

( معجم اوسط:۷۳۷۶سنن ترمذی: 2695 :حسن لغیرہ)''۔

یہ پوری بحث اس امر کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ اسلام اپنے پیروکاروں کو غیر اقوام کی مشابھت اختیار کرنے ،ان میں گھلنے ملنے سے منع کرتا ہے،اور یہ امر تمام اسلامی معتبر فقہ میں متفقہ و اجماعی مسلہ جانا جاتا  ہے،جبھی ہمارے ایک طلبہ تنظیمی ،پی۔ایچ ڈی کے اسکالر کا فیس بک پر یہ  کہنا کہ علما کی باتوں نے بڑا کنفیوشن پیدا کردیا ہے غلط ہے،اس امر پر اسلامی فقہ جات کا اجمع ہے کہ مسلم شھری و امتی اقوام غیر کے تہوار منا نہیں سکتا ہے،نا ان میں شرکت و مبارک باد کی خیر سگالی کی اجازت رکھتا ہے کیونکہ بات عیسی ابن مریم نبی اللہ ،رسول اللہ کی نہیں چل رہی ہے بات یہاں ابن اللہ،یسوع مسیح ،عین رب بلوجود مسیح کی چل رہی ہے ،جبکہ اسلام شرکت ذات و صفات فی ربویت کا سخت مخالف ہے اور اللہ کے ساتھ سب سے بڑا ظلم قرار دیتا ہے،اور اللہ پر ظلم کرنے والا کیا مسلمان کہلاسکتا ہے؟

 

چناچہ امیر المومنین عمرؓنے فرمایا ہے کہ:

 

 

عجمیوں کا اسلوب اور لہجے مت سیکھو،مشرکین کے ہاں انکے گرجوں میں عید کے روز مت جایا کرو،کیونکہ ان پر اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے۔

[امام ابن تیمیہ الحرانیؒ:اقتضا صراط المستقیم]

 امام ابن قیم الجوزیہؒ نے  سوال کہ کافروں کو مشرکانہ تہوار  پر مبارک باد رینے کے سوال پر فرمایا ہے کہ:

یہ تو عین ایسی مبارک باد ہے کہ مسلمان اسے صلیب کو سجدہ کرنے پر مبارک باد پیش کرے،اور یہ گناہ شراب پینے اور بدکاری کرنے کی مبارک باد رینے سے زیادہ سنگین ہے۔

[امام ۔حافظ ابن قیم الجوزیہؒ:احکام اہل الذمہ:ج:۳:صہ:۲۱۱]

 چناچہ اس امر پر یعنی تشبہ فی الاقوام غیر پر اہل حدیث(محدثٰین کرام)سلف و خلف،اہل جعفریہ ،اہل ظواہر ،حنفیہ،مالکیہ ،شافعیہ اور حنابلہ کا اتفاق ہے کہ ،کسی مسلمان کا اقوام غیر سے تشبہ اختیار کرنا انکے تھوار منانا ،ان میں شرکت کرنا اور انکو مبارک باد دینا حرام و ممنوع ہے۔

[ابن نجیم حنفی:البحر الرایق:ج:۸۔صہ:۵۵۵۔۔شربینی :مغنی لمحتاج:ج:۴۔۔صہ:۱۹۱۔۔بھوتی:کشف القناع:ج:۳۔۔صہ:۱۳۱]

 یہ تو ٹھری مسلمانوں کی باہمی باتیں اتنا واضح کروں کہ دنیا کے کسی بھی مذہب کی قدیم ّرا اور اصل موقف کی رو سے دوسرے مذہب کی کوئی چیز خارج سے داخل کرنا جایز نہیں ہوتا ہے،چناچہ برطانوی دور میں شدھی اور سنگھٹن کی تحریکیں ،زیونیت کا فلسطینیوں کا قتال لبرل سرمایہ دارانہ ریاستوں کا اپنے تمدن کے منکریں پر حملہ ،انکو بشر کی تعریف سے خارج ایلین اور بروٹل سیویج کی تعریف میں شامل کرکے قتل کرنا ، خارجی امریکیوں کا سرخ چینیوں کی نسل کشی کرنا اور یورپی اقوام کا بہ حیثیت مجموعی ایشیا و افریقہ و آسٹریلیا  کی اقوام کی  نسل کشی کرنا  اور انکی جگہ اپنی قوم کی آبادکاری کرنا اس امر کے بین ثبوت ہیں کہ ایلین اور نیٹو،وی اینڈ دے  کے تصورات لبرل سیکولرازم سے لیکر ٹریڈیشنل ،فنڈا مینٹالسٹ تک انیس بیس کے فرق کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔

 

وجودِ باری تعالی سے متعلقہ ایک بحث:

ڈاکٹر پولی دادا کے مطابق:

’’ سامی مذاہب  یہ وہ مذاہب ہوتے  ہیں جو ابراہیمی تعلیمات پر اعقاد رکھتے ہیں،اور اسکا سلسلہ ابراہیم ؑ سے ہوتا ہوا محمد ؐ کے کامل اور اکمل پیغام تک جاکر منتج ہوتا دکھتا ہے‘‘۔

یعنی یہودیت ،عیسائیت اور اسلام تینوں کے جد اعلی ابراہیمؑ تسلیم کئے جاتے ہیں،دوسری بات ان تینوں ادیان کی ابتدا و جوہر ایک واحد بالاتر لاشریک ِ غیر ایک واحد خدا اور حقیقت میں پنہاں ملتی ہے،جسے یہودی الوہیم،عیسائی گاڈ اور مسلمان اللہ کہتے ہیں،یہ الگ بات ہے نا یہودی کبھی کامل شرک سے پاک خدا کے پیروکار رہے ہیں اور نا عیسائیوں میں کبھی ایک کامل بلا شرکت غیر خدا کا عملی تصور انکے علم کلام کی رو سے جڑیں پکڑ سکا ہے۔دین اسلام وہ واحد دین ہے جسکے اصول دین میں اللہ کل اور حتمی اقتدار اعلی کا مالک اور رازق نظر آتا ہے[2]۔بقول سورہ اخلاص اللہ بے نیاز ہے،نا اس نے کسی کو جنا ہےاور نا کسی نے اسکو جنا ہے۔اللہ کے دو اسم الاول و الآخر اللہ کو کائینات کی اصل ،ابتدا،جوہر،حقیقت ۔وجود قایم بلذات قرار دیتے ہیں۔

یعنی جب کوئی وجود و معبود اس سے قبل  نہیں تھا تب صرف وہی صاحبِ ارادہ و تدبیر و قوت خلق کا مالک، یکتا رب اپنی مابعد  تخیلقات سے قبل  موجود تھا،اسکی مخلوقات اسکے کن کہنے سے وجود میں آئی تھیں  ، اور اس نے یہ کل عالم و مخلوق لاشی سے تخلیق کیا ہے۔اور جب سب کچھ تباہ و برباد ہوجائیگا،قیامت اجائیگی،گریٹ آرمیڈا گیڈون کا معرکہ اختتام پذیر ہوگا،جب عظیم کال آئیگا،کل یگ کا تاریخی دایرہ  اختتام پذیر ہوجائیگا  تو صرف اسکا وجود ہی قایم ہوگا  بطور صفت الاآخر وہی باقی رہ جائیگا ،پھر وہ سب کو زندہ کرکے انکے اعمال کے مطابق مخلوقات کو جنت و دوزخ یا اعراف میں ٹھرائیگا،کیونکہ اسکے علاوہ کوئی  حتمی اور الٹیمیٹ الاخر وجود  موجود نہیں  ہے  اور نا ہوگا،اسکے سوا ہر وجود حادث الوجود ہے،یعنی کسی  دوسری شہ سے مابعد ظھور میں آیا ہے یعنی کسی دوسرے وجود سے نکلا ہے۔

 چناچہ مادی و غیر مادی،حئی اور غیر حئی مخلوقات کے نفوس کی ابتدا و خلق کی تاریخ کی ابتدا بھی اس ایک واحد ،ظاہر ،حاضر لاشریک  وجودِ ابری تعالی سے شروع ہوتی ہے اور انکی تخلیق و موت کا اختتام بھی اس  الآخر پر ہی  ہوتا محسوس ہوتا  ہے۔مذہب اسلام کی رو سے سب سے بڑا گناہ شرک ہے،اللہ کی ذات،صفات،میں شرک ہو یا اسکی بیوی،اولاد ،ماں باپ اور رشتہ دار قرار دئے جائیں،اللہ کا عین و مثل کوئی وجود اصول و فروع میں اسکے سوا سرے سے کہیں  موجود ہی نہیں ہے،کل مخلوقات بلواسطہ یا بلا واسطہ اسکی غیر ہیں،غیر اللہ سے مراد اسکے ماسوا  کل حئی اور غیر حئی مخلوقات لی جاتی ہیں،جنکی حیات و ممات سب اسکے وجود کے دم پر قایم ہیں یعنی اللہ ہی کائینات کا نور(جوہر،روح) ہے،بدیع السموات والارض یعنی کل آسمانوں اور ذمین اور انکے مابین کل مخلوقات کی تخلیق کرنے والا ہے،کائیناتی مخلوقات اور نظام کے جز وکل کو جاننے والا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے کہ:

 

اللہ نور السموات والارض:اللہ آسمانوں و ذمین کا نور ہے[الرحمن:۶]

 

وہ صاف کہتا ہے کہ اسکی کوئی بیوی ہی نہیں تو اولاد کہاں ہوگی اور وہی سب کچھ خلق کرنے والا ہے چناچہ اللہ فرماتا ہے کہ:

 

بدیع السموات وا الارض۔انی یکون لہ ولد ولم تکن لہ صاحبۃ:

وہی آسمانوں اور ذمین کو پیدا کرنے والا ہے، اسکی اولاد کیسے ہوگی جبکہ اسکی کوئی زوجہ ہی سرے سے نہیں ہے[الانعام:۱۰۱]۔

 

یہ کائینات اللہ نے اپنی عبادت کے لئے پیدا کی ہے اسے نا کسی یسوع مسیح ؑ (عیسیؑ)کے لئے خلق کیا گیا ہے اور نا اسےانکے سوا کسی بھی نبی،رسول مخلوق کےلئے تخلیق کیا گیا ہے،یسوع مسیح کو عین رب اللہ،ابن اللہ یا مریمؑ کو اللہ کی زوجہ ماننا یا کفارکا ملائکہ کو اللہ کی بیٹٰیاں ماننا(الزخرف:۱۹)،یا جن و انس کی کسی قسم کا اللہ کے امور غیب سے واقف ہونا شرعی نصوص کے خلاف بحث و دعوی  ہے یہ الگ بات ہے کچھ شیطان صفت دماغ علم کلام کی مھارت اور چرب زبانی سے ان امور کو اپنی من پسند شخصیات پر منطبق کردیتے ہیں۔

چناچہ ان آیات سے ان سب حضرات کا رد ہوتا ہے جو اللہ کے قول کے خلاف کوئی تاویل کرکے کسی غیر اللہ کو رب قرار دیتے پھرتے  ہیں، جنکے ذکر و فکر،تبلیغی اجتماعات ان ہی موضوع و ضعیف قصص سے لبریز  نظر آتے ہیں ، یہ بات یہاں دھیان میں رکھی جائے کہ موضوع کی مناسبت اور نفس مضمون کی جوہریت کی رو سے کل مخلوقات ہی اللہ کی ذات و وجود  کے غیر ہوتی ہیں،اس میں عامی خاصی،نیک و بد ،امیر و غریب،کالے وگورے حیوان و انسان ،نبی و غیر نبی کی کوئی تخصیص نہیں ہوتی ہے چناچہ نفس خلق میں اسکی کل مخلوقات  اسکے تابع و متبوع ہوتی ہیں ،لہذا اللہ کے مثل اس عالم خالق میں کوئی اور سرے سے  وجود حقیقی و اصلی موجود ہی  نہیں ہے،جو کچھ ہیں بس مخلوقات ہیں  چناچہ جب ان غیر اللہ سے مراد مانگنے والوں کو جب  انکی  علمی فرو گزاشتوں اور علمی کوتاہیوں ہر ٹوکا جائے تو یہ  اپنے متاخرین و اکابرین کی کتب و بیانات سے اپنی  دعوے کو بطور ثبوت  سنبھالتے نظر آتے ہیں ، ویسے بھی  یہ تصور صاف سامی المذاہب ادیان کی فکری علت و روح کے برخلاف ہے۔ مزید براں اللہ کو انسان جیسا مجبور و لاچار انسانی ذرایع اور اشیا کا محتاج تصور کرنے جیسا فاسد و جعلی موقف ہے،اور قیاس ربوبیت کے خلاف ہے،ان معنوں میں کسی غیر اللہ کی یاد میں کسی برتھ ڈے منانے کی نفی ہوتی ہے،بلخصوص جبکہ وہ غیر اللہ صریح ابن اللہ قرار دیا جائے اور اسکی یاد سے کوئی دن منسوب و مخصوص قرار دیا جائے،اور جبکہ اس طرح کے دنوں کے منانے کا جواز دور رسالت،دور صحابہ کرام،تابعین و تبع تابیعن تک سے ثابت نا ہوتا ہو۔

چناچہ مسلمانوں میں جو حضرات نبی اکرمؐ کو وجہ کائینات سمجھتے ہیں وہ بھی درحقیقت درون خانہ عیسائیت سے متاثر نظر آتے ہیں،یا نبی اکرمؐ کو ابن اللہ قرار دئے بغیر آپؐ سے ابن اللہ والے مراسم ،مراتب ،فکری مغالطات وابستہ کرتے دکھتے ہیں  کیونکہ ایک تو یہ موقف خود نبی اکرمؐ سے ثابت شدہ صحیح متصل،مرفوع ثابت شدہ احادیث کے خلاف ہے،نبی اکرمؐ جیسا عظیم الشان انسان شاید ہی کوئی پیدا ہوا ہوگا،آپؐ خاتم النبوت ہیں عیسیؑ جب دوبارہ نازل ہونگے تو  وہ بھی آپؐ کی شریعت پر عامل ہونگے،صلیب و خنزیر کو تباہ و برباد فرمائینگے،توحید کا جھنڈا بلند کرینگے،مگر ہمارے یہی نبی خود کو صاف اللہ کا بندہ،عبد ،عبداللہ ،عبدالمنیب اور غلام قرار دیا کرتے تھے(الجن:۱۹۔۔سبا:۹۔۔العلق:۱۰)۔

لہذا ہم جو نبی اکرمؐ کے غلام و تابع دار  ہیں ہم سب بھی تہذیبی و فکری ذاویہ نگاہ سے  بلذات بس عبداللہ ہی ہیں اور عبداللہ کسی غیر اللہ اور ابن اللہ سے فکری طور پر جب کمپرمایز و مفاہمت کرہی نہیں سکتا ہے تو اس وجود سے وابستہ فکر سے منسوب دن کیسے منا سکتا ہےـ چناچہ اللہ صاف  فرماتا ہے کہ نبی اکرمؐ سے عیسیؑ تک سب اسکے عبد تھے،اسکی بشری نبوی مخلوق  تھےاسکی عبادت کرنے والے اطاعت گزار تھے ناکہ ان میں سے کوئی اسکے بیٹے یا ابن اللہ  ہوا کرتے تھے ،نا ان انبیا کرام کا اس طرح کا کوئی دعوی تھا جیسا کہ انکے متبعین ،مقلدین اور بچاری دعوے کرتے پھرتے ہیں،ہم سب ان انبیا کرام کی اطاعت انکے اللہ کے سفیر،پیامبر اور رسول ہونے کے سبب کرتے ہیں ناکہ انکے نفوس کو ابن اللہ اور عترت اللہ ہونے کے سبب کرتے نظر آتے ہیں اللہ اور اسکے انبیا کرام نے کبھی انسانوں کے بنائے گئے ضابطوں اور رسوم و رواج کو تسلیم نہیں کیا ہے،کیونکہ مذہبی دایرہ کار میں رسوم و ثقافت کے تمام پیمانے قران و سنتہ سے ثابت ہوتے ہیں بدعات کی نفی تغلیط کرتے نظر آتے ہیں

۔

قران و سند کی روشنی میں بحث کا جایزہ: 

لہذا کرسمس کی فکر والے کرسمس منائیں ، یہ انکا ذاتی عقیدہ و فعل ہے مگر مسلمان اس عمل ،تقریب اور مفاہمت میں انکے نصور دین،رسوم و رواج سے کسی قسم کی حلال فکری مفاہمت نہیں  کرسکتے ہیں ،کیونکہ اسلام ایک  واحد معبود  کی اطاعت اور ہر قسم کے  شریکوں کی نفی کا دین ہے،جو کلمہ طیبہ کے معاہدے سے بندھن توڑے گا وہ اپنے رب اور اپنے رسول اور جمیع انبیا کرام کے تصور دین پیغام دین کی نفی کے سبب سنگین غداری کا مرتکب ہوگا اور کفر کی حدود میں داخل ہوجائیگا،اب جس کے لئے کفر بس ظاہری انکار کے ماسوا کچھ نہیں ہے،اور اللہ ،بنی اکرم اور عیسیؑ کے احکامات ،کارل مارکس،اینجلز،ہیوم،کانٹ اور ہیومن ریٹس ڈیکلیرشن سے زاید کچھ نہیں ہیں،یا انکی نظر میں انکے مقابل ہیں  تو اسکی حریت اس سے تقاضہ و مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اسلام کے ماسوا کہیں اور جاکر فکری پناہ  ڈھونڈھ لے،کیونکہ یہ فریم ورک نا رومن کیتھولک چرچ کو قابلِ  قبول ہے اور نا پروٹسنٹ ازم کو قبول ہے اور نا ہی قدامتی یہودیت کو قبول ہے ،یہ بس ہندوازم اور لبرلازم کے ماننے والوں کے فریم ورک میں ہی  اذلی بو قلمونی نما متنوع ڈایورسٹی کے سبب قابل قبول ہے، لہذا جو لوگ انسان کو اللہ کا عبد ماننا توہین جانتے ہیں وہ ذرا خود کے یسوع مسیح کی سن لیں واضح رہے یہاں پوری بحث سے عیسائی افراد سرے سے خطاب میں شامل نہیں  ہیں ،وہ اپنے فکری دایرہ،مذہب،کلچر،تمدن،اور  اپنے مذہبی شرعی فریم ورک کی رو سے آزاد ہیں۔ یہاں ہمارا مقصود ومطلوب مسلمان ہوکر غیروں کے ہمنوا بننے والے خود ساختہ اعتدال پسند ،متنوع الثقافت موقف کے حامل افراد مراد ہیں ،بشرطیکہ وہ قران و سنتہ کو کسی نا کسی شکل و ہیت میں مانتے یا تسلیم کرتے ہوں،ان میں مسلمان کہلانے کی کچھ نا کچھ استعداد و اہلیت موجود ہونا چاہئے اوروہ اس ضمن میں  خود کو بزعم خویش  اقلیت نا سمجھتے ہوں چناچہ  وہ سن لیں کہ عیسیؑ خود فرماتے ہیں کہ:

انی عبداللہِ (قف ط) اتٰنی الکِتب و جعلنی نبیاً

اس نے کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں ،مجھے کتاب دی گئی ہے اور ساتھ نبی بنایا گیا ہے[مریم:۳۰]

اللہ  یہاں صاٖف یسوع مسیح کے تصور کی نفی کرتا ہے اور فرماتا ہے وہ تو ہمارے بس بندے تھے جیسا کہ ذیل کی آیت سے واضح ہوتا ہے:

 

لن یستکف المسیح ان یکون عبداللہ[النسا:۱۷۲]

 

مذکورہ بالا  اس  آیت میں صاف بیان ہے کہ ہم نے مسیح کو بس اپنا بندہ اور عبد بنایا ہے،اسی طرح مسلمانوں میں اہل بدعات میں دین کو مذاق تصور کرتے ہوئے خود کو نیا غیر قرار کردہ نبی جانکر(مطلب دعوی تو نا کرتے ہوں مگر باطنی مدعا و مقصد بھت حد تک نتایج کی رو سے وہی ہو) نبی اکرمؐ سے وہ باتیں منسوب کردیتے ہیں جنکی نفی آپکی کل تعلیمات،حیات و سیرت کرتی نظر آتی ہے  بلکہ ایسی باتیں اور امور قبیحہ  کل قران و اسلامی جوہر کے خلاف ہوتی  ہیں، چناچہ نبی اکرم ؐ کو وجہ کائینات  قرار دینے کے مسلہ جس سے کچھ ہیپی کرسمس،ہیپی برتھ ڈے اور بارہ ربیع اول منانے والے حجت پکڑتے ہیں   کو کوئی معقول سند اور مذہبی دلیل ،مرفوع بسلند صحیح حدیث،قولی فعلی  بمع موقوف و مرسل  دور  صحابہ و تابعین سے پیش کرنی چاہئے، جنکو محدثین کے محقق لوگوں کے ہاں مقبولیت حاصل ہو۔

یہاں ہیپی کرسمس والوں کے لئے دلیل کے بازار میں  کچھ بھی  محقق موجود  نہیں ہے کیونکہ عیسائی عیسیؑ کو وجہ کائینات ابن اللہ قرار دیتے ہیں جبھی قیاس کرکے موضوع بدلنا علمی طور پر ناجایز عمل تصور ہوگا ۔ جبکہ اہل اسلام میں سے جو لوگ  حجت پکڑنے والے کیوں فراموش کرتے ہیں کہ    جمیع کبار محدثین نے اس بابت حدیث، لولاک کو ایک موضوع  خود ساختہ ثواب سجھ کر گھڑی گئی جھوٹی الا اصل روایت اور گپ قرار دیا ہے چناچہ فقہ حنفی کے مایہ ناز محدث و فقیہ ملا علی قاریؒ نے اپنی جھوٹی بازاری اور موضوع روایات کے مجموعہ روایت بنام : موضوعاتِ کبیر میں اسکو نقل کرکے اسکا رد کیا ہے باقی قدیم محدثین میں تو اسکا موضوع ہونا معروف بات  سمجھی جاتی ہے،بلکہ اسکی عربی تک کو غلط قرار دیا گیا ہے،اسی طرح کے الحاقات برناباس کی انجیل میں  بھی ڈھونڈھنے کو مل جاتے ہیں۔

چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ روایتِ  لولاک
لولاک لما خلقت الافلاک:اگر تم نا ہوتے تو میں یہ کائینات تخلیق نا کرتا

ثابت نہیں ہے اسے امام صنعانیؒ نے موضوعات،امام ابن جوزیؒ نے اپنی موضوعات،ملا علی قاریؒ نے موضوعات کبیر،علامہ ناصر الدین البانیؒ نے سلسلہ موضوعات ضعیفہ میں موضوع قرار دیا ہے۔ناقدوں کا کہنا ہے موضوع و ضعیف  روایتوں سے لبریز امام دیلمیؒ کی کتاب ’’کتاب ا لفردوس‘‘ میں بھی اس قسم کے الفاظ نہیں ملتے ہیں اسی طرح ابن عساکرؒ کی تاریخ دمشق  میں موجود متعلقہ روایت کو  بھی امام بن جوزیؒ و امام سیوطی ؒنے موضوع قرار دیا ہے۔

 

امام صنعانی ؒ :کتاب الاحادیث الموضوعۃ: ص :۵۲ :رقم: ۷۸ ۔۔۔ علامہ عجلونیؒ : کشف الخفا:۲/۱۶۴۔۔۔ امام شوکانیؒ : الفوائد المجموعہ فی الاحادیث الموضوعۃ: ۳۲۶: میں ذکر کیا ہے۔

 

 چناچہ ہمارے نزدیک ملا علی قاریؒ کا یہ کہنا کہ حدیث کا معنی موضوع ہونے کے باوجود  صحیح ہے اور اس کی تائید کے لئے دیلمی کی روایت اور ابنِ عساکرؒ کی روایت لولاک ما خلقت الدنیا پیش کرنا حقیقت کے خلاف امر ہے،اول یہ بات ہے مصنف عبدالرزاق سے حدیث جابرؓ جیسی ضعیف حدیث سے استدلال کرکے معنی درست قرار دینا ،دیلمی وغیرہ کی طرف کنایتہ اسکی اصل ماننا ایک سنگین علمی ،جسارت ہے، ضعیف  ضعیف اور کمزور ہوتی ہے اور حسن و صحیح  نفس قبولیت میں حجت ،مقبول و حجت  ہوتی ہیں یوں دلیل صحیح ہوتی ہے، مذید یہ کہ یہ روایت منکر المتن بھی  ہے،اس مین صحیح روایت ،حدیث کے محقق متون کا انکار پایا جاتا ہے ،قران کی نفی ابھرتی نظر آتی ہے،ادیان باطلہ کی شخصیت پرست تصوریت سے تشبہ ملتا پایا جاتا ہے،جبھی قران کی آیات اور اصح روایات سے نکر کے سبب روایت مجروح  تصور ہوگی ۔اپنے عقیدہ کے اثبات کے لئے موضوعات کو ضعف تک لاکر دلیل لینا جھوٹ کو سچ قرار دینا ہے،دین سچ کا نام ہے اسے جھوٹ سے محکم و مستحکم نہیں کیا جاسکتا ہے،جبھی اہل بدعتہ کا ضعیف راویوں کو کھینچ کھانچ کر صحیح بنانا یا انکے اجھال کو غیر مضر قرار دیکر سوال کرنے والوں کو بے وقوف بنانا،حاکم کی قرار کردہ صحیح کو جو اکثر موضوع و ضعیف ہوتی ہیں کو انکی شرط پر امام ذہبیؒ کی تائید کے بغیر نقل کرنا مسلمانوں کو بدعات پر جری بنانا ہے۔


کیونکہ یہ روایات تب تائید میں پیش کی جا سکتی تھیں جب یہ پایہ ثبوت کو پہنچتیں؟ جبکہ بلا شک و شبہ یہ روایات بھی ثابت نہیں ہےاس سے  قیاسی استدلال بھی فاسد ہے۔ ابن عساکر والی روایت کو سیو طیؒ اور ابن الجوزی ؒنے موضوع قرار دیا ہے۔ اسی طرح دیلمی والی روایت کو بھی علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔نیز یہ بات بھی سراسر غلط ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث لے سکتے ہیں ۔


حق تو یہ ہے کہ ضعیف حدیث نہ اعمال میں چل سکتی ہے اور نہ فضائل اعمال میں ۔


حافظ ابن حجرؒ نے بڑی واضاحت سے  کہا ہے کہ:


ولا فرق في العمل بالحديث في الأحكام، أو في الفضائل، إذ الكل شرع


اورحدیث پر عمل کرنے کے سلسلے میں احکام اور فضائل میں کوئی تفریق نہیں کی جائے گی کیونکہ احکام اور فضائل یہ دونوں ہی شریعت ہیں۔

[ابن حجر عسقلانیؒ:تبین العجب:صہ:۲]

 

چناچہ عمل کو فصل اور فضل کو عمل قرار دیکر مغالطہ پیدا کرنا کوئی اچھا عمل نہیں  ہے ،کیونکہ فضایل سے ماد اس عمل کی طرف لانا ہے جو خود نفس ِ امر کی رو سے محقق نا ہو بس اتبع،تقلید ،تصوف اور شخصیت پرستی سے مجبور ہوکر انکی پیروی کی جاتی رہی ہو،  چناچہ یہ دعوی بلذات خود  علمی سقم شدہ ضد کے ماسوا اور کیا ہے؟

 

اسکا رد ذیل کی آیت سے بھی ہوتا نظر آتا ہے جس میں اللہ صاف عموم میں کل بنی نوع انسان کو کسی شرط سے مشروط کئے بغیر  مباحثی کل میں سمیٹ کر کہتا ہے کہ:

 

وما خلقت الجن والانس الا لِیعبدون:ہم نے جن و انس اپنی عبادت کے لئے پیدا کئے ہیں[الذاریات:۵۶]۔

 

یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ مسلمانوں میں یہ بدعت ابو المظفر حاکم اردبیل نے چھٹی صدی ہجری میں رایج کی تھی،اس بابت احسن الفتاوی میں مفتی رشید احمد لدھیانویؒ کی تحقیق دیکھی جاسکتی ہے،جس میں انھونے اس کی اس بدعت کی تاریخ اور اسکا رد کیا ہے،واضح رہے کہ پاکستان و ہندوستان کے دیوبندی احناف میں مولانا رشید لدھیانویؒ کو بڑا خاص مقام حاصل ہے،وہ جامعہ الرشید کے بڑے اساتذہ اور کئی علما کے استاد مانے جاتے ہیں  چناچہ انھونے جایزہ لیاہے کہ ۔شروع صدی میں اس نئی رسم کا نا  کوئی مداح تھا اور نا ہی اسکا کوئی ماننے جاننے والا تھا اسکی مخالفت خود  اسکے  دور میں شروع ہوگئی تھی،جیسے جیسے مسلمانوں پر زوال آتا گیا،تحقیقات کی جگہ رسومات کا اتبع ہی دین سمجھا جانے لگا ،اور انکے  لئے سلانہ نشستوں،ذکروں اور تقریبات کا چلن عام ہونے لگا جسکی دلیل شروع دور کے سلف اور انکی خلف میں  موجود نہیں تو ویسے ویسے یہ عماتہ الناس اور  کمزور و موضوع روایات کے مداح ذاکر نما علما میں عقیدہ کا درجہ حاصل کرتی رہی،مگر اتنا سب کا ہی اتفاق ہے کہ بارہ ربیع اول منانا ایک بدعت تو تسلیم کی جاسکتی ہے مگر کفر نہیں کہلاسکتی ہے۔

 

کیونکہ نبی اکرمؐ کو نا کوئی ابن اللہ مانتا ہے اور نا نبی اکرمؐ نے ایسا  کوئی دعوی کیا تھا اور نا یہ بیانیہ قران و سنت سے ثابت ہے چناچہ ،اس دن کو منانا فنی و محدثانہ رو سے ثابت نہیں ہے،پھر اس دن کو منانے والے افراد کی خرافات،جدیدیت ،نت نئے طریقہ دیکھ کر بھی کوئی ان سے پوچھے گا تو وہی یہی کہے گا نبی اکرمؐ ہمارے صاحب شریعت آخری نبی ہیں ،سب کو نبی اکرمؐ کے وجود کے ہونے کا تاریخی و مذہبی یقین بھی ہے مگر کوئی آپکے ابن اللہ ہونے، بنا ماں باپ کے پیدا ہونے کا قایل  نظر نہیں آتا  ہے،حد یہ کہ ایسا یہود و نصاری میں سے بھی کوئی قایل نہیں ہے جبکہ الٹا،کتب تواریخ اس پر متفق ملتی ہیں بلکہ ملحدین و اسلام دشمن بھی جانتے ہیں کہ محمدِ مکہ یا محمد آف مکہ سے مراد  کون ہیں انکی تاریخ پیدایش کی بابت کون کون سے تاریخیں بیان کی گئی ہیں،وہ کہاں پیدا ہوئے تھے،انکی ریاست،صحابہ،زوجائیں اور نسل میں کون کون شامل تھے۔

نبی اکرمؐ اور حیات عیسیؑ کے تقابلہ پر ایک بحث:

 

  جب ہم نبی اکرمؐ کی بلسند محقق حیاتِ طیبہ کا مقابلہ عیسیؑ کی سیرت ،کردار و افکار سے تحقیق کے تناظر میں کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ ادھر صاف عیسیؑ کی بابت کوئی بلسند روایت موجود نہیں ملتی  ہے،اناجیل انکی سیرت طیبہ و فرمودات کا ایک ریکارڈ ضرور  ہیں مگر،انکو نقل کرنے والے نا انکے صحابہ کرام تھے اور نا کوئی ان سے بلمشافہ ملاقات کرنے والا تھا، مرقس،یوحنا،متی اور لوقا کوئی انکے صحابہ میں شامل افراد ،راوی و مشاہد کار نہیں یوں انکی روایات منقطع مراسیل کا درجہ رکھتی ہیں  ، جبکہ عیسیؑ کے حواریوں میں سے ایک انکی طرف  منسوب کردہ نمایاں فرد موجودہ عیسائی افکار کے تناظر میں پیٹر و پطرس تھا جو اسکے اصل بانی   سینٹ پال کی یونانی علم کلامیت کے موقف کے سخت تاقد تھا، برناباس نے پال کا تثلیثی موقف یونانی باقیات کا نتیجہ قرار دیکر رد کردیا تھا ،جبکہ جدید پوسٹ ماڈرن دبستان فکر کے محققین،فلاسفہ اور اکثر محققین کی رو سے یسوع مسیح ایک گھڑے گئے  اساطیری کردار کے ماسوا کچھ نہیں ہے۔

لیوی اسٹراس  جو علم بشریات کا عالم فاصل  اور پوسٹ ماڈرن فلسفہ کا بڑ نام ہے نے اس ضمن میں کافی گفتگو کی ہے،وہ اسے میٹا فکشنول متھ یا اساطیری کردار گردانتے ہیں چوہدری غلام رسول چیمہ صاحب نے بھی اپنی ضخیم کتاب ادیان عالم کے تقابلی مطالعہ میں اسکا ذکر کیا ہے۔خیر ہم انکے اس موقف میں سرے سے انکے ساتھ نہیں ہیں،ہم عیسیؑ کو بلوجود رسول مانتے ہیں ،انکی آمد نو کے بھی معتقد ہیں،کیونکہ یہ ہمارے علمیاتی علمی دھانچہ کے دایرہ کار سے ثابت شدہ امر  ہے ،مگر انکار مغرب کے بڑے ناموں سے جنکے مسلم کرسمی مداح و معتقد ہیں سے ثابت ہے  ہم ،مگر  یہاں اتنا ضرور عرض کرنا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے تصور عیسیؑ اور مریمؑ اور جبرائیل ؑ اور عیسائیوں اور یہودیوں کے تصور عیسیؑ میں ذمین آسمان کا فرق ہے اسلام عیسیؑ کو عیسیؑ ابن مریم جانتا ہے جو بن باپ کے کنواری ماں سے پیدا ہوئے اور وہ نا تین کی اقنوم میں شامل ہیں اور نا ہی یسوع مسیح،ابن اللہ ہیں اور نا ہی یہودیوں کے قرار کردہ دجال مسیح(اینٹی کرایسٹ:نعوذٌ باللہ) ہیں۔

چناچہ اسلامی تصور توحید اور عیسائی تصور تری مورتی،تثلیث ایک دوسرے کے عین ضد  تصورات و عقاید ہیں جیسے زرتشتی تصورِ کی رو سے نیکی و بدی کے دو خدا باہم متصادم اور متضاد خد ہوتے ہیں  اور ان دونوں  یعنی اہور مژدا اور اہرمن کے درمیان مسلسل اضدادی تصادم جاری رہتا ہے،اور جیسے مارکس اور اینجلز،طبقاتی کشمکش،اضداد کے تصادم،بورژوا اور پرولتاری معاشرت و کلاس کے تصادم کے موئید و معتقد تھے، عین ایسے اسلام اور عیسائیت ایک دوسری کی ضد ہیں،اسلام سرے سے یسوع مسیح اور عیسی ابن الوہیم اور گاڈ کی فکر،تصور لاجیک کا منکر ہے بلکہ وہ عیسی ابن مریم ابن عمران ابن ابن آدم کی لاجیک و ریزننگ کا قایل اور عامل ہے(التوبہ:۳۰)،اس تناظر میں ابن خداوند قدوس کی مقرر کردہ تاریخِ پیدایش کو منانا اور اس کو تسلیم کرنا اور اس عقیدہ کے عامل،مداح اور معتقدین کو مبارک باد دینا اسلام کی نفی و تخریب کرنے کے برابر ہے،بلکہ بقول خود اللہ رب العالمیں عین کفر ہے جیساکہ وہ کہتا ہے کہ:

 

لقد کفر الذین قالو آ ان اللہ ھوا  المسیح ابن مریم قل فمن یمللک من اللہ شیاً ان اراد ان یھللک المسیح ابن مریم:

 

تحقیق ان لوگوں نے کفر کی بات کی جھنونے عیسی ابن مریم کو الہ جانا

[المایدہ:۴۶] ۔

 

بلکہ اگر غور کیا جائے تو اللہ آیت کے آخری الفاظوں میں یہ معنی بیان کرتا دکھتا ہے کیوں نا کہدیا کہ اللہ کی ہی ملکیت و حکومت میں سب کچھ شامل  ہے اور وہ جب چاہے عیسی ابن مریمؑ کو ہلاک کرسکتا ہے( قرانی مفہوم)۔اس بات سے بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ مسیح کی الوہیت کو ماننا اور انکی الوہیت کی تائید کرنا اور ایسے موقف کو سراہنا اور اس پر ستایش پیش کرنا مبارک پیش کرنا ہمارے جیسے کسی جاہل یا عالم فاضل مولوی،ملا کا گھڑا کردہ مسلہ نہیں ہے۔

 

 بلکہ اللہ صاف الفاظ میں خود ایسوں کو کفر کرنے والا کافر کہہ رہا ہے،کیونکہ ایسے امور کا قایل جہموری عدد کی فروعات  ،قارئین،مداح،معتقد،مصنف ،حاکم وقت حکومت،عالمی برادری اور میڈیا کو ناراض نہیں کرنا چاہ رہا ہے مگر اپنے اللہ،اپنے رب اپنے خالق و مالک اور اپنے نبی آخر الزماں کی تغلیط کرنے کو فخر ،نمود و نمایش کا ذریعہ بنارہا ہے۔اگر وہ عیسائی ،ہندو،یہودی بن کر ایسے کمپرومایز کرسکتا ہے تو اسکو کھلی دعوت ہے کہ  اپنے زعم شدہ عقادی کی پیروی دل خوش کرنے کو کرتا پھرے مگر اللہ کے دین میں رہ کر اسکے شرعی دایرے کے پرخچے اڑا کر خود کے کفر کا منکر ہونا علمی و اقداری غداری کے ماسوا کچھ ہے وہ  تو ثابت کردے۔

 

اب آتے ہیں ان جہلا کے موقف کی طرف جو عیسیؑ کی کرسمس کو نبی اکرمؐ کی رسالت سے تشبیہہ دیتے ہوئے آپکی برتھ ڈے منانے کے قایل ہیں اور دلیل میں دور کی کوڑی لاتے ہیں اور ایسی کوڑی جو اس سے قبل صدیوں کسی کو سوجھی نہیں ہے، مگر اکیسویں صدی کے ماڈرن مسلمان پنڈتوں کو سوجھی ہے۔

 

وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے قران میں عیسیؑ کی پیدائیش کی تمحید کی ہے آپ پر سلام بھیجا ہے(سورہ مریم)،اول تو جان لینا چاہئے کہ سلام کسی مقام استقرار پر سلامتی و سکون سے رہنے کا نام ہے(دیکھو:المایدہ:۱۶۔۔یونس:۲۵۔۔الانعام:۱۲۷۔۔االحجر:۴۶)،اس سے یہ مراد ہے کہ تم اپنی جگہ سلامت و سکون سے رہو زندہ ہو تو اسلام علیکم کہلوانے اور باہمی سلام کہنے کے اسلامی شعار کے پابند رہو اگر وفات شدہ ہو تو اپنے مردوں کو اسلام علیکم یا اہلیان قبور کہو یعنی اے مردوں جب تک میدان حشر نہیں جمتا ،جب تک تمہارا بعد از قیامت حساب کتاب نہیں ہوتا اپنی قبروں یا برزخ کے مقاموں میں  سلامتی سے رہو۔یہاں کہیں بھی یہ مراد نہیں  ہےکہ ان سب کی ترتیب وار سالگرہ منائی جاتی رہے اور سال کے تین سو پینسٹھ دن بس چھٹیوں کی نظر کردئے جائیں۔

 دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے پیارے و معظم قران کریم نے قران میں صرف عیسیؑ پر سلام  بھیجا  نقل نہیں کیا  ہے، ب؛لہ اس ی قران حکیم میں  اللہ تعالی بہت سے انبیا کرام پر سلام بھیجا ہے،نبی اکرمؐ پر سلام بھیجنے کا بھی حکم دیا ہے،مگر اس سے ہیپی برتھ ڈے کا جواز کسی کو بھی سلف و خلف میں سوجھا نہیں ہے۔

 

چناچہ ذیل میں ہم قران حکیم سے اس ضمن میں کچھ مثالی آیاتِ مبارکہ پیش کرتے ہیں تاکہ بات نکھر کر سامنے آئے:

 

جیسے ابراہیمؑ  پر سلام(ھود:۶۹)،جنتیوں کو سلام(الرعد:۲۴)،نیک لوگوں کو فرشتوں کا سلام(النحل:۳۲)،یحییٰؑ کو سلام(مریم:۱۵)،نوحؑ پر سلام(الصفت:۷۹)،موسیؑ و ہارونؑ کو سلام(الصفت:۱۲۰)،روز حشر مومنوں کو اللہ کا سلام(الاحزاب:۴۴) وغیرہ۔

 

اب ذرا سورہ مریم کی اس آیت کو دیکھتے ہیں جسکو لبرل موم بتی مافیا سے ٹافیوں کی شیرنی چکھنے والوں تک  کو اپنا مدعا ثابت ہوتا دکھتا ہے،اتنا تو مثالی آیات سے ثابت ہوگیا ہے کہ سلامتی ایک خاص زماں(ٹایم) تک اس میں موجود مکان(اسپیس) میں وجود وجود  کے استقرار و سکون کی حالت و کیفیت کا نام ہے،اور اللہ نے لاتعداد لوگوں انبیا کرام  حد یہ کہ جھنمیوں پر بھی اپنے مقام پر ٹکنے کی سلامتی ظاہر کی ہے (الحجر:۴۶) چناچہ ان کی اشارہ کردہ آیت سے  عیسیؑ پر سلامتی یا سالگرہ مبارک کا جواز کیسے ثابت ہوگا؟،کیونکہ اتنا تو آیات سے  ثابت  ہے کہ جس ڈسکورس اور بیانیہ کو اہل تثلیث سالگرہ مبارک یسوع مسیح ہونے ،ابن اللہ ہونے کے سبب منا رہے ہیں اور جیسا انکا عقیدہ و دعوی ہے،ویسا دعوی مسلمان ہونے کے دعوے دار حضرات لبرل لوگوں جنکے ریاستی شناختی کارڈوں میں انکا اور انکے باپوں کا مذہب اسلام لکھا ہے،جنکے سیاست دانوں کے شناختی کارڈز ،ووٹر لسٹ،اسمبلی کے حلف ناموں تک انکو خود کو اقلیتوں کے ماسوا خود کو مسلمان ظاہر کرنا ہوگا کہ شرعی علمیاتی فریم ورک ہی انکے دعوں و عقیدوں کی نفی اور ان سے بے زاری ظاہر کررہا ہے ۔

تو وہ کس علمی دایرے سے اپنے موقف میں دم پیدا کرینگے ؟،یہاں کون سے میٹا فزکس(مابعد الطبیعات) فوری طور پر کنسٹرکٹ (تعمیر و قایم )کرینگے؟ یہ تو واضح امر ہے کہ  قران تو سورہ مایدہ کی آیت تین میں دین اسلام کی کاملیت کا اعلان کرچکا ہے اور صرف اسلام کو واحد دین کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلامیہ جاری کرچکا ہے،ایک کلمہ طیبہ کا ملتی پیروکار اب کیا قران وحدیث کو کرسمس منانے والوں کو خوش کرنے کے لئے رد کردیگا؟ اور خود کو اوپن مائینڈڈ نیوٹرل ریشنل فرد ثابت کرتا پھرے گا ،کیا نبی اکرمؐ کا بیانیہ ،پیغام،نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ کے لئے تیار ہونا فراموش کردیا جائیگا؟

کیا ریاستی مذہب میں دفعہ چھ کی رو سے اسکی تنسیخ کو سنگین غداری قرار نہیں دیا گیا ہے،؟ اگر دیا گیا ہے اور اگر تمام قانوں سازوں،اراکینِ مقنن کا یہ مابعد الطبیعاتی اعتقاد موثر و عملی صرف تحریری آئین ہونے اور ریاستی بالاتر فریم ورک ہونے کے سبب تسلیم کیا جارہا ہے اور اسکا انکار عظیم گناہ اور ریاستی ایمانیات کے کفر یعنی  غداری کے برابر سمجھا جارہا ہے تو کیا اقتدار اعلی کے مالک جسکا ذکر قرار دار مقاصد میں کیا گیا ہے کے احکامات اور اصول دین کی نفی کیسے ممکن ہوسکتی ہے؟یہ تضاد در تضاد پاکستانی آئین،قانوں،حکومت کے وجود کا کیا جواز قایم کرتے نظر آتے ہیں؟

 

یہ باتیں فلسفہ آئین و قانوں کا جوہر ہیں اب ذرا اصل بحث کی طرف پھر پلٹتے ہیں کہ سورہ مریم کی آیت کسی سالگرہ منانے کا حکم دیتی نظر آتی ہے یا سرے سے سالگرہ منانے کے سبب کی نفی کرتی نظر آتی ہے اور کیا مسلم کرسمس سیلیبریشن کے موقف کے پرخچے اڑاتی نظر آتی ہے: اب ذرا مداحِ تصور دل تھام کر جگر جام کرکے آیت مبارکہ کے معنی و مفہوم پر غور کریں:چناچہ اللہ رب العزت عیسی ابن مریمؑ اور انکی والدہ محترمہ کے جامع ذکر کے اس موقف ،نیریٹو کی تخریب یا ڈسٹرکشن کرتا نظر آتا ہے اورصاف اپنے علاوہ کسی غیر مخلوق کو قبول کرنے سے صاف انکار کرتا دکھتا ہے۔

چناچہ اللہ رب العالمیں فرماتا ہے کہ:

والسلام علی یوم ولدت و یوم اموت ویوم ابعث حیاً:

سلام جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اور جس دن زندہ اٹھائے جاینگے[مریم:۳۳]

 

یہاں اول تو دن کو یوم المبارکہ نہیں کہا گیا ہے ،بلکہ دن کو سلام کیا گیا  ہے جو اللہ کی مخلوق ہے یا دوسری صورت میں اللہ خود صاحب عصر و زمانہ  ہے،یوں اللہ خود پر سلام بیج رہا کے اس نے کیسا مبارک روز قایم کیا؟،اگر دویم الفکر سے دلیل لی جائے تو اول الذکر ایک کلامی بحث کے ماسوا کچھ نہیں رہے گی چناچہ  عین جیسے عیسیؑ اللہ کی مخلوق اور کلمہ جانے جاتے  ہیں ایسے ہی دیگر انبیا کرام بھی اس مبارکہ تخیلق  میں شاملِ حال ہیں ،دوسرا اس سورۃ کی کل آیات مریمؑ کو کنواری قرار دیتی ہیں، اور اللہ کی مخلوق بنی اسرائیل کے قبایل  میں سے نسل عمران سے انکا تعلق  قرار دیتی نظر آتی  ہیں،  قران مجید و حمید ،یسوع کو اپنا بندہ قرار دیتا ہے،صاف کہتا ہے کہ وہ سرے سے فوت ہوئے ہی  نہیں ہیں بلکہ ابھی انکو واپس رجعت اختیار کرنا ہے اور پھر طبیعی زندگی گزار کر اس دنیا میں  انکی وفات واقع ہوگی۔ جبکہ مسلمانوں کے برخلاف عیسائیت کا عقیدہ  یہ ہے کہ صلیب پر مسیح  چڑھے تھے ناکہ کوئی اور فرد انکی جگہ مصلوب ہوا تھا ۔

جبکہ ان کے برخلاف  قران و حدیث کے مطابق  جو شخص مصلوب ہوا تھا وہ سرے سے مسیح تھا ہی نہیں ،  بلکہ  وہ  فرد یا ڈاکو ،یا کچھ روایات کی رو سے انکا مرتد حواری نما فرد  تھا جو انکی جگہ  مصلوب ہوا تھا ،جب کہ مسیح ؑ ہمارے نزدیک سرے سے  مصلوب ہوئے ہی  نہیں تو مرنا  انکا ثابت ہی نہیں ہیں،اور جب مرے ہی نہیں ہیں  تو عیسائی موقف کے برخلاف تیسرے دن کیسے اپنی قبر سے نکل کر حواریوں سے ملاقات کرسکتے ہیں،لہذا مسلم کرسمس پسندوں کے لفظی مبادیات خالی ڈھول ثابت ہوتی ہے،چناچہ جب وہ مصلوب ہی نہیں ہوئے ہیں تو انھونے باپ خداوند قدوس کی نگاہ میں کیسے نسل آدم کے گناہوں کے کفارے کے لئے قربانی پیش کردی ہےِ،ہم نسل آدم کے اذلی گناہ اور اسکے گناہ کے تسلسل میں انکی نسل کے توارث سے گناہ گار ہونے کے صاف  منکر ہیں،یوں ہماری رو سے آگسٹاینی تصور و عقیدہ رد ہوتا ہے،اس تسلسل سے کل عیسائی فکر اور اسلام ایک دوسرے کے مقابل کھڑٰی نظر آتی ہے،یہود و نصاری کے کچھ محققین،مستشرقین کی رو سے عیسائیت یہودیت کی فرع اور اسکا فرقہ ہے ،کچھ اسے مرتد فرقہ قرار دیتے ہیں اور عین ایسے کچھ اسلام کو عیسائیت کا مرتد فرع شدہ فرقہ گردانتے ہیں،اس ضمن میں بحیرا راہب و نسطوری راہب کے منقطع الروایت،ضعیف قصص سے نبی اکرمؐ کی ان سے تلمیذیت ظاہر کی جاتی ہے،چناچہ اسلام اور عیسائیت ایک دوسرے کی ضد ہیں ان میں جھاں اتفاق ہے وہ کافی کم ہے بلکہ  اختلاف زیادہ ہے  اور انکے ذیل مخالفت ہی مخالفت کارفرما ہے،اس ضمن میں امام ابن تیمیہؒ،امام ابن حزمؒ کی املل و النحل،ابو القاہر بغدادیؒ کی ملل و النحل،مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کی کتب متعلقہ کی طرف رجوع کیا جائے تو عمدہ ہوگا۔۔

زمانہ قدیم کے توحیدیوں کا حال:

 

جب وہ مصلوب ہوئے ہی نہیں ہیں تو کیسے سینٹ آگسٹاین کے اذلی گناہ کا موقف و عقیدہ ثابت ہوسکتا ہے،جسکی رو سے آدمؑ نے جو جنت میں حکم عدولی کا گناہ( اسے ہم گناہ نہیں کہتے خطا جان سکتے ہیں یا سہو کہ سکتے ہیں )  بقول مسیح حضرات کیا تھا اس سبب  نسلِ انسانی عیسائی مذہب کی رو سے  اذلی گناہ گار ہے ،جسکا وہ اپنے باپ آدم ؑ کے سبب وارث ہوگیا ہے،چناچہ یسوع مسیح کی ابنیت کا منکر مسلمان انکی رو سے کافر،و بدعتی سمجھا جاتا ہے۔ چناچہ مابعد آگسٹاین نے عیسائی دنیا میں مسیحی پیری فقیری،کلیسائی ،نوکری شاہی کے ادارے پر استوار راہبانیت کی جو راہ دکھائی اس نے شادی کو گناہ بنا کر رکھ دیا تھا۔جبکہ اسلام اذلی گناہ کے فلسفہ کا سرے سے منکر ہے ،راہبانیت کا منکر ہے،نکاح کا حامی ہے۔

 

اسلام،قران و حدیث کا جوہری موقف سرے سے ہی یسوع ابن اللہ کے کفارے میں مصلوب ہونے کا منکر ہے جبکہ کرسمس منانے والے اسکے موئید و معتقد ہیں۔

 

کرسمس والوں کا یسوع مقدس  باپ خداوند قدوس کی فرع ہے ،اسکے صلب سے ہے،جبکہ قران اللہ کے سوا نا کسی رب کو تسلیم کرتا ہے اور نا اسکی رشتہ داریاں،بیویاں،اولادیں،ماں اور باپ کے وجود تسلیم کرتا نظر آتا ہے،وہ آیت محولہ بالا میں صاف بیان کر رہا ہے کل نفس ذایقۃ الموت میں تمام اہل حیات بمع  یسوع مسیح بھی شامل ہیں ،یعنی وہ عین اللہ کی طرح حئی تو سرے سے ہیں ہی نہیں بلکہ ان پر بھی موت طاری ہوگی اور جس پر موت طاری ہو وہ ابن اللہ یا عین اللہ بمثل اللہ ہو ہی نہیں  سکتا ہے،جبھی اس آیت سے جوازِ کرسمس  اسلامی جوہری فکر کی رو سے فاسد  بطور دلیل  ثابت ہوتا ہے

 

عیسیؑ کی بابت قدیم سلف و خلف کا موقف:

 

اب یہ دیکھنا ہے کہ کیا سرے سے شروع دور کے عیسائی اس فادر اور سن کے موقف کے قایل تھے،تو ہم بتادیں یہاں ہمارا عیسائیوں سے یہاں نا کوئی براہ راست  سرے سے نا کوئی مکالمہ ہے اور نا ان پر  کوئی نقد  کا ارادہ ہے، یہ تحریر سرے سے عیسائیوں کے لئے ہے ہی نہیں ہے، چناچہ وہ کرسمس منائیں کیک کاٹیں باہم ایک دوسرے کو مبارک باد دیں ،ہمارا ان سے کچھ لینا دینا نہیں ہے بلکہ یہاں اسلامی فریم ورک یا شرعی اصول دین کے نصوص شریعہ ،ضابطوں اور اصولوں کی رو سے مسلمان کہلا کر کرسمس منانے والوں کا محاکمہ کرنا مقصود ہے۔ کیونکہ اول تو انکا اصرار ہے کہ وہ مسلمان ہیں،اب ظاہر ہے مسلمان کا وجود ی فکری ڈھانچہ ایک خاص مابعد الطبیعاتی ایمانیات کا پیروکار ہوتا ہے وہ ان سے کچھ خاص ایمانیات و اعتقادات کی اطاعت و تابعداری اور انکے تسلیم کرنے کا مطالبہ و تقاضہ کرتا نظر آتا ہے،مسلمانوں کے راسخ العقیدہ فرقوں کا اجماعی موقف ہے کہ اصول ِ دین میں تقلید نہیں ہوتی ہے اور عقاید اصول دین کی بنا و انتہا ہوتے ہیں،اور شرک کا انکار،بدعات سے پرہیز انکا رد ،اور توحید پر اصرار ایک اصولی یا عقیدتی مسلہ ہوتا ہے،جبھی یہ چوں چوں کا مربہ خواہش نفس کے اسیر یہاں بیک وقت اسلام اور غیر اسلام دونوں سے نسبت اور تعلق کرتے نظر آرہے ہیں۔ اور یہ فراموش کردیتے ہیں کہ کوئی بھی بیوی اور اولاد اپنے خاوند اور باپ کے علاوہ کسی دوسرے سے اپنا تعلق قایم نہیں کرسکتے ہیں کوئی بھی شھری بیک وقت دو مخالف ریاستوں کا شھری ہوکر وفادار نہیں رہ سکتا ہے۔

 

اب ذرا ان مسلمانوں کو دکھائیں کہ شروع دور کی عیسائیت جو خود کو عیسائیت نہیں کہتی تھی بلکہ یہودیوں سے تعلق رکھتی دکھتی تھی،اور قسطنطین کی نکایا کانفرنس ۳۲۵ کے قیام تک  عیسائی دنیا میں موحدینِ خام و پختہ ایک خدا کو ماننے والے یونیٹیرین عیسائی بڑی تعداد میں موجود تھے،مگر سلطنت کی بقا،اس میں اتحاد پیدا کرنے کے لئے،غالب ترین تعداد کے کفار  مظاہر پرستوں کے ساتھ عقایدی مفاہمت کی گئی اور اس ضمن میں بطور مقامی خواہش کہ  اول عیسائیت کو بطور دین مان لیا گیا پھر ایتھانیسس کے موقف کو جو تثلیث پر مبنی مقامی تحریک یافتہ موقف تھا مان لیا گیا،کیونکہ رومن و یونانی مظاہر پرستی ،دیوتا پرستی سے مناسبت رکھتی تھی،جبکہ قسطنطین اور اسکی ماں جو تثلیثی عیسائیت کے رومن کیتھولک ،پالین موقف کو ریاستی ترجیح دلوانے والے تھے وہ بذات ِ خود اسکے قایل نہیں تھے ، بلکہ انکا عیسائیت قبول کرنا بھی تحقیق کا محتاج ہے ہاں قسطنطین کی ماں کی باببت یہ پڑھا گیا ہے کہ وہ یونیٹی آف گاڈ  پر یقین رکھتی تھی (واللہ علم )مگر رومن ایمپایر جو بیرونی قبایل کے حملوں سے  ویسے ہی تباہ  حال ہورہی تھی میں اتحاد کے لئے یونانی اور رومن اساطیری روایات سے متاثر عیسائیت کو علم کلام کی رو سے ریاستی سطح پر مان لیا گیا تاکہ مقامی خداوں اور تثلیث پرمبنی عیسائی خداوں میں فکری مفاہمت ممکن ہوسکے۔

خود مسلمانوں میں بھی کفر و شرک کی بحثوں کو اسلامی لبادے میں چھپا کر اپنانے کا چلن عام  ہوچکا ہے ، تصوف اس بابت اپنی طریقیت سے شریعت کو گہنانے لگا ہے،امت کی عظیم تعداد بمع علمائے کرام اس کے اسیر نظر آتے ہیں،ایسے مسلمان صاف خود سے بدعات ،کفر و شرک کی نفی دور از کار تاویلوں کے کھیل تماشوں کے ذریعہ کرتے نظر آتے ہیں انکا یہ چلن عوام میں  عام ہے،وہ کہتے ہیں قران میں صرف بتوں سے کفر منسوب کرنے کا ذکر ملتا ہے ہمارے بابا،پیر،فقیر امام اور انکی تعظیم میں مبالغہ اور کفار سے انکی مشابہت وہابیوں کا تعصب پر مبنی کھیل تماشہ ہے،مگر  انکا شک پر مبنی موقف پر اصرار اور حزم و احتیاط سے دوری نے دین کا بیڑ اغرق کرکے رکھ دیا ہے،یہیں سے مذہبی لبرلازم کی جڑیں پھیلنے لگتی ہیں،اور لبرل مافیا پھر دین کو ذاتی اطھار رائے کی ست رنگی  دنیا جانکر کرسمس منانے لگتی ہے،جیسس اور محمدؐ کے برتھ ڈے ،باباوں ،اماموں کے دنوں سے منسوب تہوار منانے لگی ہے یوں اس فکری دنیا میں کرسمس اور  عدم کرسمس  منانے کے منظر نامے کو بس میٹر آف چوایس تصور کرکے دلیری دکھانے لگتی ہے،چناچہ ماضی کے  اس دور کے ایشیائی اور افریقی کلیسا کی بڑی تعداد ایک اور واحد خدا کی  کسی نا کسی روپ میں یہودیت کی مانند قایل تھی چناچہ نکایا کانفرنس کے ارد گرد  ایریس اور ایتھنایسس کا فکری تصادم درحقیقت  واحد و ثلث  خداوں پر ایمان کے فکری تصادم کی داستان نظر آتی  ہے۔

 

 ہم دیکھتے ہیں کہ شروع دور کے لوگ خدا کو واحد مانا کرتے تھے،اور کل بنی نوع انسان کو اللہ اور خدا کی عیال اور مجازی اولاد قرار دیتے تھے ،مگر مابعد صدیوں کے ارتقا اور زوال نے ایک اور واحد خد کے تصور  کو تین حصوں میں تقسیم کردیا تھا ،عین ہندو تثلیث اور مصری دیومالائی تثلیث کی طرح قدیم اقوام سے آج تک مختلیف  اعداد میں حصر مختلیف گروہوں اور نسلوں سے لوگ قلبی و اعتقادی وابستگیاں رکھتے نظر آتے ہیں،ایک دو،تین چار پانچ،اور بارہ  کے اعداد اور ان سے منسوب شخصیت پرستی  کی اساطیری داستانوں سے انسایکلو پیڈیاز بھرے نظر آتے ہیں ،خود مسلمانوں میں بھی ہمیں خلفا اربعہ ، پنجتن پاک ،آیمہ اثںا عشرہ جیسے اعداد پر مبنی شخصیت پرستی کی بنیادیں ڈھونڈھنے سے مل جاتی ہیں بلخصوص اساطیری قاموسیں ایسے معاملات کی معلومات  فراہم کرتی ملتی ہیں ،چناچہ ۹۰ عیسویں یا اے ۔ڈی تک شیپرڈ آف ہرماس کی کتاب کو عیسائیت میں اہم مقام حاصل تھا اس میں موجود اثنا عشرہ احکامات  کی بحث میں صاف لکھا تھا کہ:

 

First of believe that god is one ,and that he created all things and organized them and out of that didn’t exist and made all things to be ,and he contains all things .but alone is himself uncontained.

]E,J.Good speed.The  apostolic Fathers.1950:with reference to twelve Commandment and Shepherd Of Hermes.[

 

تھیوڈور ذہن عیسائیت کی تاریخ اور عقاید کا ایک بڑا محقق ہے وہ لکھتا ہے کہ:

 

 شروع شروع میں یہ عقیدہ معروف تھا کہ میں خداوند ،قادر مطلق پر یقین رکھتا ہوں ۲۵۰ تک کچھ کتب میں یہ الفاظ موجود تھے مگر اس دورن تحریف اور اضافوں کا ثبوت ملتا ہے چناچہ ۱۸۰ تا ۲۱۰ کے دوران کتب میں قادر مطلق یعنی آلمائیٹی سے قبل باپ(فادر) کا اضافہ کردیا گیا جس پر کافی شور و شرابا اور معرکہ آرائی شور ہوئی خود کلیسا میں پادری وکٹر اور زیفی سیوس نے اس قسم کی حرکات و سکنات کی سخت مخالفت کی، انھونے کتب سماویہ(انکے خیال کی رو سے) اور مذہبی کتب میں ترمیم و تخفیف اور الحاقات کی سخت مخالفت کی اور اسے دین میں تبدیلی گردانا گیا ،اور انکی جانب سے جیسِس یا مسیح کی الوہیت سازی(ڈیواینیٹی) کی سرگرمیوں کا ناپسند کیا گیا،اور خدا کو یسوع مسیح کی حقیقی اور قدیم تعلیمات کے مطابق بلا شرکت غیرے ایک ماننے پر اصرار کیا گیا، انھونے یہ جواباً    بتایا  بتایا ہے کہ وہ(مسیح) برحال بس ایک انسان  ہی تھا مگر جو ساتھ میں ایک نبی بھی تھے ،عین ایسا موقف ایشیا اور افریقہ کے کوئی کلیساوں کا بھی تھا۔

[Theodore Zahn .The articles Of apostles’ creed.1899.pp:33-37,40]

 

یہ بحث کافی وسیع ہوچکی ہے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا ہوں ماسوا اسکے اگر ان آخری حوالوں کو بھی مسلم کرسمسی دیکھ لیں تو انکا مبارک باد تاریخی اہلیت بھی کھو دیگا۔

 

( نوٹ:یہ تحریر مکالمہ ڈاٹ کام کے لئے تحریر کی گئی تھی مگر بد قسمتی سے انھونے اسے شایع نہیں کیا،جبکہ مسلم کرسمس منانے  والوں ،متعہ  کے حمایتیوں کے موقف کو انھونے اپنے صفحات میں جگہ دی،لہذا اب اس مقالہ کو   کتابچہ کی صورت میں شایع کیا جارہا ہے)۔

 

 

 

 

 

 



[1] AD

[2] واضح رہے کہ مسلمانوں میں بھی اللہ کی ذات و صفات اور توحید کی بابت بھت سے مشرکانہ پہلو علمی بنیادوں پر ڈھونڈے جانا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔معج